مری جانب روانہ ہے اجل، آہستہ آہستہ
مری جانب روانہ ہے اجل، آہستہ آہستہ بہت محتاط، چپ، پنجوں کے بل، آہستہ.. آہستہ اکیلا تھا مگر اب حلقہِ احباب رکھتا ہوں کیا ہے ایک مصرعے کو غزل آہستہ آہستہ کوئی گزرا تھا اک دن سامنے سے جلدبازی میں گزارا میں نے برسوں تک وہ پل آہستہ آہستہ کسی کے اشکوں نے چھینی مری خود سے وفاداری نمک ہوتا گیا پانی میں حل آہستہ آہستہ گھٹن میں اُس کی مدہم سانس یوں گالوں کو چھوتی تھی کوئی جھلتا ہو جیسے مورچھل آہستہ آہستہ کچھ اتنا ساتھ رہتی ہے، مجھے ڈر ہے، کمی تری نہ بن جائے ترا نعم البدل آہستہ آہستہ بدل آیا ہوں مستقبل میں ترتیبِ حوادث کو پڑے گا اب زمانوں میں خلل آہستہ آہستہ تبھی عجلت میں اُن کو ترک کرنا غیر ممکن تھا تعلق بنتے تھے پہلے پہل، آہستہ آہستہ اتر آیا مری آنکھوں میں آخر موتیا، نجمی ! کھِلے جھیلوں کی سطحوں پر کنول آہستہ آہستہ