ایک عالم ہے خواب کا طاری اور بے دار ہو رہا ہوں میَں
ایک عالم ہے خواب کا طاری اور بے دار ہو رہا ہوں میَں جیسے کچھ یاد آ گیا ہے مجھے جیسے کچھ بُھول سا گیا ہوں میَں دونوں اک ربطِ محویت کے سبب بن گئے ایک دوسرے کی طلب جیسے تصویر بن گئی ہو تم جیسے دِیوار بن گیا ہوں میَں عشق احساس سے عبارت ہے مجھ کو تیری کہاں ضرورت ہے تُو بہت دُور ہے مگر پھر بھی تجھ کو محسوس کر رہا ہوں میَں عُمر بھر کے سفر کے بعد کُھلا یہ سفر بھی خیال و خواب کا تھا تم جہاں پر مجھے ملے تھے کبھی اب بھی اُس موڑ پر کھڑا ہوں میَں صرف اِک خامیٔ تمنّا ہے جس کی خاطر سفر یہ کرنا ہے نہ مرے ساتھ چل رہا ہے تُو نہ تِرے ساتھ چل رہا ہوں میَں