یونس جاوید

یونس جاوید

لاہور کا دروازہ

    لاہور کا دروازہ

    بابا یونس ادیب لاہور کا چودہواں دروازہ ہے اور باقی سب دروازوں سے زیادہ معتبر اور باوقار کہ اس سے گزرے بغیر کوئی بھی شخص اصلی اور نرول لاہور کی شبیہہ دیکھ  سکتا ہے نہ داستان قسم کے محلوں کے ورق الٹا سکتا ہے۔ یہ چودہواں در، دکان شیشہ گراں کی طرح ہے۔ آدمی حیرت کدے میں آجاتا ہے۔ دکان کی حسن کاری اپنی جگہ، مگر بابا کے آئینہ خانے میں  آدمی  اپنی پرتیں کھلتی دیکھ کر سحر زدہ ہو جاتا ہے۔ جب کبھی بابا کی ذات یکجا ہو تو آدمی کو کیسے باکمال سے واسطہ پڑتا ہے جو نازک چوب کار بھی ہے اور ہتھوڑا مار کہ لوہار بھی۔ وہ کہیں باریک نگینوں کو کومل لفظوں میں جوڑتا چلا جاتا ہے اور کبھی ایک ہی وار سے سب کچھ ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ دوسرے کا چھابا لگاتا بھی ہے..... الٹا بھی دیتا ہے۔ لہٰذا لاہور کا سب سے زیاده زنده در..... جو ہر لمحہ وا رہتا ہے یونس ادیب ہے جسے ہم سب پیار سے بابا جی کہتے ہیں۔ اس کی پہلودار اور بھرپور شخصیت میں تہہ در تہہ پرتیں ہیں مگر سب پرتوں میں خون ایک ہے۔ انہی پر توں پر  بابا نے دوستوں، دشمنوں، پیروں، فقیروں، راہ گیروں، مزاروں، گلی محلوں اور دیگر بابوں کے نام کندہ کر رکھے ہیں۔ بابا جس کا دوست ہے بس اس کا دوست ہے۔ مگر جس کا   دشمن ہے اس کا کھلا دشمن ہے۔ صاف صاف اوپن..... ڈر نہ خوف، لحاظ نہ شرم .....ٹوپی ڈراما  نہ منافقت..... اس کا چہرہ سدا ایک ہے۔ البتہ جذبوں کی لہریں ہر ایک کے لیے الگ الگ ہیں تاہم چہرے پر دوسری تہہ نہیں ہے۔ اس لیے دشمنی میں وہ اس قدر کھلا ڈھلا دشمن ہے کہ لمحے بھر میں لاس اینجلس کی طرح پھٹ پڑتا ہے۔ چھپانا چاہے بھی تو نہیں چھپا سکتا۔

    کھلی محبت سمندر جیسی..... اور کھلی ڈھلی نفرت اس کا اثاثہ  ہے۔ وہ تو انا جذبوں کا آدمی ہے، محبت کرتا ہے تو دوسرے کو چوم چوم کر دل میں رکھتا ہے، نفرت پر آ جائے تو ماں بہن ایک کر دیتا ہے۔ یہ اس کی ادا نہیں ہے بلکہ حقیقت پسندی اور عدل کا توازن ہے۔ وہ ڈنڈی نہیں مارتا.....  یہی وجہ ہے کہ جس سے وہ نفرت کرے اس کو شاید ہی کوئی گلے لگائے کیوں کہ وہ شخص یا نظریہ ..... قابل نفرت نہ سہی قابل مذمت ضرور ہوتا ہے اور اس کی جنگ تو نظریات کی جنگ ہے۔ عدل، انسان دوستی، یا حقوق کی پامالی پر وہ سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یہی  بابا کی خوبی ہے یہی  خوشبو ..... یہی  ادب ، یہی  دوستی، یہی مروت، یہی  انسانیت۔ انسانیت کے لیے وہ زمانے بھر کے دھتکارے ہوئے لوگوں میں بیٹھنا اٹھنا اپنی معراج سمجھتا ہے ..... سمجھتا ہی نہیں..... انہی لوگوں میں جیتا جاگتا ہے۔ ان کے دکھ درد بانٹتا ہے خواہ اس کے لیے اسے دوسروں کے سامنے جھولی پھیلانی پڑے ،چندہ کرنا پڑے ،ساغر صدیقی کے ساغر میلے سے کسی بیوہ کی شادی تک اسے کتنے بھی پاپڑ بیلنے پڑیں، بیلتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بابا ان دنوں جوان ہو جاتاہے، لگتا ہے اس نے نیا جنم لے لیا ہے۔ دن، دوپہر، رات اس پر ایک ہی دھن سوار ہوتی ہے مگر وہ کام کی زیادتی سے ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے اور محبت بانٹتا رہتا ہے۔

    محبت کی یہ خوشبو پہلی بار مجھے بھی بابا یونس کے گھر سے ہی نصیب ہوئی  تھی..... بہت مدت پہلے..... جب میں اندرون شہر مسجد چینیاں والی میں قرآن پاک حفظ  کرتا تھا۔ رہائش اچھرہ میں تھی..... اندرون شہر اور اچھرہ کے درمیان انار کلی تھی  جہاں والد صاحب کا کاروبار تھا۔ صبح  ایک آدمی مجھے مسجد پہنچا  آتا اور عصر کے بعد  انار کلی دکان پر چھوڑ دیتا۔ دکان چوں کہ سٹیشنری کی تھی، عمدہ اور اعلیٰ درجے کے قلم بھی خصوصی طور پر ہمارے ہاں ملتے تھے۔ لہٰذا وہی .....اہل علم اور اہل قلم کی آمد کا وسیلہ  تھے۔ بڑے بڑے شاعر ادیب اساتذہ جنہیں میں جانتا نہ تھا مگر پہلی مرتبہ دیکھا اپنی دکان پر ہی تھا۔ فیض احمد فیض، حفیظ جالندھری، عابد علی عابد، ڈاکٹر سید عبداللہ،  ڈاکٹر محمد باقر ،علم الدین سالک اور کچھ دوسرے اہل علم اس وقت مجھے یاد آرہے ہیں۔ شاید اس لیے کہ انہیں کئی کئی مرتبہ دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ خود والد صاحب کو اعلا اور عمده قلم جمع کرنے کا شوق تھا۔ مونٹ بلانک، پار کر ڈو فولڈ، پارکر وی ایس، پار کر سینئر، پارکر جونیئر، پارکر ا ۵، ٦١ ایور شارپ اور شیفر لائف ٹائم گارنٹی والا اپنے والد صاحب ہی کے توسط سے مجھے ملے اور میں نے انہیں استعمال بھی کیا، اور یہی  قلم کا رشتہ مجھے کتابوں سے قریب لے گیا۔ مسجد سے دکان پر آتا تو بالکل ساتھ رسائل و جرائد کی دکان تھی (کاشانۂ ادب) جو وقت ملتا ورق الٹا تا.....  پڑھنے کی کو شش کر تا۔ انہی دنوں کا ایک واقعہ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ایک نوجوان لمبے  بال، کرتہ پاجامہ، صاف ستھرا سوئیٹر ،ہاتھ میں رسالہ ادب لطیف کا تازہ سالنامہ لیے کاشانۂ ادب والے مولوی سے مخاطب ہوا۔ ’’خریدیں گے ؟‘‘

    مولوی صاحب نے سالنامہ الٹ پلٹ کر دیکھاقیمت تین روپیے درج تھی۔ انہوں نے جھٹ جواب دیا ”بارہ آنے۔‘‘ وہ شخص بھی مختصراً بولا۔ ’’ایک روپیہ۔‘‘ جواب میں مولوی صاحب نے نفی میں سر ہلایا تو وہ پراسرار شخص چوک کی طرف چلا گیا۔ مولوی صاحب نے مجھے مخاطب کر کے بتایا۔ ’’جانتے ہو یہ شاعر ہے۔‘‘

    ’’شاعر؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’ ہاں.....“ وہ بولے۔ ”اس کا نام ساغر صدیقی ہے۔‘‘

    میں ابھی جذبوں کی زبان نہیں سمجھتا تھا مگر جس مایوسی سے اس شخص نے رسالے کو بغل میں دبا کر اور انا بچا کر پھیکی مسکراہٹ سے میری طرف دیکھا تھا..... یہ سن کر کہ وہ شاعر تھا مجھے پہلی مرتبہ اپنے اندر سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ چھوٹے موٹے رسالے خریدنے کا چسکا پڑ چکا تھا۔ حتیٰ کہ فارسی کا رسالہ ’’ہلال“ جو آٹھ آنے میں ملتا تھا اور بے حد خوبصورت ہوتا تھا،  میں اس کی خوب صورتی کی بدولت خرید لیا کرتا تھا..... سو میں لپک کر گیا اور ساغر صدیقی کو جا لیا اور فوراً  کہا۔ ”ایک روپیہ مجھ سے لے لیجئے۔‘‘ ساغر نے پھیکی مسکراہٹ سے رسالہ میری طرف بڑھا دیا اور روپیہ  لے کر بے دلی سے مڑ گیا۔ وہ سال نامہ آج بھی میرے پاس کہیں رکھا ہو گا۔

    اس واقعے کو واقعہ معترضہ سمجھ لیجیے۔ مقصود یہ تھا کہ چھپے ہوئے لفظ سے دلچسپی  توتھی، سمجھ نہ تھی۔ البتہ دکان پر آنے جانے والے پروفیسرز کی زبانی میں نے بھی یہ سن لیا کہ دکان سے دو تین سو گز دور اورینٹل کالج میں کوئی ادبی محفل جمنے والی ہے۔ میں بھی ڈرتے ڈرتے وہاں پہنچ  گیا۔ ایک تحیر نے مجھے آن گھیرا تھا۔ ایک خواب کی سی فضا تھی، مجھے یاد ہے کہانی اے حمید کی تھی اور غزل شہرت بخاری کی۔ اے حمید نے مفلر گلے کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ اس کے بال بے حد خوبصورت لگ رہے تھے اور کہانی پڑھتے ہوئے وہ شہزادہ سا لگ رہا تھا۔ کچھ کہانی کی فضا سحر انگیز تھی، کچھ میرا تحیر پھیل گیا تھا سو کہانی کے حسن، منظر نامے اور مکالمے کا ہر ہر لفظ میرے دل میں کھب رہا تھا۔ لگتا تھا میرا دل خشک سپنچ   کی طرح ہے کہ سحر کی نمی   میں ڈوبے ہر لفظ کو پھیل کر اپنے اندر جگہ دے رہا تھا یا جادو تھا جو سر چڑھ کر بول رہا تھا میں ہی نہیں سب سحر زدہ تھے۔ کہانی ختم ہوئی تو ایک دبلا پتلا سمارٹ سا جوان اٹھا اور صدر کی اجازت سے کہانی پر گفتگو کرنے لگا۔ نوجوان آدمی تھا مگر انداز مدبرانہ تھا۔   دلیل سے دلیل جڑی چلی جا رہی تھی۔ جملوں کی ترتیب ایسی بے ساختہ تھی کہ میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی سمجھ رہا تھا۔ آواز کی گھمبیرتا الگ..... شاید تخلیقی تنقید کی یہ پہلی جھلک تھی جو میں نے سنی۔ بعد میں معلوم ہوا یہ شخص یونس ادیب ہے پھر پروگرام کے مطابق غزل شہرت بخاری نے کھنک دار ترنم سے پڑھی۔ دو شعر نہیں بھولے۔

    دھوپ کتنی کڑی ہے کیا ہو گا

    راه ساری پڑی ہے کیا ہو گا

    دن تو جوں توں گزر گیا شہرت

    رات ساری پڑی ہے کیا ہو گا

     خیر بات یونس ادیب کی تھی۔ میں اس کی پہلی جھلک اور گفتگو سے مرعوب ہو گیا۔ دل میں جہاں کہانی لکھنے کی خواہش نے سر اٹھایا، یہ بھی دل چاہا کہ کاش میں اس طرح بول سکوں؟ تجزیہ کر سکوں۔ اب یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ اے حمید کی کہانی کا جادو تھا یا یونس ادیب کی گفتگو کی حرارت کہ میرے راکھ ایسے دل میں بھی چنگاری پھوٹ پڑی ..... راکھ ایسا دل اس لیے تھا کہ اب تک گھر میں ناول، افسانہ، شاعری ،ڈراما کا داخلہ ممنوع تھا۔ ریڈیو سننے کی مناہی تھی، اس لیے خریدا ہی نہیں گیا تھا۔ رسائل چھپ چھپا کر دیکھ لیتا تھا۔ بعض اوقات لحاف کے اندر ٹارچ جلا کر بھی پڑھا اور گرمیوں میں چاند کی روشنی میں بھی۔ کیا جنون تھا۔

    ابا جی چاہتے تھے میں مذہبی عالم بنوں خواہ مجھے جامعہ ازہر ہی کیوں نہ بھجوانا پڑے۔ شاید ان کی اس شدید خواہش اور کتابوں سے دور رکھنے کے جبر نے ہی مجھےکتابوں  کے درمیان لا کھڑا کیا۔ مگر میں سمجھتا  ہوں یہ ایک وجہ ہوگی، اصل میں تو اے حمید کی کہانی، شہرت کی غزل ،یونس ادیب کی گفتگو  نے ہی مجھے کتابوں کی دنیا دکھائی اور میں مسجد میں دوپہر کی چھٹی میں کتابیں پڑھنے لگا اور جو پہلی کتاب ہاتھ لگی وہ میرزا ادیب کی ’’صحرا نورد کے خطوط‘‘ تھی جو فینٹسی ہونے کے باوجود ادیب ساز کتاب ہے کہ کتابوں سے گہری دلچسپی  اس کتاب نے بعض لوگوں میں پیدا کی۔ بات پھر دور نكل گئی۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ یہ جو یونس ادیب نے ’’میرا شہر لاہور‘‘ لکھی ہے تو یہ صرف اس کا شہر نہیں ہے، تھوڑا سا میرا بھی ہے کہ میں نے بھی کئی سال چینیاں والی مسجد میں قرآن پڑھا ہے۔ انہی  گلیوں، بازاروں میں تھڑوں پر بیٹھ کر کتابیں پڑھی ہیں اور دوپہر کی چھٹی میں دکانوں پر بجنے والے ریڈیو سے سنگیت سنا ہے۔ لہٰذا جب میں اس کتاب کو پڑھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے یہ میرا شہر ہے۔ وہی فضا، وہی بازار، وہی گلیاں، چوبارے، وہی مکان، وہی مکین۔ حالاں کہ یہ سب یونس ادیب کا اسلوب ہے کہ میں اپنے بچپن  کی فضا میں سانس لینے لگتا ہوں ورنہ کیا کچھ نہیں بدل گیا اس شہر کا،  حتیٰ کہ قدریں بھی۔

    یونس ادیب سے میرا دوسری مرتبہ آمنا سامنا اس دن ہوا جب میں اورینٹل کالج کی بزم ادب میں بہ نفس نفیس زندگی کا پہلا افسانہ سنانے کے لیے ڈائس پر آیا۔ اس کو سامنے دیکھا، کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ یا اللہ خیر۔ یہ شخص تو پرخچے اڑا دے گا۔ میں ان دونوں اورینٹل کالج میں ادیب عالم میں داخلہ لے چکا تھا۔ ہر چند کہ قرآن پاک قریب الاختتام تھا اور مجھے ساتھ ساتھ اسے بھی مکمل کرنا تھا۔ تاہم داخلہ ملتے ہی میں نے اپنے خواب کی تکمیل میں ٹوٹے ٹوٹے جوڑ کر کئی دنوں کی محنت سے افسانہ لکھا تھا۔ سارا اسلوب اور منظر نگاری اے حمید کے تتبع میں تھی۔ محاذ جنگ پہ  ایک انسان لڑتے ہوئے دم توڑ رہا ہے اور پیچھے اس کی محبوبہ تصویریں سامنے رکھے خواب بن   رہی ہے۔ شاید یہ جنگ کی آلودیوں کے خلاف میرا پہلا احتجاج تھا مگر یہ یونس ادیب کیوں آ گیا تھا یہاں....؟ ڈرتے ڈرتے میں نے افسانہ شروع کیا اور سردی کے باوجود   پسینے میں بھیگنے لگا کہ اچانک یونس ادیب نے سکڑا ہوا مفلر کھول کر دوباره گردن کے  گرد لپیٹا اور کسی دوست کے ساتھ باہر نکل گیا۔ زندگی میں پہلا افسانہ..... یونس ادیب کی موجودگی پہلی پریشانی..... اور اس کا کمرے سے اس طرح اچانک نکل جانا .....سکھ اور اطمینان کا ایسا پرسکوں لمحہ شاید پھر کبھی نہیں ملا۔ لہٰذا سکھ کا پہلا لمحہ بھی وہی تھا کہ مزہ   آگیا۔ میں نے اعتماد سے افسانہ پڑھا ،افسانہ طویل تھا۔ جب ختم ہوا صدر نے تنقید کی دعوت دی تو یونس ادیب کی گرج دار آواز نے کلیجہ ہلا کر رکھ دیا۔ زبان خشک ہو گئی اور دل اداس۔ میں اپنی سیٹ پر واپس آیا۔ ساتھ بیٹھے کسی شخص نے مجھے سگریٹ آفر کیا ،جو بلا جھجک میں نے لے لیا، سلگایا اور زندگی کا پہلا کڑوا کش اناڑی طریقے سے لے کر کھانسا، یونس کی آواز پھیل رہی تھی مگر مجھے سنائی نہ دے رہی تھی۔ اب جو ہمہ تن گوش ہو کر غور کیا تو حیرت سے انبساط تک کی منزل طے ہو گئی۔ دل محبت سے پھیلنے لگا اور ہونٹ مسکراہٹ کے انداز میں کشادہ ہوتے چلے گئے۔ حیرت یونس کے تجزیے پر تھی۔ مسرت بھی اس پر مسرت و انبساط کا یہ لمحہ یونس ادیب کی جادو جگاتی ہوئی گفتگو کی وجہ سے تھا۔ وہ خلاف توقع افسانے کی بنت، کہانی کے اتار چڑھاؤ، زبان، منظر نگاری سب کی تعریف میں بول رہا تھا۔ اس نے نہایت سلجھے ہوئے طریقے سے تنقید کی کہ مجھے زندگی کا پہلا اعتبار بخش دیا۔ یونس ادیب خاموش ہوا تو ہر طرف سے سامعین نے اس کی تقلید اور کہانی کی تعریف کی کہ گویا میرے وجود کی توثیق کر دی۔

    تیسرا موقع تب آیا جب میں وسن پورہ کے دور دراز علاقے میں کسی رسالے کے دفتر پہنچا۔ میں اس وقت یونس جاوید کے بھائی کی حیثیت سے یونس جاوید کا خط لے  کر گیا تھا تا کہ اپنے بھجوائے ہوئے افسانے کے بارے میں جواب حاصل کر سکوں اور انا بھی مجروح نہ ہو، مگر داخل ہوا تو لمحے  کے سوویں حصے میں ریت کی طرح بکھر گیا ۔  اڈیٹر کی کرسی پریونس   ادیب بیٹھا تھا۔ اس نے عینک کے موٹے شیشوں میں سے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور عزت سے بٹھایا۔ پھر چائے پلائی افسانہ نکال کر جلد جلد پڑھا اور پھر مجھے افسانے کو بنانے سنوارنے کے متعلق کچھ اس طرح کے مشورے دیئے کہ مجھے اپنے لکھے پر ندامت ہونے لگی مگر اس نے مجھے بے حد پیار سے سمجھایا اور وعدہ لیا کہ افسانہ درست کر کے میں اسے پہنچا دوں گا۔ اس نے ہنر مندی کی باتیں بتائیں، حوصلہ دیا، ہمت بڑھائی اور بگلے کا سگریٹ پیش کرتے ہوئے بولا۔ ’’لکھنے کے لیے اعلیٰ سگریٹوں کی ضرورت ہے نہ عمدہ قلم کی، سگریٹ بگلے کے پیو اور لکھو کچی پنسل سے مگر لکھوایسا کہ پڑھنے والا تمہارے لفظوں کوتعظیم دے کر تمہاری تخلیق کو مکمل کرے۔‘‘ شاید یونس ادیب نے میرا شیفر کا قلم دیکھ لیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بابا کو بھی میری طرح ہی اعلیٰ قلم رکھنے کا جنون ہے مگر وہ لکھتا معمولی قلم سے ہے۔ میں یونس ادیب کی باتوں سے پہلے دل برداشتہ ہوا مگر رفتہ رفتہ واپسی پر جوں جوں غور کیا یہی  لگا کہ اس نے ایک مرتبہ پھر میرے اندر تحرک پیدا کیا ہے۔

    جب میں اپنے لکھنے کے آغاز کے بارے میں سوچتا ہوں تو ہر چند کہ اے حمید کے افسانے کا جادو، شہرت کی غزل، میرزا ادیب کی کتاب ’’صحرا نورد کے خطوط‘‘ اور دوسری کچھ کتابیں درمیان میں پڑتی ہیں مگر یہ اعتراف کرنے میں کیا حرج ہے کہ یونس ادیب کے تجزیاتی مشوروں اور کبھی ہیرو اورکبھی زیرو بنا دینے والی گفتگو نے میرے اندر لکھنے کی تڑپ کو الاؤ بنا دیا۔ آج بھی بابا کی ہر بات کو غور سے سنتا ہوں، اس کا تجزیہ کرتا ہوں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ بابا کوئی عام بابا نہیں ہے۔ کبھی صوفی کبھی رند، کبھی درویش کبھی قلندر اور کبھی کبھی فقیر کے روپ میں اس کی باتیں اقوال کی   صورت اختیار کرنے لگتی ہیں۔ اس کا چہرہ بھی راہ رو بھی راہ نما بن کے پھیل جاتا ہے اور وہ سب محبتیں دوسروں پر نچھاور کر دیتا ہے۔ وہ سیاست پر گفتگو کرے، ادب پر بولے یا بغیر کسی موضوع کے چھڑ جائے، اس کی کھنک دار آواز، اس کا گھمبیر لہجہ اور اس کا انداز بعض لوگوں کے لیے کڑوا ضرور ہو گا مگر سچائی کی دمک کو آپ کھرچ کر علیحدہ نہیں کر سکتے کہ جدوجہ، تپسیا، صعوبتیں اور زندگی کی اجلی میلی حقیقتوں نے اسے ہر دو طرف سے خرچ کرنے کی کوشش کی ہے مگر یہ بابا کی ill W ہے کہ وہ غم زدہ کر دینے والے المیوں، حالات کے تھپیڑوں اور ان تھپیڑوں سے ملنے والی بیماریوں کے ساتھ لڑتا بھڑتا.....جی رہا ہے..... مسکرایا رہا ہے ..... سمندر میں ڈٹی نوکیلی چٹان کی طرح.....!