ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا سلسلہ تھا کبھی
-
ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا سلسلہ تھا کبھی کوئی تمہاری طرح دِل میں بولتا تھا کبھی اُسی کی لَو میں اَزل سے اَبد کو دیکھتا ہوں تمہارے نام کا دِل میں دِیا جَلا تھا کبھی غُبار ہو گیادُنیا کی مصلحت سے مگر وہ چہرہ میرے لیے ایک آئنہ تھا کبھی ذرا سی بات تھی لوگوں نے دی ہُوا اُس کو وہ ایک بار مجھے یوں ہی مِل گیا تھا کبھی یہ اور بات کہ سب اُس پہ چل پڑے راشد یہ راہ عام نہیں میرا راستہ تھا کبھی