بندوق تانتے ہیں، ہدف دیکھتے ہیں، بس!
بندوق تانتے ہیں، ہدف دیکھتے ہیں، بس ! اپنا ہے بے ضرر سا شغف، دیکھتے ہیں بس ! وہ، جن کو مانگنا بھی پڑے ، اور لوگ ہیں ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس تو دیکھ بس خلا میں معلق یہ کائنات اس سے پرے تو اہلِ شرف دیکھتے ہیں بس اپنی جگہ پتہ ہے سو مسجد میں جا کے ہم جوتوں کے آس پاس کی صف دیکھتے ہیں بس مجھ کو بہ غور دیکھ کے کہنے لگا فقیر ایسے مریض، شاہِ نجف دیکھتے ہیں بس گھڑیاں تو بیچ دی تھیں، برے وقت میں، تمام اب عادتاً قمیص کے کف دیکھتے ہیں بس سنتے ہیں خواب میں، "طلع البدر" کی صدا اور چند پاک ہاتھوں میں دف دیکھتے ہیں بس جب کوئی پوچھے، "خود کو کہاں دیکھتے ہیں کل؟ " ہم اپنی خاک، خاک سے لف دیکھتے ہیں بس