تمنا کا دوسرا قدم
وقت اور نا وقت کے مابین کتنا فاصلہ کتنا خلا کتنی گھنیری خامشی ہے جاننے کی کوششوں میں آنکھ کی اور دل کی اجلی آنکھ کی بینائیاں کم پڑ گئی ہیں سوچتا ہوں سوچ کا کوئی پرندہ بھیج کر اس حد لاحد کا کوئی اندازہ کر لوں خود سے کہتا ہوں تجھے معلوم ہے یہ کام سوچوں کے پرندوں کا نہیں تخیل کا ہے جو پرندہ غیب کی اس جھیل کا ہے جس میں سب نادیدہ گاں کے عکس بنتے رقص کرتے ہیں انہی نادیدہ گاں میں وقت اور ناوقت کے مابین کا وہ فاصلہ اور وہ خلا اور وہ گھنیری خامشی بھی ہو تو کیا معلوم بہتے عکس ان کے طائر تخیل کے شہپرے سے لپٹے ساتھ آجائیں یہ گہرے بھید میرے ہاتھ آجائیں