خرم آفاق

 خرم آفاق

برا منایا تھا ہرآہٹ ہر سرگوشی کا

    برا منایا تھا ہرآہٹ ہر سرگوشی کا سوچو کتنا دھیان رکھا اس نے خاموشی کا تم اس کا نقصان بتاتی اچھی لگتی ہو ورنہ ہم کو شوق نہیں ہے سگریٹ نوشی کا دونوں میں ہی گرد و پیش کی خبر نہیں رہتی عشق سے کتنا ملتا ہے عالم بے ہوشی کا دھیان ہٹاتے ہی وہ اوجھل ہو گیا آنکھوں سے جیسے موقع ڈھونڈ رہا تھا وہ رو پوشی کا دیکھ نہ لیں اُس شخص کے سارے چاہنے والوں کو خرم کاروبار نہ کر لیں پھول فروشی کا