بستیوں کے شور سے میلوں پرے بستا نہ ہو
-
بستیوں کے شور سے میلوں پرے بستا نہ ہو وہ کسی خاموش جنگل کا کوئی رستہ نہ ہو میں تو دیوانہ ترے ٹوٹے ہوئے جملوں کا ہوں بات کرتے وقت مجھ سے اتنا برجستہ نہ ہو عشق پر اس بے وفا کی گفتگو سنتے ہوئے بارہا سوچا کہ اتنا بھی کوئی سستا نہ ہو تیرے جیسا خوبصورت کوئی مقتل میں کہاں مجھ کو شک ہے دستِ قاتل میں بھی گلدستہ نہ ہو اس طرح تیرا تعارف مجھ سے کرواتے ہیں لوگ جیسے تو مجھ سے براہ راست وابسطہ نہ ہو