جب کلی کوئی سرِ شاخِ شجر آتی ہے
-
جب کلی کوئی سرِ شاخِ شجر آتی ہے وقت کی دھوپ بہت تیز نظر آتی ہے ظلمتِ شامِ بَلا اِس کی گواہی دے گی قتل ہوتے ہیں دِیے جب تو سحر آتی ہے گھر کہاں ایک ہی دِیوار تو اَب باقی ہے پھر بھی آندھی ہے کہ رہ رہ کے اِدھر آتی ہے گھر کی دِیوار کو وہ جتنی بھی اُونچی کر لیں دھوپ پھر دھوپ ہے آنگن میں اُتر آتی ہے اُس کی صورت کہ جو ناواقفِ غم تھی راشد وہ بھی اب مِیر کا دیوان ہے نظر آتی ہے