شہزاد نیر

شہزاد نیر

ٹھہری ہوئی ساعت

    مرے دِل کے کناروں سے تمھاری رُوح کی اُونچی منڈیروں تک کئی دُنیائیں آتی ہیں منڈیریں ، جن پہ خوابوں کے حسین پنچھی اُترتے ہیں خدائی گیت گاتے ہیں سنہری رنگ سے ارض و سما کی سب حدوں سے دُور چمکیلی، نئی دُنیا بساتے ہیں! تمہاری آنکھ کی کرنیں مکاں و لا مکاں کے درمیاں ٹھہری ہوئی ساعت کے پہلو جگمگاتی ہیں وہ ساعت جو معلق ہے ہمارے درمیاں جس کی رُوپہلی روشنی سے دیدہ و دِل نور پاتے ہیں! یہ دُنیائیں ہمارے درمیاں ٹھہری ہوئی ہیں یوں گزر جائیں کہ ہم دامن پہ اِن کی گرد بھی پڑنے نہ دیں، آگے نکل جائیں!!