یونس جاوید

یونس جاوید

جوگی

    جوگی

    ممتاز مفتی نے لکھا ہے ”احمد بشیر کی شخصیت کے شالامار کے کسی پوشیده حجرے میں ایک سور رہتا ہے۔ ‘‘ مفتی صاحب نے یہ بات تقریباً ۳۵ سال پہلے لکھی تھی اس وقت کے احمد بشیر اور آج کے احمد بشیر میں دریا اور سمندر کا فرق ہے۔ میں نے پوشیده حجرے کے سور کا پیچھا نہیں کیا۔ اس لیے کہ مجھے، ایک معصوم بچے، ایک تجسس بھرے نوجوان اور مضطرب مدبر کے ہوتے ہوئے کسی سور کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ مضطرب مدبر، متجسس نوجوان اور معصوم بچہ، خود کبھی تحیر کا شکار نہیں ہوتا۔ دوسروں کو کرتا ہے، البتہ حقیقت کی پر تیں  اتارنے کے لیے وہ خوشاب کے ایڈووکیٹ کے توسط سے مسجد میں دیا جلانے والے بزرگ تک پہنچتا ہے اور پھر ان کی ہدایت پر بورے والا کے موچی محلہ کے آغا تک بھی جاتا ہے اور ہار نہیں مانتا..... ہار نہ ماننا ہی اس کا اصل پیشہ ہے۔

    مفتی صاحب کے بقول احمد بشیر کی شخصیت خواب آلودہ ہے۔ درست! گرایسا خواب جس کی تعبیر بشارت بن کر اس کی شخصیت کا احاطہ کیے رہتی ہے.....  اور وہ لمحہ لمحہ بدلتا رہتا ہے۔ کبھی کندن ،کبھی تانبہ، کبھی بھٹی سے نکلا ہوا سرخ انگاره لوہا۔ وہ جو کچھ بھی ہے۔ سامنے ہے۔ کھرا ہے۔

    اس کی ذات میں نہ تو مختلف منکے ہیں نہ وہ آستین میں رومال ڈال کر پانی نکالتا ہے لہٰذا ہم اس کی شخصیت کو شالامار کے حجرے کی پراسراریت سے بریکٹ نہیں کر سکتے۔ پراسرار تو وہ ہے ہی نہیں۔ وہ تو بنوٹ کا کھلاڑی ہے۔ پورے داؤ پیچ کے ساتھ۔ تبھی تو اس کی آواز میں بناوٹ کا ضعف نہیں، اعتماد کی کھنک ہے۔ یہ کھنک اسے سچائی اور اس علم نے دے رکھی ہے۔ جس نے اسے اعتبار بخشا ہے۔ وہ کھوٹے کو جانتا ہے اور کھرے کو پہچانتا ہے۔ اس لیے کبھی اس کے ہاتھ میں جسارت کا ڈنڈا ہوتا ہے کبھی جرأت کا پتھر۔  بھلے سے، سر پھٹے، شریانیں ٹوٹیں ، جگر خون ہو۔ یا دوسرا لیر و لیر۔ اسے پروا نام کی کسی چڑیا سے واسطہ نہیں۔ ہاں! البتہ خوابوں سے اس کی جھولی کبھی خالی نہیں ہوئی۔ مارشل لاء کے لگ بھگ گیارہ سال اس نے ٹی ہاؤس کی میز پر ہمیں ایک سے ایک بڑھیا خواب ہی تو دکھایا اور گرمایا ہے۔ وہ ہر شام، جلد صبح  ہونے کی نوید سے سب کے دلوں کو مسرت و انبساط سے ہمکنار کرتا تھا۔ نئی سے نئی دلیل کے ساتھ کہ حوصلہ نہ ٹوٹے۔ ہر شام یہی لگتا تھا کہ دوسری صبح ، جبراس وطن ہی سے کیا۔ پوری دنیا سے اٹھ جائے گا اور جنت کے جس خواب کو ہر سوچنے والا بنتا رہتا ہے۔ صبح ہونے سے پہلے ہی اسے دیکھ لے گا۔ مگر ایسا کبھی نہ ہوا۔ شرابی کی صبح کی توبہ ، شام کو ٹوٹتی ہے۔ ہمارے شام کے خواب صبح  تک بکھر جاتے تھے۔ دوسرے دن پھر سے نیا تجزیہ۔

    ایک مرتبہ تو احمد بشیر نے تیسری عالمی جنگ کی خبر، خوبصورت نوید کی صورت میں ڈھال دی اور کہا ’’میں جنگ سے نہیں ڈرتا۔ ڈرنے والی کوئی بات ہی نہیں۔ ڈرنا ہو تو قحط سے ڈرو کہ اس سے مجھے بھی خوف آتا ہے مگر تیسری عالمی جنگ ہمارے لیے نجات کا راستہ ہے۔‘‘ اس نے تاریخ تک دے دی ہے۔ اس کا آغاز ایشیا سے کیا۔ ہم سب جو بیزاری کے اس دور میں کسی بھی عالمی جنگ کے نقصانات سے لاپروا اور بے خوف تھے اس جنگ کے حامی ہو گئے کہ چلو۔ کوئی تبدیلی، کوئی انقلاب ،کوئی چھان پھٹک تو ہو گی ،ہم ہوں نہ ہوں مگر ہمارے بعد آنے والوں کو ہی شاید یہ جنگ، آکاس بیل سے چھڑا دے۔ لہٰذا آنے والی نسل کے لیے یہ ہمارا اجتماعی خواب تھا۔ سو ہر کوئی دن گننے لگا۔ خدا خدا کر کے وہ دن آیا اور خاموشی سے گزر گیا۔ اور دور تک جنگ کے آثار تو کیا دلوں میں وہم تک نہ اترا۔ اس شام ہر کسی نے بے قراری سے احمد بشیر کا انتظار کیا۔ اور اس کے داخل ہوتے ہی سب اس پر پل پڑے۔ سوالات کی بوچھاڑ میں وہ نہا گیا۔ مگر وہ سکون سے بیٹھا رہا۔ اطمینان سے سانس لیا پانی کا گلاس اٹھایا غٹ سے پی گیا اور بولا ”میں نے عالمی فوجیں تو آمنے سامنے کھڑی کروا دی ہیں اب اگر وہ نہیں لڑتے، تو ان کی حرام زدگی ہے میں کیا کروں؟‘‘

    احمد بشیر ایمن آباد کا پہلا شیخ ہے جس نے دولت جمع کرنے کے جنون کو کھرچ کر اپنی ذات سے الگ کر دیا ہے۔ کیوں کہ سچ پر پردہ ڈالنے کا گُر اسے آتا نہیں۔ سچ میں ملاوٹ تو اسے زہر لگتی ہے اسی واسطے اس کا سچ دوہرا کڑوا ہوتا ہے اور وہ خود پردے پھاڑ کر اپنی تکمیل کرتا ہے۔ کسی سچ کو لکھتے ہوئے یا سب کے سامنے میز پر انڈیلتے ہوئے احمد بشیر کا سینہ تفاخر سے پھول جاتا ہے اور وہ کسی ہنرمند کی طرح بنوٹ کے کرتب دکھاتا ہوا مخاطب کو زیر اور خود کو زبر کرتا چلا جاتا ہے اور اس پر، سب کی داد بھی نہیں چاہتا۔ صرف یہ چاہتا ہے کہ اسے سنا جائے۔ سمجھا جائے۔ مخاطب کے دل میں اٹھنے والے ہر سوال کا جواب اس کے پاس پہلے سے موجود ہو تا ہے۔ ہاں مگر یاد آیا یہ تو بہت پہلے کی بات تھی۔ اب تو وہ بنوٹ کھیلتے کھیلتے زیر بھی ہو جاتا ہے۔میں نے اسے الطاف قریشی اور سلیم شاہد جیسے اپنے جونیئرز جنہوں نے احمد بشیر کی گفتگو سن سن کر سیکھا بھی ہے اور سمجھا بھی، سے اتفاق کرتے ہی نہیں دیکھا، بلکہ پاؤں سمیٹ کر اپنے خول میں واپس آتے بھی دیکھا ہے۔ شاید وہ تھک جاتا ہے یا شاید دلیل، دلیل سے نہیں کٹ رہی ہوتی۔ اور سلیم شاہد کی ضد تو دلیل کے باپ سے بھی نہیں کٹتی۔ ضد کا پس منظر، برسوں کے ٹوٹتے خواب سہی مگر ضد توضد ہے۔ جسے کوئی دلیل نہیں کاٹ سکتی۔ اسی باعث جب ایسا لمحہ آئے تو احمد بشیر بحث سے گریز چاہتا ہے یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سمجھتا ہو، اس کے علاوہ کسی کا انٹینا ہی درست نہیں اگر تصویر دھندلی یا ڈراؤنی دکھائی دے تو وہ کیا کرے۔

    جیسا کہ پہلے ذکر کر چکا ہوں احمد بشیر کو میں نے کسی سے ڈرتے نہیں دیکھا۔ مگر قحط سے وہ ڈرتا ہی نہیں سب کو ڈراتا بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جنگ ہمارا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، قد تمہاری تاریخ، تمہارا جغرافیہ، تمہارا اندر باہر سب کچھ بدل سکتا ہے اس سے ڈرو اس کے خلاف جہاد کرو، علم سے، عمل سے ،خبر سے، لوگوں کو ایجو کیٹ کر کے، برابری پیدا کر کے اور آبادی کے دباؤ کو روکنے کے لیے احساس ذمہ داری کو پھیلا کر۔ اور صدیوں سے خون چوسنے والے ان خونیوں سے چھٹکارا پا کر جواب جنونیوں کی صف میں شامل ہو چکے ہیں۔ مگر ہم سب کی طرح اس کا بھی یہ بس خواب ہی ہے۔

    اس طرح کے سب خواب یعنی  تبدیلی کے خواب ،آسودگی کے خواب، انقلاب کے خواب دکھا دکھا کر اس نے سب کو نڈھال کر رکھا ہے۔ اور یہ تبدیلی کسی نئے انقلاب کی طرح گزشتہ کئی برسوں سے شاہدرہ موڑ سے آگے نہیں بڑھی۔ اب تو مجھے یقین ہو چکا ہے کہ اس خوبصورت صبح  کا خواب اس کی زندگی میں تعبیر دے گا نہ میری زندگی میں نہ میرے بچوں کی زندگی میں۔

    یہیں مفتی صاحب کی یہ بات درست دکھائی دینے لگتی ہے کہ آج کا احمد بشیر اجنبی  لگتا ہے۔ حالاں کہ ممتاز مفتی اس احمد بشیر کو یاد کر رہا ہے جس کی بوٹی بوٹی تھرکتی تھی۔ لہو ہر پل ابلتا تھا۔ اور چومکھی لڑنے میں ہی اس کی زندگی تھی۔ مگر مفتی صاحب نے تو ۱۹٦۰ ء کے احمد بشیر کو بوسیدہ مرقد کہہ دیا تھا۔ اس اضافے کے ساتھ کہ ابھی مدھم سی لو موجود ہے۔ اس لو کو مفتی صاحب نے احمد بشیر کی کنجی کہا تھا۔ آج ۱۹۹۵ ء ہے میں نے احمد بشیر کو بوسیدہ مرقد کے روپ میں نہیں دیکھا۔ وہ اب بھی بھڑک بھڑک اٹھتا اور ابل ابل پڑتا ہے۔ اس میں لو ہی نہیں شعلہ بھی ہے مگر آنچ ذرا سی مدھم ہے، ہو سکتا ہے اس نے اپنے خصوصی طا قچے مقفل کر کے چابی کو گلے کا لاکٹ بنا لیا ہو۔ مگر یہ اٹل ہے کہ جب کوئی اس چابی  کو چھو لیتا ہے تو احمد بشیر کوئی دوسرا احمد بشیر ہوتا ہے جو اپنے تمام طاقچے اور ان کے سارے دروازے کھولتا ہی نہیں۔ خود کھولتا ہے اور پورے طنطنے سے سب کچھ الٹ پلٹ کرتا ہوا اپنی بے ترتیب عالمانہ شہادتوں کو ایک ایک کر کے چن چن کر ،پہلے میز پر ترتیب سے سجا دیتا ہے۔ اور جب کوئی معقول انٹینا نہیں ملتا تو ٹھوکر مار کر ساری ترتیب کو رَلا ملا دیتا ہے مجھے اس وقت احمد بشیر، اس معصوم بچے کی طرح لگتا ہے۔ جو گھروندے بنا چکنے کے بعد لات مار کر بکھیر دیا ہے۔

    احمد بشیر  مکان اور گھروندے کے سلسلے میں انگریزی کے اس مقولے پر ہمیشہ سے عمل کر رہا ہے کہ مکان بنانے والایعنی  مالک بے وقوف اور اس میں رہنے والا (یعنی  کرائے دار) عقل مند ہے۔ اپنی عقل مندی کو ثابت کرنے کے لیے، عمر اس نے کرایہ دار کی حیثیت سے گزار دی ہے، مکان کا جھنجھٹ اس نے پالا ہی نہیں۔ وہ تو بھلا  ہو ڈاکٹر صفدر محمود کا کہ انہوں نے ’’محبت‘‘  کی خاطر پلاٹ کے کاغذات اس کے گھر چھوڑ دیے مگر احمد بشیر نے تب بھی مکان نہ بنایا۔ سنتے ہیں اس نے اسے بیچ کر بیٹے کی شادی کر دی۔ حیرت تو یہ ہے کہ شادی کے لیے پلاٹ بیچنے کی ضرورت کیا تھی۔ جب کہ اس کے بیٹے کی شادی کا کل خرچ صرف ۴۵۰ روپے تھا جس میں دو سو مولوی صاحب نے لیے تھے اسی طرح بشریٰ انصاری کی شادی پر کل چھ ہزار خرچ آیا تھا اور نیلم احمد بشیر کے لیے انہوں نے دفتر سے کچھ رقم ایڈوانس لی تھی البتہ قلزم کی شادی بیس  ہزار روپے میں اور سنبل کی ۵۰۰۰۰ میں مکمل ہوئی تھی۔ مگر یہ پچاس ہزار بھی یوں ہوئے کہ احمد بشیر نے اپنے محکمے کے لیے کوئی فلم بنائی تھی۔ یہ محکمہ چوں کہ قدرت اللہ شہاب ہی کے ماتحت تھا انہوں نے بشیر صاحب کو ۲۵۰۰۰ بونس دلوایا یا یوں کہیے کہ شہاب صاحب نے سرخ فیتے سے احمد بشیر کے بونس کو بچا لیا اور یوں یہ رقم ان کے حصے میں آگئی۔

     ان سب شادیوں پر احمد بشیر خوش اور مطمئن ہے ان کا اپنا کہنا ہے کہ اتنا کم خرچ کرنے اور کم لوگوں کو مدعو کرنے کے باوجود رشتہ دار ناراض نہیں ہوئے جو ان کی شرافت اور نیکی کی دلیل ہے اور دوسری قابل اطمینان بات یہ ہے کہ دامادوں نے مجھے یا اپنی بیویوں کو طعنہ نہیں دیا البتہ بیٹے کی شادی کے لیے رقم اس قدر کم تھی کہ اس کا ولیمہ نہ ہو سکا تھا۔ ظاہر ہے کیسے ہو سکتا تھا۔

     مگر احمد بشیر نے اس بات کا افسوس نہیں کیا۔ شاید ایسا کر کے احمد بشیر نے نیلا پربت  سے ہونے والے گھاٹے کو پورا کرنے کی کوشش کی ہو مگر نیلا پربت کا گھاٹا پورانہ ہوا۔

    ہر چند کہ نیلا پربت گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ اب بھی بڑے بڑے جغادریوں کو میں نے اس کا ویڈیو چلا کر دیکھتے اور سیکھتے دیکھا ہے۔ فلم انڈسٹری میں وہ جس طمطراق سے داخل ہوا تھا اسی طنطنے سے واپس نکل آیا۔ کہ ہماری فلم انڈسٹری کسی نئے خیال، کسی نئے جذبے یا کسی نئی تکنیک کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس میں منٹو سے ،احمد ندیم قاسمی تک اور اشفاق احمد سے احمد بشیر تک سبھی ناکام ہوئے یا ناکام قرار دیئے گئے یا ان لوگوں نے فلم انڈسٹری کو مسترد کر دیا کہ پوری انڈسٹری کا صرف اور صرف ایک ہی معیار ہے کہ وہ پیسے کما کر دے۔ کم سے کم دنوں میں، خواہ اس کے لیے وی سی آر کا سہارا ہی کیوں نہ لیا گیا ہو۔فلم کا بزنس ہی اس کا معیار ٹھہرا ہے۔ پرافٹ کی رقم اتنی زیادہ ہونی چاہیے کہ فلمساز ..... سٹوڈیو اونر بن جائے ..... یا اس قابل ہو جائے۔

    یہ وہ معیار ہے کہ اس پر احمد بشیر ہی کیا آرٹ کا ہر ہنر مند، ذہین، باریک بیں اور نکتہ سنج  ناکام و نامراد ٹھہر  سکتا ہے۔ بلاشبہ میری نظر میں احمد بشیر ٹلہ جوگیاں(١)                 کا کوئی ایسا جوگی ہے جو جوگی سے یوگی ہونے کے درمیانی سفر میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا تھا۔ اور آج تک بچھڑا ہوا ہے۔

    اسے جن نئی دنیاؤں کی تلاش تھی۔ تب سے اب تک وہ تلاش جاری ہے بقول اپنے، وہ مقامی مہاجر ہے۔ جس کی وضاحت اس نے خود کی ہے یعنی ازل سے مہاجر۔ وہ ابھی تک کسی مدینے کی تلاش میں ہے، ممبئی، کلکتہ، دہلی، الہ آباد، پٹنہ، بنارس اور آسام کی ترائیوں میں بھٹکنے کے باوجود وہ ابھی تک راستے میں ہے۔ اس نے درست لکھا ہے کہ ’’راستے میں سبھی کو رہنا پڑتا ہے کوئی کہیں بھی نہیں پہنچتا‘‘اس لیے اسے ایک سدابہار آوارہ گرد کہا جا سکتا ہے اسی آوارہ گردی کے دروازے سے داخل ہو کر وہ صحافی بنا اور ایسا بنا کہ پھر اس راج دھانی کی فصیل سے باہر نہ نکل سکا۔ وہ نڈر، بے باک ،بے خوف اور کسی حد تک پھکڑ بھی ہے۔ دیکھنے کو اس کا گھر بار بھی ہے، پروگرامز بھی ہیں۔ اور زندگی گزارنے کا دہقانی انداز بھی ہے جو اسے پسند ہے۔ میں نے اس کا یہ انداز اس وقت دیکھا تھا جب میں نیا نیا غالباً دوسری مرتبہ ٹی ہاؤس میں ادبیوں کو دیکھنے ان کی گفتگو سننے اور انہیں سمجھنے کے لیے داخل ہوا تھا میں نے دیکھا سامنے کی دیوار جہاں قائد اعظم کی تصویر لگی ہے اس کے بالکل نیچے ایک شخص.....  ایک ٹھیک ٹھاک اور مدبر ادیب کی دھجیاں بکھیر رہا ہے وہ شخص جس پیڈسٹل سے بول رہا تھا وہ بہت اونچا تھا۔ مگر اس کے پاس دلائل تھے۔ جوابات تھے بولنے کی تیزی تھی کہ دوسرا جواب کیا ہے۔ سانس بھی نہ لے سکے۔ لیکن اگر دلائل تھے تو پھر اتنا اکھڑ پن کیوں تھا؟ دھونس کیوں تھی۔ ماں باپ کی ایسی تیسی کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ میں پریشان ہو گیا ظاہر ہے میں نیا نیا ٹی ہاؤس میں داخل ہوا تھا۔ ہر ادیب میرے لیے ماڈل اور آئیڈیل تھا اور ٹی ہاؤس کو میں نے ایسا جزیرہ سمجھ رکھا تھا جس میں آلوده ہوا ،تاریکی، زبان کی غلاظت اور غیبتوں کا زہر نہ تھا (حالاں کہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اجناس تو بہ  افراط یہاں ملتی ہیں۔)

    بہرحال وہ اجنبی شخص کس تواتر اور طنطنے  سے میرے شیشے کے جھروکوں کو چکنا چور کرتا چلا گیا اور دل میں اس کے علم اور اس کے ڈنڈپٹ کا کچھ ایسا رعب اور سحر طاری ہوا کہ میں خواہش اور جواز کے باوجود اپنے پسندیدہ سینئر ادیب کی حمایت میں منمنا بھی نہ سکا۔ اس نے دس پندرہ منٹ چومکھی تلوار چلا کر سب کو ڈھیر کر دیا تھا۔ لگتا یہ تھا کہ ہر اعتراض اور ہر دلیل کا گھڑا گھڑایا جواب اس کے اندر سے تیار شده مال کی طرح کھٹاک سے دوسرے کے منہ پر آلگتا ہے اور احمد بشیر تو صرف ہونٹ ہلا تا ہے۔ اس کی باتوں میں انکشاف کے درجے کی خبر تھی۔ موضوعات پر اس کے یقین کی گرفت بے حد مضبوط تھی۔ لہجے سے چہرے تک زہر بھری طنزیہ مسکراہٹ جھلکتی تھی۔ کٹاکٹ وہ مختلف موضوعات پر بغیر کسی جھجک اور بناوٹ کے کشتوں کے پشتے لگا رہا تھا۔ یہ سب اس کے با علم ہونے کے ثبوت سہی پر مجھے احمد بشیر اپنے پھکڑ پن اور صاف گوئی کی بدولت ذرا اچھا نہ لگا۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ اسے اس کی پروا بھی نہیں تھی۔ اس نے کسی دوسرے کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔ وہ تو اپنے سامنے بیٹھے ادیب کو چاروں شانے چت گرانے میں ہی مصروف رہا اور ایسا کر کے فاتحانہ انداز میں کچھ ایسے مسکرایا کہ گردن فخر سے تن گئی اور پھر بے تکلفی سے کھل اٹھا کہ لگا اس   کے دل میں تو ملال ہے ہی نہیں۔ پھر وہ یک لخت اٹھا اور چلا گیا۔

    کمال آدمی ہے۔ میں نے یہی سوچا تھا۔ مگر میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ ملال یا نفرت نہیں تھی تو پھر کف کیوں اڑ رہے تھے؟ ماں بہن ایک کیوں کی جا رہی تھی؟ یلغار کیسی تھی..... اور زبان ہر لمحہ کمان پہ کیوں چڑھی رہی؟ اس کے جانے کے بعد پانچ سات منٹ خاموشی رہی، پھر دیر بعد ہر شخص نے جیسے اپنے آپ سے سرگوشی کی ’’واہیات‘‘  کم از کم سر جھٹک کر بے آواز سی سرگوشی میں یہی لفظ فٹ ہو تا تھا۔ جو صرف میں نے سنی۔ اور میں دیر تک ..... اور پھر دنوں تک اس عجیب شخص کے بارے میں سوچتا رہا اور پھر اسے بھول گیا۔

    پھر یوں ہوا..... کہ طویل دورانیے کے کھیلوں کا آغاز میرے مشہور ڈرامے”کانچ کا پل‘‘ سے ہوا یہ ستمبر٨١ء تھا ڈرامہ چلنے کے ہفتہ عشرہ بعد احمد بشیر ٹی ہاؤس میں وارد ہوا۔ میں دروازے کے ساتھ والی میز پر دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا اس نے آتے ہی میری طرف رخ باندھا۔ اور تقریباً گر جا۔

    ’’کانچ کا پل کھڑے ہو جاؤ‘‘۔

    میں سن ہو گیا۔

    ’’اٹھو“ اس نے دھاڑ کر کہا۔ میں اٹھا تو اس نے میرا ماتھا چوم کر گلے سے لگا لیا۔ مجھے خود بھی یقین نہ آیا کہ میں کانپ رہا ہوں۔ جب اس نے کہا۔ ” تم نے بہترین کھیل لکھا ہے۔‘‘اس نے پانچ چھ تعریفی کلمات کہنے کے بعد کسی انگریزی کالمسٹ کو بے نقط سنائیں ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس ذہین ترین کالمسٹ نے ڈرامے کی بے حد تعریف کی تھی۔ مگر رائٹر کا نام نہ لکھا تھا۔

    احمد بشیر بولا۔ ”میں خود اس کے پاس جاؤں گا اور اس سے لڑوں گا۔‘‘

    (بعد میں معلوم ہوا کہ احمد بشیر اس کالمسٹ سے ملا تھا اور بس ..... کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے)

    پھر احمد بشیر سے ہم سب بھیگتے  چلے گئے کہ وہ روزانہ ہی ہماری میز پر بیٹھنے لگا تھا۔ اس دوران میں اس نے مجھے اپنی فلم ”نیلا پربت‘‘ کی کہانی اور ہدایت کاری کی تفصیلات  سنائیں تو مجھے وہ ذہین ترین معصوم بچہ دکھائی دینے لگا۔ افسوس کہ میں اس فلم کو ابھی تک نہیں دیکھ سکا۔ مگر مجھے اس کی کہی ہوئی ہر بات کی صداقت پر یقین ہے کیوں کہ میں نے اسے.....  چند سالوں کی رفاقت میں، جو ٹی ہاؤس تک محدود تھی، دانستہ  جھوٹ بولتے نہیں سنا۔ اور یہی بات اکثر اس کے حالات زیر زبر بھی کر دیتی رہی ہے مگروه بزرگی میں بھی کھلنڈرا اور لاپروا ہے۔ اسے کسی کا لحاظ کرنا نہیں آتا۔ جوسچ ہے وہ ہے۔ اولاد جس سے اسے بے پناہ محبت ہے، بیوی جسے اس نے ہمیشہ توقیر سے یاد کیا ہے۔ بہن، دوست، سنگھی، ساتھی، بڑے چھوٹے یا اس کی اپنی ذات، میں نے اسے ترازو ہاتھ میں لیتے اور تولتے دیکھا ہے ..... ڈنڈی مارتے نہیں دیکھا۔ وہ کھری کھری لکھتا بھی ہے کہتا بھی ہے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ اس کی تھوڑی سی کھری باتوں کو جمع کر دوں ..... یہ خیال آرزو بنا اور تنبو کی طرح دل میں تن گیا۔ اور بہت دن بیت گئے۔ اب ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ ذکر کس نے کیا تھا مگر یہ ذکر انتظار حسین کے اس کالم کا تھا جس کا کبھی بڑا چرچا تھا۔ سنا ہے ان دنوں ٹی ہاؤس کی ہر میز پر اسی کالم کا ذکر ہوتا تھا جو اس تقریب کے بارے میں تھا جو کشور ناہید کے متعلق تھی اور جس میں احمد بشیر نے کشور پر ایک خاکہ پڑھا تھا۔

    تقریب راستے میں رہ گئی مگر کالم موضوع بحث کچھ اس طرح سے بن گیا..... کہ شہر میں ہر طرف اسی کا چرچا ہونے لگا۔ یہاں تک کہ یوسف کامران (خدا اس کی روح کو آسودہ کرے) انتظار حسین سے لڑنے تک کے لیے تیار ہو گیا۔ وہ یوسف جو اختلاف کو روشن لکیر سمجھتا تھا۔ وہ بھی.....! يوسف بے حد پیارا، صلح كل..... بڑوں سے محبت کرنے والا..... چھوٹوں سے شفقت کرنے والا، شاہ خرچ ،کھانوں کا  رسیا، باتوں کو الجھانے اور پھر سلجھانے کا چسکولا، وہ تو شہزادہ تھا۔ اس نے بعض ادیبوں کے کڑکی کے زمانے میں ان کی بہت حوصلہ افزائی، مدد اور پذیرائی کی۔ کھانے سے شراب تک جو اس کے پاس ہوتا وہ پیش کر دیتا۔ میں شرابی تھا نہ ہوں. .... اس لیے میں نے ان محفلوں کو ہوش میں دیکھ لیا ہے اسی لیے یاد بھی رکھا ہے۔ شرابی ہو تا تو بھول چکا ہوتا۔

    ہاں یہ بھی یاد ہے .....کہ یوسف بچوں کی طرح معصوم اور شرارتی تھا اس نے شرارت کی تو مزاح کے لیے، مخول کے لیے، مزے کے لیے، کسی پر استہزا نہیں کیا۔ وہ کمتر  سے کمترین بلکہ کمینے شخص تک کی بھی عزت کرتا ہوا دیکھا گیا اس لیے جی چاہا کہ اس کا ذکر کیے بغیر یہاں سے نہ گزروں .....

    میری آنکھیں آج بھی اس کے لیے نم ہیں.....

     آج اردگرد کی بے مروتی، منافقت، تعصب، جہالت اور برتری کی لڑائیوں اور غیبتوں کو دیکھتا ہوں تو وہ زیادہ یاد آتا ہے۔ ایسا شخص کتنا ضروری اور کس قدر ضروری دکھائی دیتا ہے جو ان چھوٹی، سطحی اور دلوں کو دیمک کی طرح چاٹ جانے والی برائیوں کے خلاف حتی الامکان جہاد کرے..... ہاتھ سے..... زبان سے اور کبھی بھی صرف دل ہی میں جہالت سے نفرت کر کے۔

    بہرحال میں یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ یوسف کامران جیسا متحمل اتنی سنجیدگی لوگوں سے لڑنے (بقول شخصے لڑنے مرنے)  پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ لیکن واقعہ یہی تھا۔ ایک روز لوگوں   نے اسے سخت غصے میں ہوا میں گالیاں اچھالتے سنا تو انہیں یقین آ گیا کہ وہ کشور سے بے پناہ محبت کرتا ہے اس غیر معمولی غصے کی وجہ ،وہی کشور کا خاکہ تھا جس پر انتظار حسین نے کالم باندھا تھا۔ سب کے لیے حیرت کاباعث یہ تھا کہ اس ساری لڑائی میں خاکہ نگاری کا ذکر کم کم تھا سارا ملبہ کالم نگار پہ ڈالا گیا تھا۔ بعد میں یوسف کے بقول کھلا کہ خاکہ تو سو دو سو نے سنا تھا کالم رات بھر میں ہزاروں تک پہنچ گیا اور وہ کچھ غارت کر گیا جو شاید خاکہ بھی نہ کر سکا تھا۔

    بس..... اسی دن سے جستجو تھی کہ پہلے کالم پھر خاکہ پڑھوں۔ کالم تو جوں توں حاصل ہو گیا ..... پڑھ بھی لیا ..... مگر خاکہ دستیاب ہوا نہ کہیں چھپا۔ میں بھی اس قصے کو بھول چکا تھا کہ احمد بشیر کا دوسرا جنم ہو گیا۔ وہ مسلسل اور مستقل مزاجی سے ٹی ہاؤس میں آنے لگے اور دروازے کے ساتھ والی میز پر ہمارے ساتھ بیٹھنے لگے ..... یا یوں کہیے کہ ضیاء مارشل لاء پہ ان کے تجزیے نے ہمیں ان کے اردگرد جمع کر دیا تھا۔

    احمد بشیر ہر روز کوئی نہ کوئی پیش گوئی کرکے ہمارے دلوں میں تسکین اتارنے لگا ..... پیش گوئی تو ان کے کسی کرم فرما کی ہوتی تھی جو علم جعفر کے ماہر تھے اور ملتان میں تھے۔ مگر علم جعفر کے ماہر کے کسی جملے کو معنی احمد بشیر ہی پہناتا تھا اور اس کے بعد اس کا تبصرہ ہمارے دلوں میں روشن مہتابی چھوڑ دیتا۔ پھر ہمارے اندر جڑ پکڑتی ہوئی مایوسی دم توڑنے لگتی۔ مارشل لاء کے گیارہ برسوں میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب اس نے ہمیں یقین سے مالا مال کرکے گھر نہ بھیجا ہو۔ کہ بس دوسرا دن مارشل لاء کے خاتمے کا دن ہے۔ جمہوریت کا سورج طلوع ہو گا۔ زندگی لوٹ کر آئے گی اور جب ایسا ہوتا نظر نہ آیا ..... تو انہوں نے تھرڈ ورلڈ وار کا چکر چلا دیا ..... (پیچھے زکر کر چکا ہوں۔)

    اور اس طرح ہماری زندگیوں کا بہترین حصہ امید، نا امیدی، انتظار، تجسس اور تجزیوں کی نذر ہو گیا۔ ہم ہر روز دیوار   چاٹتے تھے ..... اور دوسرے دن وہیں، ویسی کی ویسی  ہوتی تھی۔ لیکن احمد بشیر کا دم کتنا غنیمت تھا کہ اس نے اتنا عرصہ ہمیں مفلوج ہونے سے بچائے رکھا۔ وہ مارشل لاء سے زیادہ ان لوگوں پر بھی تنقید کرتا تھا جو مارشل لاء کے لیے جواز فراہم کرتے تھے..... یا کر رہے تھے۔ ان لوگوں میں ایسے لوگوں پر وہ زیادہ برستا تھا جنہیں وہ اپنے قبیلے کے منحرف لوگ کہتا تھا اور وہ یہ بھی کہتا تھا کہ میرا قبیلہ سچ بولنے والوں کا ہے جو ایسا نہیں کرتا نہ وہ میرے ساتھ ہے..... نہ میں اس کے ساتھ ہوں نہ ہی وہ میرے قبیلے سے ہے اور نہ ہی آنے والا کل اس کے ساتھ ہو گا۔ اس کی باتیں، تجزیے، کالم اور زندگی آمیز تسلیاں ہی مجھے رسم و راہ سے بہت آگے کی دنیا میں لے آئیں..... جس کی ایک وجہ میرا بہتر سامع ہونا بھی تھا۔ پھر ان سے اکیلے بھی مکالمہ ہونے لگا .....اور قربت اتنی بڑھی کہ میں نے کشور کا خاکہ کسی طریقے سے حاصل کر لیا۔ گویا میں نے اپنے کام کی بنیادی اینٹ حاصل کر لی تھی۔ یہ خاکہ یقینا ً اس ٹائپ مشین پر ٹائپ کیاگیا تھا جو پہلے پہل اردو ٹائپ کے لیے ایجاد کی گئی ہو گی، مگر نامکمل اور ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بد خط ٹائپ کا مجھے یہ فائده ہوا کہ میں نے ہر ہر حرف غور سے پڑھا۔ اور ہر ہر لفظ کو مکمل بھی کیا اور محظوظ بھی ہوا۔ پھر اسے نئے سرے سے ٹائپ کروا کر سنبھال لیا۔

    اس خاکے کی عجیب شہرت تھی کہ ہر کوئی اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لندن سے لاہور تک اکثر اہل دل نے مجھ سے رابطہ کیا اور ایک مرتبہ تو حمید اختر صاحب جو لندن سے لوٹے تھے افتخار عارف کا پیغام بھی مجھے دے گئے کہ اس خاکے کی کاپی لندن بھجوائی جائے مگر ایسا نہ کر کے میں نے اس خاکے کو ضائع ہونے سے بچائے رکھا۔ میں چاہتا تھا کہ احمد بشیر کے باقی کام کو جمع کر کے کچھ کیا جائے۔ سو میں اس کام کے لیے جو بعد میں ایک مشکل کام ثابت ہوا، ایس ایسی  لائبریریوں کے بند شیلفوں میں جھانکا جن میں قدم رکھنے کا ارادہ تھا نہ مقدر..... شروع میں ناکامی ہوئی کیوں کہ بشیر صاحب کو تاریخیں اور سن درست یاد نہ تھے..... بہرحال جب کامیابی ہوئی تو ہوتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ احمد بشیر کی اپنی ذات بھی اپنے قابو میں ہوتی چلی گئی اور پھر اس نے بھی اس کام کو سنجیدگی سے لے لیا۔ وہ یوں کہ مجھے شاباش دینے کے ساتھ مدد بھی کی۔ شروع میں میرا خیال تھا کہ جب میں انہیں مطلع کروں گا تو وہ ناراض ہو جائے گا مگر حیرت ہے کہ ناراض ہونے کے بجائے وہ خوش ہوا۔ لگتا تھا پتھر دل حقیقت نگار، موم ہو چکا ہے کہ اس نے کشور ناہید کے خاکے کے حواشی لکھنے کا وعدہ کر کے مجھے مستعد کر دیا حتیٰ کہ لکھ بھی دیئے۔ سب خاکوں کی طرح یہ حواشی بھی قلم برداشتہ لکھے گئے تھے اور کمال فن تو یہی  ہے کہ جن باتوں اور باریکیوں کے بغیر خاکہ مکمل نہیں ہوتا احمد بشیر نے انہیں کس سلیقے سے جمع کر دیا تھا کہ ہر خاکہ ماہر مصور کے بنائے ہوئے پورٹریٹ کی مانند تھا۔ ہر چند احمد بشیر نے زبان دانی کا دعویٰ نہیں کیا مگر احمد بشیر نے زبان دانی کی داد اور سند چراغ حسن حسرت جیسی شخصیت سے لے رکھی ہے۔

    وہ کٹڑ پنجابی ہے۔ انگریزی میں سوچتا ہے پنجابی بولتا..... اور اردو میں لکھتا ہے جب کبھی میں پنجابی میں بات کرتے کرتے اردو بولنے لگتا ہوں تو وہ بار بار ایسا کرنے پر مجھے ڈانٹ دیتا ہے۔ ایک مرتبہ اس نے تھپٹر تو نہیں مارا..... مگر کہہ دیا کہ اب پنجابی بولتے بولتے اردو میں آئے تو وہ تھپڑ مار دے گا۔

    وہ ماں بولی کا سنجیدگی سے احترام کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے۔ لکھو بے شک جس زبان میں، بولو..... تو اپنی زبان..... مگر اسے تینوں زبانوں پر کمانڈ حاصل ہے اس نے تینوں زبانوں میں لکھا ہے اور خوب لکھا ہے لکھنا اس کا رزق ہے ..... اس کا شوق بھی ہے اور یہی شوق اس کا جنون بھی ہے۔

    ان سب سے ہٹ کر اس نے تقریباً  تین ہزار صفحات پر پھیلا ہوا ناول بھی لکھ رکھا ہے جس پر وہ مزید کام کر کے اس کے ہزار صفحات کم کرنا چاہتا ہے (میرے بے حد اصرار پر اس نے یہ وعدہ بھی کر لیا ہے کہ وہ بھٹو پر لکھی جانے والی کتاب کے  بعد اس ناول پر کام شروع کر دے گا) خدا کرے وہ اسے جلد مکمل کرلے وہ نا ول شائع ہو۔ اور میں ..... آپ ،سب اسے پڑھیں اس کی تکمیل کریں۔

    ایک مرتبہ حمید بلوچ نامی کی نوجوان کو مارشل لاء کورٹ نے سزائے موت سنائی مگر ابھی عدالتوں کے اختیارات سلب نہ ہوئے تھے میں نے احمد بشیر صاحب سے اس معاملے میں پوچھا۔ بشیر صاحب نے کہا۔ ’’میں نے قانون میں صرف ایک بات پڑھی ہے کہ ننانوے قاتل اگر غلطی سے بری ہو جائیں تو وہ اتنا بڑا گناہ نہیں جس قدر بڑا گناه ..... کسی بے گناہ کو موت دینا ہے۔ ‘‘اس کے بعد بشیر صاحب نے اس نوجوان کی زندگی کے لیے دعا مانگی مگر پھر فوراً  ہی کہا۔ ’’مجھے یقین نہیں آتا کہ سزائے موت سنانے والے اسے چھوڑ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بات اپنے تجربے اور یقین سے کچھ  ایسے انداز میں کہی  کہ سب دکھی ہو گئے۔ ان دنوں یہ سوچے بغیر کہ سزا پانے والا کون ہے کس سیاست اور کس نظریے کا علمبردار ہے ہر شخص اس قسم کی سزاؤں کے خلاف مزاحمت کرتا تھا مگر احمد بشیر بار بار پورے وثوق سے دوسروں کی نیتوں کا حال بیان کر رہا تھا..... جو حوصلہ افزا نہیں تھا.....

    پھر  ایک روز وہ ٹی ہاؤس میں کسی خبر کی فائل اٹھا کر داخل ہوا اور بتایا کہ اس نے متعلقہ خبر، اپنے اخبار کو بھجوا دی ہے اور خبر یہ ہے کہ ’’حمید بلوچ کو پھانسی دے دی گئی‘‘ سب کو احمد بشیر کی معصومیت پر ہنسی آئی کیوں کہ ہم صبح کے اخبار میں پڑھ چکےتھے کہ ہائی کورٹ نے تقریباً سولہ سترہ گھنٹے پہلے حمید بلوچ کو سٹے آرڈر د ے دیا ہے۔ ہم نے اسے بتایا کہ وہ تو زندہ ہے اور اخبار پیش کیا۔ احمد بشیر غلط خبر پوسٹ کر دینے پر نادم نہ تھا وہ تو مصر تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ وہ بچے۔ ہر چند اس نے فوراً ٹی ہاؤس کے کاؤنٹر سے فون کر کے مذکورہ اخبار کو وضاحت کر دی مگر اس کے چہرے پر حمید بلوچ کے زندہ بچ جانے کے باوجود خوشی کی کوئی جھلک نہ تھی۔ بلکہ ایک ملال تھا جو گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ وہ لمحہ  بھر سکون سے کرسی پر بیٹھا رہا پھر بولا ”یہ بچے گا نہیں ..... تم نوٹ کر لو .. ... وہ اسے مار دیں گے ‘‘ہمارا مزاج ہے کہ ہم ایسی باتوں کو مجذوب کی بڑی سمجھتے ہیں مگر آپ کو شاید یاد ہو گا۔ عبوری آئین کے نفاذ کے بعد سب سے پہلی پھانسی اسے ہی دی گئی۔

    ان خاکوں کو تلاش کرتے اور ترتیب دیتے وقت میں نے کئی مرتبہ سوچا ہے کہ کس کو شامل کروں کے چھوڑ دوں۔ میرے اندر بہت سوال جواب ہوئے کیوں کہ ان تمام خاکوں میں احمد بشیر خود جھلکتا تھا۔

    ’’وارث میر کو چھوڑ سکتے ہو؟ ‘‘میں نے خود سے پوچھا۔

    ’’ نہیں‘‘ اندر سے جیسے کچھ پھٹ پڑا ہو۔

    ’’ چراغ حسن حسرت کو؟ ‘‘

    ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘

    ’’ احسان دانش کو؟

    ’’ناممکن‘‘

    ’’میجر اسحاق کو؟‘‘

    ’’ خواہ مخواه ..... خاکہ پڑھنے کے بعد وہی تو ایک سچا انقلابی لگا ہے مجھے۔‘‘

    ’’خورشید انور؟‘‘

    ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا..... ایسے سُر سمراٹ کو تو آنکھوں پر بٹھانا چاہیے۔‘‘

    ’’ تو پھر؟ میراجی؟‘‘

    ’’نہیں‘‘

    ’’ ظہیر کاشمیری؟‘‘

    ’’نو‘‘

    ’’حسرت موہانی‘‘

    ’’نا بھئی نا۔“

    ’’کشور ناہید؟‘‘

    ”حد ہو گئی ..... اس خاکے کے باعث تو میں نے سب کو یکجا کیا ہے۔‘‘

    ’’اور شہاب؟‘‘

    ’’ ارے صاحب سنو، قدرت اللہ شہاب کا خاکہ، خاکہ نہیں ..... خاکوں کا خاکہ ہے..... یہ تو اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کے علاوہ پردے میں چھپے گرو لوگوں کا امانت دار ہے، جو کبھی تحیر سے آشنا کرتے ہیں کبھی تجسس ہے۔‘‘

    ’’باقی بچے بریگیڈئیر عاطف اور عبدالمجید بھٹی‘‘ میں سوال و جواب سے اکتا رہا تھا.....’’ نہیں نہیں نہیں‘‘ میرے انکار نے مجھے طاقت دے دی میں کسی کو نہیں چھوڑ سکتا ابھی تو دوستی ہوئی ہے ان سے۔ میں نے انہیں بہت زاویوں سے سمجھا ہے پر کھا ہے۔ بہت سی باتوں نے مجھے باخبر بنا دیا ہے..... باخبر ہونا سب کا حق ہے ان میں اکثر لوگ بڑے بلکہ بہت بڑے تھے۔ شہاب کے خاکے ”پیر و مرشد‘‘ سے تو احمد بشیر کی گاڑھی گالیوں کی تصدیق ہوئی۔ جس کا میں خود راوی ہوں۔ میجر اسحاق کے پنڈی سازش کیس اور کشمیر کے حوالے سے ہمارے شروع کی حکومتوں کی پالیسیوں کی تصویریں..... ایک شہادت ہیں۔ ایسی تاریخ کی شہادت جو سامنے ہونے کے باوجود اوجھل ہے۔ واقعی ایک نہیں ..... یہاں کئی شہادتیں ہیں..... جو سند کا درجہ رکھتی ہیں جو ہمارے مورخ کے لیے سیاسی یا ادبی تاریخ مرتب کرتے وقت مددگار ہو سکتی ہیں۔ یہ ہیرے جواہرات ہیں۔ جواہر پارے ہیں۔ جو لگ بھگ آدھی صدی پر محیط رسائل و اخبارات میں پڑے کرم خوردگی کا شکار ہونے کو تھے کہ میں نے انہیں چن لیا اس لیے کہ تخلیقی سطح کے یہ جواہر پارے اپنی تکمیل چاہتے تھے۔ یہ تکمیل، احمد بشیر کی تھی۔ اس کی ذات کی، اس کے ہنر کی، اس کی لاپروائی کی، اس کی پیشن گوئیوں کی۔ بہت سی پیشن گوئیاں سچ ثابت ہو چکی ہیں۔ بات سی ہو رہی ہیں۔ اور بات سی ہونے والی ہیں (خدا نہ کرے کہ قحط والی پیش گوئی پوری ہو لیکن جن حالات کی بدولت اس نے یہ پیش گوئی کی تھی وہ ہر لمحہ اسی سمت جا رہے ہیں) نہ آبادی کا زور ٹوٹا ہے نہ انتشار کا، سرمایہ چند لوگوں میں منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔ اور وائٹ کالر لوگ بے حدبے حد مشکل حالات میں جی رہے ہیں۔ آلودگی اور شور جیسے چھپے  دشمنوں کے لیے باقاعدہ ایک محکمہ تو ہے مگر لوگوں کو اس سے نجات دلانے کے لیے نہیں .....کھانے پینے اور پلانے کے لیے۔

    احمد بشیر چاہتا ہے کہ سب درست ہو جائے..... ایک نئی صبح  طلوع ہو۔ جس کی حرارت کم از کم عید کے آغاز جیسی ہو۔ زیادہ سے زیادہ ’’لوگ‘‘ کچھ نہ کچھ لے سکیں..... خواہ ایک صاف ستھرا سانس ہی سہی۔

    اس کی کتاب میں نے مرتب کر لی تو وہ معصوم بچوں کی طرح کھل کھل گیا اس کی خوشی اس کے وجود میں سما نہیں رہی تھی۔ بار بار اس نے مجھے چوما، پیار کیا اور اپنی ذات کا ایسا نرم اور مہربان گوشہ بھی میرے سامنے رکھ دیا۔

    لیکن ہوا یوں .....کہ کتاب کے چھپتے ہی اس پر واجب القتل کے فتوے صادر کر دیئے گئے اور بہت شور مچنے  لگا۔ ہا ہا کار مچ گئی۔ مگر اس کے چہرے کی مسکراہٹ زیادہ گہری ہونے لگی ..... اس کا کہنا تھا کہ اگر سچ  کہنے پر قتل کے قابل ہوں .....تو حاضر ہوں ..... مگر وہ زندہ ہے اور ابھی تک کھلنڈروں کی طرح مچل مچل کر تمام فتوے دہراتا ہے اور کہتا ہے سچ کو آنچ نہیں ہے حالاں کہ

    سچ کو آنچ نہیں ہے لیکن ۔سچ  کہنے والوں نے آخر

    یا تو زہر کا گھونٹ پیا ہے، یا جلتے انگارے کھائے

    حواشی

    ا۔ ٹلہ جوگیاں جہلم کے قریب ایک چھوٹی سی پہاڑی پر ایک ڈیرہ ہے جس میں اب الوبولتے ہیں۔

    ہندو جوگیوں اور فلسفیوں کا یہ ادارہ کم و بیش اڑھائی ہزار سال پرانا ہے۔ اس کا تسلسل کبھی نہیں ٹوٹا۔ مگر ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کی تخلیق کے بعد علم و دانش کا یہ مرکز کانگڑہ میں منتقل ہو گیا اور اب وہیں قائم ہے یعنی اس کا مقام تبدیل ہوا مگر اس کا تسلسل اب بھی نہیں ٹوٹا۔

    اس ادارے سے بہت سی دیو مالائی اور تاریخی کہانیاں وابستہ ہیں۔ راجا رسالو بھی یہاں کے رہنے والے جوگیوں سے آشیر باد لینے کے لیے آیا۔ سکند راعظم نے بھی ان سے ملاقات کی، یوگا بھی انہی کی ایجاد ہے اور نجوم اور آریو ویدک اور اسی قسم کے قدیم علوم کو بھی یہیں ترقی ملی۔ سنسکرت کے ودوان بھی یہیں مستند ہوئے۔ تنفس اور رومانیت کے باہمی ربط پر تجربات بھی انہی جوگیوں نے کیے۔ یہ جوگی روایتی اور متعصب ہندو نہیں تھے۔ فلسفی اور گیانی تھے۔ اور پنجاب کی قدیم تاریخ، جس کا مرکز پوٹھوار تھا، ٹلہ جوگیاں سے گہری نسبت رکھتی ہے۔

    بدھ مت کے عروج اور اشوک کے مہاین (ایک بدھ تحریک) کے باوجود یہ مرکز قائم رہا۔ جوگی جب کانگڑہ منتقل ہوئے تو اپنا تاریخی لڑیچر ساتھ لے گئے۔ اس میں سنسکرت، پالی اور پشائچی (پنجابی کی ابتدائی شکل) کی تصنیفات بھی شامل تھیں۔اور علوم کی رنگا رنگی کا بھید تو کسی کو معلوم نہیں۔

    افسوس کہ ان کھنڈروں کا پنجابیوں اور پاکستانیوں کو کچھ علم نہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ بھی ان کی مرمت کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ آئندہ چند سالوں میں یہ خاک کی ڈھیری ہو جائے  گا۔ اور افسانے گم ہو جائیں گے۔

    آج کل رسمی طور پر یہاں محکمہ جنگلات کا ایک ریسٹ ہاؤس قائم ہے مگرکوئی رات نہیں گزارتا۔

    واقعات تو بہت ہیں مگر روایات کا ذکر بر محل ہے اول خواجہ معین الدین چشتی جب پنجاب میں تبلیغ اسلام کے لیے آئے تو انہوں نے ٹلہ جوگیاں کے گرو سے مکالمہ کیا مگر انہیں اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہ کر سکے۔

    دوم ۔ وارث شاہ نے میاں رانجھا کو کسی مسلمان بزرگ کے مزار پر بھیجنے کی بجائے ٹلہ جوگیاں بھیجا وہیں سے انہیں برکات حاصل ہو ئیں اور رانجھا یہیں سے کان چھدوا کر جوگی ہوا۔ (یونس جاوید )

      ۲ ۔ احمد بشیر کے لیے احترام کا تقاضا تو یہی تھا کہ میں ان کا ذکر ہر جگہ صیغہ جمع میں ہی کرتا مگر جانے کیوں قلم سے کہیں ان کے لیے ’’اس‘‘ اور کہیں ’’ان‘‘ نکلا اور میں نے اصلاح کی ضرورت نہیں سمجھی۔ (یونس جاوید )