خرم آفاق

 خرم آفاق

باتوں پہ اعتبار اُسی وقت آگیا

    باتوں پہ اعتبار اُسی وقت آگیا اُس کے کہے پہ پیار اُسی وقت آگیا مجھ کو دلاسہ دے کے بہت مطمئن تھا وہ جیسے مجھے قرار اُسی وقت آ گیا آنکھوں میں اس کو دیکھتے ہی آگئی چمک آواز میں نکھار اُسی وقت آ گیا اک زرد شاخ اس نے اٹھائی تھی ہاتھ میں اور موسم بہار اُسی وقت آ گیا وہ رعب حسن تھا کہ دھری رہ گئی انا لہجے میں انکسار اُسی وقت آگیا