نشہ
طلوعِ زماں سے غروبِ مکان تک حکومت ہے غم کی، لگاتار نَم کی اَبد تاب صحرا کا پھیلاؤ دُکھ ہے سَراب ایک سُکھ ہے محبت بھی غم،اس کی غایت بھی غم دِل پرستو، خوشی کی نہایت بھی غم ! کبھی آبشارطرب نے بدن کو بھگویا خوشی چہچہاتے ہوئے دِل تک آئی بہاؤ بہانےلگا تو اچانک بدن ٹوٹنے لگ پڑا اک ضرورت کی کلیاں چٹکنے لگیں اُسی آن دِل نے کہا : کوئی دکھ..... کوئی آنسو طرب کے دُھندلکے ہٹاتا ہوا کوئی غم آنکھ میں آن چمکے اَندھیرے گراتا ہوا ! غم کے نشّے کی بڑھتی طلب دِل کی ویران و تارِیک گلیاں کوئی دَر کُشادہ ہوا اِک بھلائے ہوئے غم کا زَہراب جلتی رگوں میں اترتے ہی ٹوٹا بدن پھر سے جڑنے لگا غم مسیحا مرا..... !