جان پہچان ہوئی زلف گرہ گیر کے ساتھ
-
جان پہچان ہوئی زلف گرہ گیر کے ساتھ رقص کرتے رہے ہم بھی تری تصویر کے ساتھ روز اِک زخم چُرا لیتے ہیں دُنیا والے کیا تماشا ہے مِرے درد کی جاگیر کے ساتھ آخرش کہنا پڑا تم سے محبّت ہے مجھے جلد بازی یہ ہوئی ہے بڑی تاخیر کے ساتھ خط تمہارے ہمیں تو حوصلہ دیتے تھے مگر تم وفا کر نہ سکے اپنی ہی تحریر کے ساتھ ہم تِرے قُرب کا یوں جشن منا لیتے ہیں اپنی تصویر لگا کر تِری تصویر کے ساتھ ہر زمانے میں مہک رہتی ہے اُن کی راشد لفظ لکھے ہوں اگر پیار کی تاثیر کے ساتھ