یونس جاوید

یونس جاوید

چراغ آخر شب

    چراغ آخر شب

    انہوں نے من بھر کا گٹھڑ میرے سامنے لڑھکایا اور تیزی سے بولیں :’’ اٹھاؤ، پہنچاؤ۔‘‘

    ’’میں ..... اکیلا؟“ رک کر میں نے کہا : ”اٹھا لوں گا میں؟‘‘

    ’’ ایسے وقت میں آدمی پہاڑ اٹھا لیتا ہے۔ تجھے احساس ہی نہیں اس کا.....اٹھا!‘‘

    ’’اماں.....!“ میں منمنایا۔

    ’’خبردار جو ایک لفظ بھی کہا!  آگے بڑھو۔‘‘ مجھے گھورتے ہوئے بولیں۔ ’’گھر میں آ گ لگی ہو تو کمسن جوان اور جوان نوجوان ہو جاتے ہیں۔ اور ہو رہے ہیں۔ تم کس مٹی کے بنے ہو کہ جہاد نے تمہارے اندر تھر تھری تک پیدا نہیں کی؟ بائیسویں میں جا رہے ہو۔ تمہیں تو.....‘‘

    میں نے پورا زور لگا کر گٹھڑ اٹھایا تو اماں رک گئیں مگر جب گٹھڑ کندھوں تک پہنچایا تو وہ گر پڑا۔ تب ماں نے بات بدل دی..... ’’اچھا .....یوں کرتے ہیں ایک کے دو بنا لیتے ہیں .....‘‘ وہ جلدی جلدی پرانے کپڑوں اور کچھ نئی چیزوں کے پیکٹوں کو آدھا آدھا کر کے دو گٹھڑیوں میں باندھنے لگیں، مگر ان کی زبان رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

    بولیں۔ ’’تمہارے دادا انچاس برس کے تھے کہ دنیا چھوڑ گئے..... ریلوے کے بڑے افسر..... ساتھ زمینداری بھی تھی، اسی لیے حلال کھا کر جائیداد بنائی، عزت کمائی، مگر خدمت کو عظمت سمجھا۔ مسجد مبارک میں جمعہ کا خطبہ بھی دیتے تھے، افسری بھی کرتے تھے۔ اور لوگوں کے لیے ان کے پاس سبھی کچھ تھا۔ وقت بھی، پیسہ بھی۔

    ”اماں! وہ خطبہ مسجد میں دیتے تھے اور افسر بھی تھے؟‘‘ مجھے حیرت ہو رہی تھی۔

    ’’ان دنوں یہی رواج تھا۔ شرفا فخر سے اپنے محلے کی مسجد میں امامت کرتے تھے۔ ہمارا گھر بھی تو مسجد مبارک کے پاس تھا نا.....‘‘ وہ کچھ سوچ کر بولیں.....’’ جیسے غلام رسول مہر ہمارے محلے کی مسجد احمد علی میں امامت کراتے تھے۔ اے جی آفس کے سب سے بڑے افرنہ سہی مگر دوسرے نمبر پر ضرور آتے تھے۔ یا پھر.....‘‘ انہوں نے کئی شرفا کے نام گنوا دیے۔

    ’’پتہ نہیں ..... میں تو نانا کو جانتا ہوں..... جو یہ سب کرتے رہے ہیں۔‘‘ میں نے بڑبڑاہٹ کے انداز میں کہا۔

    جلدی جلدی انہوں نے دو گٹھڑ بنا لیے۔ تب سائرن ہو گیا اور وہ مجھے کھینچ کر چوکھٹ کے بالکل نیچے لے گئیں۔ یہ ستمبر ۱۹۶۵ ء تھا۔ سائرن کلیئر ہوا تو دوباره کھینچ  کر باہر لے آئیں اور بولیں : ”ہندو سے پالا پڑا ہے بچے! ذرا سی سستی الٹ پلٹ کر سکتی ہے۔ پتہ ہے تمہارے نانا نے تحصیل داری چھوڑ دی تھی۔ شملے میں تھے، ہندو افسر سے لڑ پڑے کہ اس نے مسلمانوں کے نام پر پھبتی کس دی تھی۔ بس عمر بھر کے لیے لوٹ آئے۔ مفت بچے  پڑھائے، مگر نوکری کو غلامی سمجھا کہ ہندو تھا یا انگریز..... چلوفی  الحال تم یہ گٹھڑیاں پہنچاؤ.....میرے پاس وقت کم ہے۔‘‘

    یہ کپڑے پرانے تھے جو لاہور کے سرحدی دیہات سے آئے ہوئے لوگوں کے لیے تھے اور نئی اشیاء کے پیکٹ محاذ پر لڑنے والے مجاہد فوجیوں کے لیے۔ آج ٩ ستمبر تھا۔ ان کے لیے عید کی سی گہما گہمی تھی۔ سائن ہوتا تو مجھے اور بہن  کو کھینچ کر کسی نہ کسی دروازے کے عین نیچے کھڑا ہونے کی ہد ایت کرتیں اور کہتیں : ’’جان بچانا جہاد ہی کا حصہ ہے، خبریں سنتیں، ترانے پر سر دھنتیں، مجاہدوں اور فتح کے لیے دعائیں مانگتیں، اور آسمان پر ہوائی جہازوں میں(ایک مرتبہ) ہوتی ہوئی جنگ کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ حکم دیا کہ آئندہ تم باہر نہ نکلنا مگر خود دیکھنے کے لیے چھت پر جا پہنچیں۔ ان کے لیے یہ معمولی تھا۔ بقول ان کے ،انہوں نے انگریزوں اور جرمنوں کی جنگ دیکھی سنی تھی۔ کہنے لگیں :’’ میں تو یہ دیکھتی ہوں کیا سچ مچ ہندو لڑنے آجاتا ہے۔ ضرور ان میں سکھ اور ڈوگرے زیادہ ہوں گے۔ ‘‘پھر کسی نے انہیں ۱۹۴۷ ء کا ذکر کر کے یہ باور کرا دیا کہ اگر خدانخواستہ یہ حملہ آور شہر میں داخل ہو گئے تو بالکل ۴۷ ء کی طرح جوان لڑکیوں کی خیر نہیں ..... اس بات سے فکر مند ہو گئیں۔ ۱۰ ستمبر کو مجھے اور والد صاحب کو چھوڑا، رخت سفر باندھا اور جن جن گھروں میں کوئی لڑکی جوان تھی اس کی ماں سمیت سب کو تیار کیا اور اپنی بیٹی سمیت ملتان چلی گئیں مگر پھر خود ہی سب کو سمجھا کر تیسرے چوتھے دن لوٹ آئیں۔ بولیں : ’’مجھے یقین ہے وہ شہر میں داخل نہیں ہو سکتے اور پھر ملتان اور لاہور بلکہ دنیا اور کائنات کا خدا ایک ہے..... تو پھر ڈریں کیوں؟ بالفرض محال اگر قبضہ ہونا ہی ہے لاہور پر..... میرے منہ میں خاک..... تو میں اپنی جان کا اچار ڈالوں گی؟ سب اکٹھے قربان کیوں نہ ہوں؟ کیا خبر شہادت کا درجہ مل جائے اس قربانی کو ؟‘‘

    جنگ زوروں پر تھی۔ سارے محلے کے بچے، بوڑھے، جوان ایک مخصوص بیٹھک میں سرشام جمع ہو جاتے۔ پھر کرفیو اور بلیک آؤٹ میں لہو گرمانے والے قصے دہراتے، باتیں ہوتیں..... بیچ میں ریڈیو جس پر گہرا سبز کپڑا ڈالا ہو تا تاکہ روشنی کی کوئی کرن باہر نہ نکل سکے۔ اماں بار بار چائے کے پتیلے بھجواتیں، ساتھ میں کچھ نمکین یا میٹھا..... گرما گرم چائے سے اس مورچے کو زندہ کر دیتیں۔ یوں لگتا ہم محاذ پر ہیں اور وہ ہماری معاونت کر رہی ہیں۔ اونچ نیچ ختم ہو چکی تھی، نورانی سٹریٹ کے چوکیدار سے اعلیٰ ترین آفیسر تک سب یہاں جمع تھے۔ میں نے یہ منظر زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا (اور شاید آخری مرتبہ  بھی)  اتنا اتفاق، اتنی  یگانگت، اتنا اتحاد، اس قدر مروت..... اور پھر جوش جہاد، جذبہ، عشق بلاخیز کا قافلہ سخت جاں..... ایک یہاں دوسرا وہاں..... محاذ پر..... اسی محاذ کے قصے،   واقعات، خبریں، ترانے، تبصرے دل کی رگ رگ میں سما کر جان ہو ہو جاتے تھے۔ رات ایک بجے کے بعد سب گھروں کو لوٹتے،  اکثر اماں جانماز پر دعا مانگ رہی ہوتیں۔ کہتیں  جہاد میں جو کر سکتی ہوں وہ تو کرنا چاہیے نا!

    میری ماں چٹی ان پڑھ ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جس قدر مقولے میں نے ان سے سنے ہیں شاید ہی کسی سے سنے ہوں، فارسی، پنجابی، اردو .....ہر طرح کا مقولہ..... جو میرے بہت کام آئے، اب تک آرہے ہیں۔ ہاں یاد آیا وہ ’’صرفہ‘‘ بہ  معنی بچت، اکثر پنجابی میں استعال کرتی تھیں۔ ایک روز غالب کے ہاں صرفہ   بہ معنی بچت ، اور وہ بھی شعر میں، ملا تو مجھے بڑا مزہ آیا۔

    اس سے بہت پہلے اصل مزہ تو اسی دن آیا جب مجھے سینٹ فرانسس اسکول سے دوسری جماعت سے اٹھا لیا گیا۔ ماں سمجھی کہ اب میں اچھرہ کے کسی اسکول میں پڑھوں گا اور زیادہ وقت ان ہی کے پاس رہوں گا، (سینٹ فرانسس میں پڑھنے کی وجہ سے میں چھٹی کے بعد تمام دن ابا کے ساتھ دکان پر رہتا جو انار کلی ہی میں تھی اور اسکول سے بے حد قریب بھی) وہ اس بات پر خوش تھیں ، مگر جب مجھے قرآن مجید حفظ کرنے کے لیے چینیاں والی مسجد (اندرون شہر) میں ڈال دیا گیا تو ماں نے سخت احتجاج کیا۔ ابا بہت سخت تھے ، مگر اس دن وہ بول پڑیں۔ کہنے لگیں ”دنیا اور دین دونوں کا علم ساتھ ساتھ ہونا چاہیے کہ آدمی کاروبار حیات کو چلا سکے، پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔“

    ’’بس‘‘ ابا نے بات روک دی..... ”یہ عاقبت کا مسئلہ ہے اس میں مت بول.....‘‘

    ’’سچ کہنا بھی تو فرض ہے۔“ وہ بولیں۔

    ابا نے جنت میں درجات بتائے حافظ قرآن اور اس کے والدین کے لیے سونے کے تاجوں کا ذکر کیا جن میں لگے  ہیروں کی چمک کوسوں دور جائے گی، اپنا شجرہ نسب بتایا جس کی لڑی میں ایک نہ ایک حافظ چلا آتا تھا، مگر وہ ذرا بھی نہ جھکیں۔ بولیں..... ’’موذن یا زیادہ سے زیادہ محلے کی مسجد کا امام بنا دینا زیادتی ہے.....‘‘

    ابا کا شوق جنون کی حد پھلانگ چکا تھا۔ انہوں نے پھر دلیل دی کہ میرے (ان کے) پردادا حافظ، دادا حافظ، والد حافظ، بھائی حافظ ..... تمام پیڑھی میں تسلسل کے ساتھ حافظ چلے آ رہے ہیں۔ حافظ عبدالغنی ( تایا) نے دروازہ بند کر دیا ہے کہ اپنی اولاد میں سے کسی کو ادھر نہیں بھجوایا..... اگر میں نے بھی یہ نہ کیا تو تسلسل ٹوٹ جائے گا۔“ سلسلے کو جاری و ساری رکھنے کا جنون ہی دلیل تھا..... مگر ماں ہار ماننے کو تیار نہ تھی۔’’ محض رٹوا دینے سے کیا ہو گا جب بامعنی با ترجمہ نہ پڑھا تو.....‘‘

    ابا زیر ہوتے ہوتے بچے۔ فوراً    کہا : ”پھر اسے جامعہ الازہر (مصر) بھجوا دیتے میں تاکہ عالم دین بن کر آئے۔اور.....‘‘

    ’’نہیں نہیں..... مسجد چینیاں والی ہی ٹھیک ہے۔“ اماں نے فوراً ہار مان لی ..... دور دراز جا کر بچھڑ جانے کے خوف سے۔ ان کے پاس میری کمزور صحت، اکلوتا بیٹا، آنے جانے کے مسائل، سو دلائل تھے ، مگر مصر بھجوانے کے خوف نے سب چاٹ لیے۔ انہوں نے بات بڑھائی ”لاہور بہتر ہے ، آپ کے سامنے رہے گا، مجھ سے بھی روز ملے گا۔“

    (یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سب والد صاحب نے ڈرانے کی خاطر کیا تھا ورنہ جامعہ الازہر مجھے اس عمر میں کیسے بھجوایا جا سکتا تھا؟)

     پھر جب میں حافظ ہو گیا تو والد نے پہلے رمضان کے لیے مسجد مبارک کا انتخاب کیا کہ میرے دادا جی نے وہاں رمضان میں تراویح پڑھائی تھیں ہمیشہ۔ (مسجد مبارک کے حوالے سے بہت سی باتیں مجھے مولانا حنیف ندوی صاحب مرحوم نے بتائیں جو میری بے حد عزت محض اس لیے کرتے تھے کہ میں حافظ محمد حسن کا پوتا ہوں۔ وہ خود کو محمد حسن صاحب کا جو نیئر کہتے تھے اور ان سے سیکھنے سمجھنے کی باتیں بھی کرتے تھے جو طوالت کے باعث چھوڑتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ندوی صاحب کی مغفرت کرے) سو ایسا ہی ہوا، پھر نیلا گنبد مسجد سنہری مسجد کے شبینے، چینیاں والی مسجد کے شبینے...... مسجد احمد علی کی تراویح (یہ سلسلہ بہت طویل ہے۔)

    اس دوران میں اسکول کی پڑھائی گھر ہی پر ہوتی رہی۔ ایک دن معلوم ہوا کہ ماں جی نے جوڑ جوڑ کر ایک تھیلی بنائی ہے جو میرے لیے ہے۔ اس میں آٹھ سو روپے نکلے تھے۔ انہوں نے اس زمانے میں آٹھ سو جمع کر لیے جب اتنے روپوں میں ایک اچھا خاصا کمرہ بن سکتا تھا۔ مجھ سے کہا : ”ابا کے پاس رکھوا دو یا میرے پاس۔ یہ سارا روپیہ دنیا کی تعلیم کے لیے ہے، کسی اسکول میں داخلہ لے کر پڑھو با قاعدگی سے۔‘‘یہ بھی کہا : ”وقت ایسا دریا ہے جو کبھی الٹ نہیں بہہ سکتا۔ جو سانس گیا سو گیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے سے آدمی منجمد ہو جا تا ہے کہ اتنا وقت، اتنا سونا ضائع ہو گیا۔ لہٰذا تیز..... تر چلو‘‘..... لہٰذا میں نے تیز چلنے کی کوشش کی..... ہمیشہ۔

    حفظ کرنے سے ایک فائدہ مجھے یہ بھی ہوا کہ جو چاہتا منٹوں میں پیار ہو جاتا۔ لہٰذا برسوں کا کام چند مہینوں میں نمٹ گیا اور میں باقاعدگی سے میٹرک کا نصاب پڑھنے لگا اور کچھ زیادہ ہی شوق سے..... یہ میری ماں کی محبت، نگرانی، شدید خواہش .....کا اثر تھا۔ اور ان کی طرف سے مجھ پر ایسا بے جبر  اصرار تھا جس کے سامنے میرے شوق کو سوا تو ہونا ہی تھا کہ یہ بے جبر اصرار، جو صرف علم کے حصول کے لیے تھا، دل میں کھب کر مجھے ضمیر کے سامنے لا کھڑا کرتا تھا..... کہ بچوں کی طرح کھیل کود بھاگ دوڑ اور ضد شد چھوڑ..... میرا خود بخود پڑھنے اور محنت کرنے کو جی چاہتا تھا۔ اور میں نے یہ سب کیا کہ وہ خود بھی محنت اور صبر کی مثال تھیں۔ اس لیے جب میں نے اپنی ایک کتاب ان کے نام معنون کی تو اس کے انتساب میں لکھا :’’ محنت اور صبر کی ایک مثال ..... اپنی ماں کے نام .....‘‘

    وہ عورت جس کے شوہر نے لاکھوں کمائے ہوں اور لوگوں کے اچھے کاموں میں لگائے ہوں، اپنے بیٹے کے لیے جوڑ جوڑ کر جمع کرے اور اسے پڑھنے پر اکسائے، عجیب ہی تو ہے۔ دونوں میں اکثر بحث ہو جاتی۔ ابا جی کا کہنا تھا :’’ انار کلی میں کاروبار ہے اور ہے بھی اسٹیشنری کا۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہے کہ پڑھے لکھوں اور عالموں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ اکلوتا بیٹا ہے۔ کیا ضرورت ہے پڑھنے اور پھر ملازمت کرنے کی؟‘‘

    ماں جی کا کہنا تھا : ’’علم ضروری ہے۔ اللہ کا حکم ہے، رسول کا فرمان ہے۔ دنیا کے بغیر دین نامکمل ہے اور دین کے بغیر دنیا۔“

    دینی معاملات میں ابا نے لاجواب ہونا سیکھا ہی نہ تھا خواہ اس کے لیے انہیں زندگی بھر کی دوستی کو خیر باد کہنا پڑا ہو یا رشتہ داری سے انکار۔ انہوں نے ہمیشہ سچائی کا ساتھ دیا۔ جملہ معترضہ کے طور پر ان کے انتہائی قریبی اور عزیز ترین دوست سیٹھ محمد سعید اور حکیم محمد خاں صاحب تھے۔ سیٹھ سعید صاحب کو میں تایا جی اور حکیم محمد خاں صاحب کو چچا جی کہتا تھا۔ اگر کبھی دونوں سے ناراضی ہوئی تو صرف اس بات پر کہ وہ اپنی والدہ کے سامنے اونچا بول گئے تھے۔ خیر! ان باتوں کے علاوہ ابا جی کا جوش جہاد بھی جنون کی حد تک تھا۔ یہ جنون انہوں نے ایک ایسے شخص سے لیا جو غازی تھا۔ مجھے یاد ہے ان دنوں میں چھوٹا ہی تھا اور ابھی قرآن پاک ہی حفظ کر رہا تھا۔ ایک روز میں اپنی دکان کے اس شو کیس کے پاس کھڑا تھا جس میں اعلیٰ ترین قلم ہوتے تھے۔ شوق کے باعث مجھے ان کے نام اب تک یاد ہیں۔ مثلاً پیلیکن، شیفرز، لائف ٹائم گارنٹی والا، پار کر ڈوفولڈ، پار کر وی ایس، پار کر ۵۱ ،پار کر ۶۱، ایور شارپ ،سوان ، بلیک برڈ اور مونٹ بلاتک۔ انہی قلموں کے قریب ابا جی کھڑے تھے۔ ہم چوں کہ ایسے قلموں کے امپوٹرز تھے اس لیے بڑھئی کا بچہ گلی ڈنڈا تو سمجھے گا ہی۔ مجھے ان قلموں کے بارے میں علم ہو چکا تھا۔ وہاں اس شو کیس کے قریب ایک شخص خاکی وردی میں ابا جی سے بہت دھیمے لہجے میں باتیں کر رہا تھا، کچھ اس محویت سے کہ قلم رکھے کے رکھے رہ گئے۔ باتیں جہاد کی تھیں، کشمیر کی، محاذوں کی، لڑائی اور فرائض کی۔ کچھ سمجھ میں آیا کچھ نہ آیا۔

    غازی صاحب ابا کے دوستوں میں سے تھے۔ ایک آدھ مرتبہ اس خاکی وردی میں، میں نے انہیں دیکھا تھا۔ وہ چھوٹے قد کے گٹھے ہوئے مضبوط آدمی تھے ، مگر اس دھیمے طریقے سے بولتے تھے کہ بات دل میں اتر جاتی تھی۔ ابا گرم مزاج تھے اور جوش جہاد میں اونچا بولتے بھی تھے، مگر غازی صاحب نرم گفتار تھے ، ابا ان سے متاثر ہوئے  اور یہی جذبہ انار کلی کے تاجروں میں پھیلایا۔

    ان دنوں کشمیر میں کچھ نہ کچھ ہو تا تھا اور یہ مصرع عام تھا ..... کشمیر میں جنت بکتی ہے، اور جان کے بدلے سستی ہے.....جبھی تو سلے سلائے کپڑوں کےٹرک  ان آزاد کشمیر جانے لگے جو تمام انار کلی کے سوداگر ان کی طرف سے تھے کہ مجاہدین کےلیے جو بھی تھا حاضر تھا۔ ابا کا کام انہیں اکٹھا کرنا، حساب رکھنا اور پھر جب قرعہ فال ان لوگوں کا نکلا جنہیں لے کر محاذ  تک جانا تھا تو ان میں ابا جی  بھی تھے اور انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔ اور مندرجہ بالا مصرعہ بار بار پڑھا .....کشمیر میں جنت بکتی  ہے..... سامان لے کر جانے والوں کی فہرست میں ابا جی  (میاں عبدالحمید) ، امین سپورٹس کے محمد امین صاحب اور عبد العزيز صاحب تھے جو نیلا گنبد مسجد کے دروازے کے بالکل ساتھ ایک دکان چھوڑ کر دکان کرتے تھے۔ (فی الحال یہی  یاد ہے) یہ سب لوگ دن رات سفر کرتے اور ثواب کماتے تھے۔

    اباجی کو تمباکو کے پان کھانے کی عادت تھی، دن میں درجنوں کھاتے تھے۔ کشمیر جانا ہوتا تو سو دو سو پان بندھوا کر ساتھ لے جانے لگے۔ پھر ایک دن اچانک پان کھانے ترک کردیے کے فرائض میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان کے پرانے تمباکو خور دہلوی ،لکھنؤی دوست حیرت زدہ تھے کہ یہ کیسے چھٹ گئے۔ اباجی کہتے اللہ کے حکم سے ..... واقعی یہ جذبے کی بات تھی، عوام کی بات تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ راہ خدا کے کاموں میں رکاوٹ بننے والی کسی شے کو وہ برداشت ہی نہ کرتے تھے، لہٰذا چھوڑ دیئے۔ بہت بعد، جب میں کمسنی سے لڑکپن میں آچکا تھا وہی صاحب ہمارے پڑوس میں اترے جنہوں نے ابا کے دل میں جذبہ جہاد دو چند کیا تھا۔ معلوم ہوا ان کا نام غازی خدا بخش ہے اور یہ بھی کہ جہاد میں اوجھل ہونے والے کو شہید اور کامران لوٹنے والے کو غازی کہتے ہیں۔ اور غازی خدا بخش صاحب چوں کہ کامران لوٹے تھے،  لہٰذا غازی کہلاتے تھے۔

    ماں جی کو کسی بات پر اعتراض نہ تھا، مگر وہ دونوں علوم اپنے بچے میں دیکھنا چاہتی تھیں کہ معاشرے میں اگر کوئی اس ایک سے محروم ہو گیا تو وہ معذور ہو گا، لہٰذا انہوں نے میرے دنیاوی علوم سیکھنے کے سلسلے میں بہت لڑائیاں لڑی تھیں جنہیں ہم دلائل کی جنگ کہہ سکتے ہیں۔

    ہاں، ایک بات اور..... اباجی نے جوش جہاد میں پریڈ بھی سیکھی۔ خود وردی سلوائی۔ مجھے بھی چھوٹی سی وردی پہنائی۔ میں بھی اچھرہ تھانے کے سامنے والی گراؤنڈ میں ان کے ساتھ پریڈ سیکھنے جانے لگا۔ اس ضرورت سے ابا نے اپنے اوپر تقریباً حرام پتلون خود بھی پہنی، مجھے بھی پہنائی۔ ان دنوں میں نے اور بھی بہت سے بزرگوں کو دیکھا کہ نیچے شلوار پہنتے تھے، اوپر پتلون پہن لیتے..... مجبوری تھی۔ مگر مجھے پتلون پہننے کی آزادی مل گئی ..... میں نے ابا سے تقاضا کیا انہوں نے پتلون خرید کر دکان میں رکھ لی۔ اور کوٹ کا ناپ دلوا دیا اس سے پہلے کہ میرا کوٹ سل جا تا ابا جی سے کوئی خان صاحب ملنے آئے۔ معلوم ہوا کشمیر میں جہاد کر چکے ہیں۔ ابا واری صدقے ہونے لگے۔ انہیں چائے وغیرہ پلائی۔ خان صاحب کا نام بھی ابا کو بے حد پسند آیا..... ’’خونی خان ‘‘۔

    وہ بار بار ’’خونی خان‘‘  ’’خونی خان‘‘ کہتے اور جہاد کے لیے اس نام کو نہایت موزوں قرار دیتے۔ ابا جی نے خونی خان کی جو خدمت کی سو کی، میری پہلی اور بار بارتقاضے سے خریدی ہوئی پتلون بھی ان کی نذر کر دی کہ ان کے بچے بھی تھے اور انہوں نے اس کے لیے فرمائش بھی کی تھی۔ میں ہر چند چھوٹا تھا، مگر زندگی میں پہلی مرتبہ میرا دل بند ہوتے ہوتے رہ گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرا سینہ پھٹ جائے گا، مگر میں ان کے سامنے احتجاج نہ کر سکتا تھا۔ ابا اپنے حسن سلوک سے بے حد خوش تھے۔ ان کا فرمانا تھا کہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی خدمت کرنے سے دنیا اور آخرت میں انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں۔

    لیکن میرے اندر جو طوفان تھا وہ مجھے اندر ہی اندر جلائے جا رہا تھا۔ جب میں رات کو ان کے پاس گھر آیا تو انہوں نے میرے چہرے سے کسی غیر معمولی واقعے کو بھانپ کر مجھ سے پوچھا۔ کچھ کہنے کے بجائے میں رو پڑا تو ابا نے مجھے ڈانٹا اور امی کو بتا دیا..... امی نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا، مگر ابا اپنے فیصلے کو ہمیشہ درست سمجھتےتھے۔ ابا جی نماز کے لیے گئے تو ماں نے مجھے اپنی گرم آغوش میں سمیٹ کر کچھ ایسا تسلی آمیز پیار دیا کہ میرا بے حد بوجھل دل بہت حد تک ہلکا ہو گیا۔ انہوں نے اسی وقت بہن کو بلا کر اپنا صندوقچہ  منگوایا، کوٹ پتلون کا حساب لگوایا اور پھر جمع شدہ رقم گننے لگیں.....  لگ بھگ دو سو دس روپے ہوئے جن سے دوسرے ہی دن گرے رنگ کی پتلون اور ٹویڈ (چیک) کے کوٹ کا کپڑا خرید کر درزی کے ہاں سلنے کو دے دیا گیا۔ سارے واقعے کا ذکر اس لیے ضروری تھا کہ زندگی میں پہلا کوٹ پتلون ماں ہی نے مجھے بنوا کر دیا اور پہنایا..... آپ شاید یقین نہ کریں مگر اس دن ان کی آغوش کی حرارت نے مجھے تسلی دے کر زندہ سا کردیا تھا۔ سوٹ پہننے کا سرور اس لیے آج بھی مجھے یاد ہے کہ بالکل اسی آغوش کی حرارت اس سوٹ میں اتر آئی تھی اور جب تک میں نے کوئی دوسرا سوٹ نہیں پہن لیا،  یہ حرارت ہر لمحہ میرے اندر اترتی رہی۔ اس کے بعد سے آج تک بیسویوں سوٹ سلوائے، پہنے مگر وہ لطف، وہ سرور نہیں ملا۔ یہ محض جذباتی بات نہیں۔ بلکہ ان کی، دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی شفقت نے اوروں کو بھی یہ حرارت بخشی لیکن کبھی جتایا نہ یاد رکھا کہ بقول ان کے احسانات کا ذکر نیکیوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیتا ہے۔

    میں آج جو کچھ بھی ہوں انہی کی بدولت ہوں۔ اس طرح بھی کہ جب ایک مرتبہ ایک اعلیٰ پائے کے نجومی نے (میٹرک کے بعد) میرا ہاتھ دیکھ کر کہا کہ تم جو کچھ پڑھ چکے ہو بس یہی ہے ..... آگے راستہ بند ہے۔

    میں تلملایا، پریشان ہوا تو ہمیشہ کی طرح ماں جی نے مجھ سے پوچھ  لیا۔ میرے بتانے پر کہنے لگیں:  ”وہ بکواس  کرتا ہے۔ تم اگر خدا اور اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہو تو اس کو چیلنج سمجھ کر  قبول کر لو۔“ واقعی میں نے اسے چیلنج سمجھ لیا اور جب تک ایم اے (دوسری پوزیشن میں)  پاس نہیں کر لیا، چین نہیں آیا۔ تھوڑا بہت لکھا پڑھا بھی۔ اگر وہ مجھے اس وقت حوصلہ نہ دیتیں  تو شاید میں نجومی کی بات کو اوڑھ کر سو رہتا اور آج  اسی بند گلی میں منجمد ہو تا۔

    کہتے ہیں کہ ہر بڑی شخصیت کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اگر آپ ’’بڑی شخصیت‘‘  کو منہا کر دیں تو کم از کم مجھ ناچیز کے پیچھے تو ایک ماں ہی کھڑی ہے۔ یہ  مقولہ ہونا ہی یوں چاہیے کہ’’..... پیچھے کسی نہ کسی ماں کا ہاتھ ہوتا ہے۔‘‘ عورت کا لفظ یورپ والوں نے لکھا ہے، حالاں کہ عورت کا سب سے افضل اور اعلیٰ مقام  اس تخلیقی  عورت کا ہے جو ماں ہے، مگر اس معاشرے نے ماں کو تقدس نہیں دیا، صرف عورت کو قبول کیا..... بیوی، بیٹی، بہن، ماں کے حوالے سے کم ،محبوبہ کے حوالے سے زیادہ!

    حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی شخصیت کے پیچھے اس کی تخلیق کار کھڑی ہے، تہذیب کار کھڑی ہے یعنی پہلا اسکول آف آرٹس موجود ہے ..... سو ماں کا رشتہ ہی ایسا ہے کہ وہ سدا محبت ہی محبت ہے، ایثار ہی ایثار ہے۔ دکھوں اور غموں کو اپنے دل کی چھلنی سے گزار کر خالص ممتا بھرا سلوک بانٹتے رہنا اس کی فضیلت ہے جو خداداد تو ہے، مگر تابندہ ستاروں کی طرح روشن اور ہر دم تازہ ہوا کی بو باس لیے ہوتی ہے۔

    مجھے افسوں ہے میں چند سطریں لکھنے بیٹھا تھا اور تحریر طویل ہو گئی، لیکن سچ کو زیادہ دیر چھپا کر نہیں رکھنا چاہیے، نہ رکھا جا سکتا ہے۔ اور اب تو یہ چراغ بجھنے ہی کو ہے۔ میں اپنے آپ کو اس تاریکی کے لیے ذہنی طور پر آمادہ کر رہا ہوں جو ان کے بعد میرے چاروں اور پھیل جائے گی کہ دیا اب بجھنے ہی والا ہے۔ وہ محبت ،وہ ہنستی ہوئی آنکھیں اور مروت سے بھرا بھرا دل..... وہ حوصلہ آمیز، کان میں کہی ہوئی بات ،وہ سینے سے لگا کر ماتھا چوم کر دن بھر کی کلفتوں کو لمحے بھر میں دور کر دینے والی ہستی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو جائے گی کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے..... ضد کی طرح..... اور کوئی دلیل کی ضد کو نہیں کاٹ سکتی۔ سب کچھ فانی ہے ،..... ہاں۔

    دائم آباد رہے گی دنیا، ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا