سال گرہ کے دِن
میری چھتری پہ رنگلے کبوتر اُترنے لگے کس نزاکت سے وہ مہرباں اُنگلیاں رقص کرتے ہوئے خم سے نیچے گئیں دِل کے تصویر خانے سے اِک نقش اُوپر کیا ساتھ حرفوں کی مالا پروئی بھلی خواہشوں میں لپیٹا دُعاؤں کے شہپر دیے اور رُخصت کیا ساز بجتے رہے اور قاصد کبوتر اُترتے رہے! میں نے بھی دِل کا صندوق کھولا جوابی دُعاؤں کو سیدھی قطار وں میں رکھا بہ صد شکریہ سرخ فیتہ لگایا بس اِک مخملیں سا دباؤ کئی سمت میں دُور و نزدیک کی منزلوں کو کبوتر اُڑائے سبھی برق پر سب کو اپنے ٹھکانے کا اِدراک تھا ایک پل میں گئے میری خوشیوں کو پر لگ گئے! کاش اتنی حسین مہرباں اُنگلیوں میں وہ دو نرم پوریں بھی ہوتیں!!