خرم آفاق

 خرم آفاق

جہاں بھی جائیں کوئی قدردان آگے ہے

    جہاں بھی جائیں کوئی قدردان آگے ہے سبھی زبانوں سے اردو زبان آگے ہے زمین اگرچہ خزانے لٹاتی رہتی ہے زمین سے بھی مرا میزبان آگے ہے کیا نہ کیجئے یوں تبصرے محبت پر کہ اِس میں آپ سے سارا جہان آگے ہے ہزار عذر ہمارے بھی پاس ہیں لیکن ترا بہانہ تری داستان آگے ہے اگر کہیں اسے شائستگی دکھانی پڑے تو اس ہنر میں بھی وہ بد زبان آگے ہے