عمیر نجمی

عمیر نجمی

کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹّھے ہوں گے

    کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹّھے ہوں گے آنکھ میں خواب تہہِ آب اکٹّھے ہوں گے جن کے دل جوڑتے اک عُمر بِتا دی مَیں نے جب مَروں گا تو وہ اَحباب اکٹّھے ہوں گے منتشِر کر کے زمانوں کو کھنگالا جائے تب کہیں جا کے مِرے خواب اکٹّھے ہوں گے غور سے تم مِرا چہرہ مِری آنکھیں دیکھو اک عدد دشت دُو تالاب ' اکٹّھے ہوں گے اُس کی تہہ سے کبھی دریافت کیا جاؤں گا مَیں جس سمُندر میں یہ سیلاب اکٹّھے ہوں گے