چاہے جانے کی آرزو
وہاں نادیدہ منظر کی بہت ویران آنکھیں تھیں ڈھلانی پھول کھلتے تھے مگر حیرت کی بارش کو ترستے، سوکھ جاتے تھے ہوا کا لمس، بادل کی نگہ کافی نہیں ہوتی کبھی چڑیوں کی بوندیں گر پڑیں تو منظروں کی سوکھتی آنکھوں نے رنگوں کا ذخیرہ کر لیا چشم تماشا کون لائے گا کسی کی آنکھ میں آئے بنا ہوتے چلے جانا بڑی بھاری اذیت ہے (ذرا پہلے یہ اُس مخفی خزانے نے بھی سوچا تھا!) عَصا تھامے وہاں کچھ آفتابی ٹوپیاں آئیں زمیں کی خوردبینی کی ..... تو پھر آنکھوں کی بارش تھی نگاہوں کی گھنی آبادیاں اتریں اَزل سے اَن دکھے منظر نظر تک بھرتے جاتے تھے! مری آنکھوں کے منظر کون دیکھے گا کہ میں نے بھی نظر آنے کی خواہش میں دفینے کھول ڈالے ہیں!!