اگر دریا کی خواہش ہو سمندر چھوڑ دیتے ہیں
اگر دریا کی خواہش ہو سمندر چھوڑ دیتے ہیں ہم ایسے لوگ ہیں اپنا مقدر چھوڑ دیتے ہیں ہر اِک سالار کو حُرؑ نے یہی پیغام بھیجا ہے بہتّر سامنے آئیں تو لشکر چھوڑ دیتے ہیں نہ تم ہارے نہ ہم ہارے مقدّر کا لِکھا پیارے یہ بازی اب نہ کھیلیں گے برابر چھوڑ دیتے ہیں تمھارے اور ہمارے درمیاں ہے فیصلہ باقی چلو اِس طرح کرتے ہیں یہ تم پر چھوڑ دیتے ہیں ہماری یہ ادا اُن کو کبھی اچھی نہیں لگتی کہ ہم مسکین کی خاطر تونگر چھوڑ دیتے ہیں محبّت کی زباں سے موم جو ہوتا نہیں ہرگز اگر ہیرا بھی ہو تو ہم وہ پتھر چھوڑ دیتے ہیں یہ اپنے خواب کی تعبیر بھی حاصل نہیں کرتے یہ کیسے لوگ ہیں سب کچھ خدا پر چھوڑ دیتے ہیں چلو اب کے تمھارے ساتھ چل کے دیکھ لیتے ہیں ہمیں تو ساتھ چلنے والے اکثر چھوڑ دیتے ہیں بس اِک پَل میں فضا یہ اور ہی ہو جائے گی یارو چلو شمشیر اُٹھاتے ہیں یہ ساغر چھوڑ دیتے ہیں فضا تبدیل ہو کیسے ہمارے دیس کی راشد جو باتیں کرنے والی ہیں سُخن ور چھوڑ دیتے ہیں