عمیر نجمی

عمیر نجمی

کچھ آتا جاتا نہیں تھا مجھے، سوائے جنوں

    کچھ آتا جاتا نہیں تھا مجھے، سوائے جنوں سو وقت وقف کیا، سب کا سب، برائے جنوں یہ میرا خاکہ ہے بچپن کا، وہ لڑکپن کا یہ ابتدائے جنوں تھی، وہ انتہائے جنوں شبِ شعور میں دو نور، میر اور منصور ہے اک خدائے سخن، دوسرا خدائے جنوں خدا کا شکر، مرے گرد تھا خلا کا حصار لگی تو کان تک آئی نہیں صدائے جنوں ہمارا جرم تفکّر تھا، آگہی تھی گواہ نتیجتاً ہمیں دے دی گئی سزائے جنوں بس احتیاطی تدابیر پر عمل ہے علاج کہ دستیاب نہیں ہے ابھی دوائے جنوں مجھے جنوں کا پتہ ہے، یہ ویسا کچھ بھی نہیں ترے لئے تو ہے کچھ دل میں ماورائے جنوں اسے بدن نظر آتا تھا اور خاک مجھے وہ مبتلائے ہوس تھا، میں مبتلائے جنوں یہ سرخ آنکھ، ہرے زخم، زرد ہاتھ، عمیر ! مرے بدن پہ نمایاں ہیں رنگ ہائے جنوں