باتوں پہ اعتبار اُسی وقت آگیا
-
باتوں پہ اعتبار اُسی وقت آگیا اُس کے کہے پہ پیار اُسی وقت آگیا مجھ کو دلاسہ دے کے بہت مطمئن تھا وہ جیسے مجھے قرار اُسی وقت آ گیا آنکھوں میں اس کو دیکھتے ہی آگئی چمک آواز میں نکھار اُسی وقت آ گیا اک زرد شاخ اس نے اٹھائی تھی ہاتھ میں اور موسم بہار اُسی وقت آ گیا وہ رعب حسن تھا کہ دھری رہ گئی انا لہجے میں انکسار اُسی وقت آگیا