خرم آفاق

 خرم آفاق

تجھ سے ناراض تجھی سے خوش تھا

    تجھ سے ناراض تجھی سے خوش تھا جو ملا تھا میں اُسی سے خوش تھا بعد میں جا اُسے احساس ہوا پہلے پہلے وہ سبھی سے خوش تھا یوں اسے میری خوشی زہر لگی جیسے میں اور کسی سے خوش تھا تیز چلتی ہوئی سڑکوں پہ کوئی اپنی آہستہ روی سے خوش تھا کھڑکیاں اور طرف کھلتی تھیں گھر کسی اور گلی سے خوش تھا