راشد عارف

راشد عارف

زندگی کو اگر حیات نہیں

    زندگی کو اگر حیات نہیں پھر یہ جینا تو کوئی بات نہیں یہ تو بس ایک رسم ہے ورنہ تیرے ہاتھوں میں میرا ہاتھ نہیں راستہ دیکھنے میں مشکل ہے چلنا چاہو تو مشکلات نہیں اُس نے گھونگھٹ اُٹھا کے مجھ سے کہا وہ ستارہ ہوں جس کی رات نہیں یہ تو اُس کا کمال ہے راشد ورنہ مجھ میں تو کوئی بات نہیں