راشد عارف

راشد عارف

میں تو سُورج ہُوں زمانے کو نظر آؤں گا

    میں تو سُورج ہُوں زمانے کو نظر آؤں گا دُھند چَھٹ جائے تو آنگن میں اُتر آؤں گا روشنی دوں گا اندھیروں کے سفر میں تجھ کو بن کے جگنو مَیں سرِ راہ گزر آؤں گا تُو نے ظُلمت کے حوالے تو کِیا ہے مجھ کو میَں تِرے شہر میں اب مثلِ قمر آؤں گا میرے ذیشان کی صورت میں ہے میری تصویر آؤں گا آؤں گا میَں بارِ دِگر آؤں گا