ہائبرنیشن
میں صدیوں سے تنہا گھٹن میں گندھے حبس تاریک میں سانس روکے پڑا ہوں بدن کے غلیظ اور سیلن زدہ بل میں بے حس و حرکت نم آلود مٹی میں لتھڑا ہوا ہوں نہ جانے میں زندہ ہوں اک تنگ و تاریک مسکن میں ساکن مرے سرد سینے میں آدھا تنفس نہ پتلی میں حرکت نہ آنکھیں ہی روشن! بدن کے اسی غار میں نیم مردہ مری ذات ہے لمبے عرصے کی قیدی! بدن میں جونہی سانس رکنے لگے میں سسکتے سسکتے ان آنکھوں کے روزن تک آتا ہوں اور ڈرتی ڈرتی نگاہوں سے چوگرد پھیلا سماں دیکھتا ہوں نہیں۔۔۔ بل سے باہر کا موسم ابھی سازگاری پہ مائل نہیں ہے ابھی ایسا سورج جہاں کے اُفق پر نمودار ہونا ہے جو میری پسلی میں کرنوں کا نیزہ چبھو کر کہے اٹھ کھڑا ہو!