عمیر نجمی

عمیر نجمی

لگتا ہے، کر کے لمبا سفر، آ رہا ہوں میں

    لگتا ہے، کر کے لمبا سفر، آ رہا ہوں میں حالانکہ گھر سے سیدھا اِدھر آ رہا ہوں میں بس انتظار تھا کہ تجھے چھوڑ دے وہ شخص اب اس کا انتظار نہ کر۔۔ آ رہا ہوں میں یہ فائدہ ہے ، دیکھ! مجھ اندھے سے ربط کا تاریک راستہ ہے، مگر، آ رہا ہوں میں کرنے لگے ہیں جو نظر انداز، ان کی خیر اتنا تو طے ہوا کہ نظر آ رہا ہوں میں مجھ تک رسائی سہل نہیں ہے ، اِدھر نہ آ تو خود کہاں کھڑا ہے؟ ٹھہر! آ رہا ہوں میں ! ہر روز کیوں پگھل کے ٹپکتا ہوں آنکھ سے؟ کیسی تپش کے زیرِ اثر آ رہا ہوں میں؟ کچھ بھی یہاں نیا نہیں لگتا مجھے، عمیر ! شاید زمیں پہ بارِ دگر آ رہا ہوں میں