کسی شرط پر ترے دھیان سے نہیں جاؤں گا
-
کسی شرط پر ترے دھیان سے نہیں جاؤں گا میں کہیں بھی اپنے مکان سے نہیں جاؤں گا ذرا دھیان سے مرے ذائقے کا چناؤ کر مجھے چکھ لیا تو زبان سے نہیں جاؤں گا بڑے کج ادا ہیں یہ اقتدار کے راستے مجھے لگ رہا ہے میں شان سے نہیں جاؤں گا ترا ماتھا چومے بغیر آیا ہوں جنگ پر یہ اشارہ ہے کہ میں جان سے نہیں جاؤں گا مرا رب سدا مری جیب یونہی بھری رکھے میں کبھی تمہاری دکان سے نہیں جاؤں گا