راشد عارف

راشد عارف

دستِ جفا پرست سے شمشیر چھین لو

    دستِ جفا پرست سے شمشیر چھین لو جھوٹی جو اُس کے پاس ہے تو قیر چھین لو مایوسیاں خُدا کو بھی آتی نہیں پسند خوابوں سے اپنے حصّے کی تعبیر چھین لو اب جس کے پاس زر کے ذخیرے ہیں ساتھیو! کرنے کو گلستان کی تعمیر چھین لو پہنے نہ کوئی اب یہاں بے جُرم بیڑیاں اب ظالموں کے ہاتھ سے زنجیر چھین لو جس میں کسی غریب کی مُشکل کا حل نہ ہو ہونٹوں سے ایسی لذّتِ تقریر چھین لو