دِیوار و دَر ضرور ہیں گھر ہے پسِ خیال
دِیوار و دَر ضرور ہیں گھر ہے پسِ خیال اپنی سکونتوں کا سفر ہے پسِ خیال خوش فہمی ٔ خیال کا ردِّ عمل ہے یہ اُجڑا ہُوا سا ایک نگر ہے پسِ خیال جو آئنے میں ہے وہ پسِ آئنہ بھی ہے یہ دیکھنے کو میری نظر ہے پسِ خیال دیکھو تو ایک راہ پہ چلنے لگے ہیں ہم سوچو تو ایک راہ گزر ہے پسِ خیال سائے میں آ کے اپنے جھُلسنے کا اِک سبب سُورج سرِ خیال شجر ہے پسِ خیال یہ شعر بھی تو عکس نہیں لا شعور کا دَراصل میرا اصل ہُنر ہے پسِ خیال تخلیق خود ہے خالقِ تخلیق کی دلیل ہر آئنے کا آئنہ گَر ہے پسِ خیال بے خوفیِ خیال پہ کیسے عمل کروں بے خوفیاں خیال میں ڈر ہے پسِ خیال راشد نمو سے قبل یہ عکسِ نمو بھی دیکھ اِک بِیج ہاتھ میں ہے شجر ہے پسِ خیال