تین اور تین سو
عورتیں ! رقص کرتی ہوئی عورتیں ! رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی تیز سازوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے دم بہ دم ، خم پہ خم محو ِنغمہ سماعت لرزتی ہوئی گھومتے ، جھومتے ، زاویے ، دائرے ، قوس بنتے بدن رقص کے ایک اک بھاؤ کا درد ِ تخلیق سہتی ہوئی عورتیں آدمی ! تین جسموں کو تکتے ہوئے تین سو زر بکف آدمی ! ساری آنکھیں ان آنکھوں میں ہیں جو فقط زر کے منظر میں ہیں رقص دو رُخ پہ چلنے لگا تال بٹنے لگی کوئی دل کے ، کوئی زر کے ٹھیکے پہ تھا ناچتے ، مست ہوتے ہوئے آدمی ! عورتیں ! منتظر عورتیں رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی ہجر بستر پہ پہلو بدلتے ہوئے کرب ِتنہائی سہتی ہوئی عورتیں ! تین سو عورتیں۔۔۔