خرم آفاق

 خرم آفاق

دریا کے پاس دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا

    دریا کے پاس دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اس کو اداس دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا کل رات صرف تیرگی پہنے ہوئے تھا اک بدن ایسا لباس دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا کیوں اس کی عرض مان لی میں نے کہے سنے بنا کیوں التماس دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا جتنے حسین ہونٹ تھے اتنا بہانہ عام سا یعنی مٹھاس دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا کچھ اپنے عام ہونے کا پہلے سے رنج تھا مجھے کچھ اس کو خاص دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا