فلیش بیک
فلیش بیک
نذیر نا جی (صاحب) بے پناہ ذہین شخص ہے جسے کچھ سیاست اور کچھ صحافت نے ضائع کر دیا۔ میں اسے ضائع ہی کہوں گا۔ کیوں کہ اس کی ظاہری ترقی دنیاوی آسودگی، روپیہ پیسہ مراعات اس کے اندر کی تخلیقی صلاحیتوں کا بدل نہیں ہو سکتیں۔ جنہیں اس نے آسودگی کے مقابل پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ شروع کے حالات جو میں نے اس کے قریبی دوستوں سے اکٹھے کیے کچھ اس قسم کے تھے۔ کہ ہوا کے جھونکے نے جس طرف اس کا رخ پھیر دیا وہ اس رخ پر چل دیا..... کبھی شاعری کی اورکبھی تبصرہ .....کہیں سیاست .....اور کبھی اخبار نویسی ..... یہ سب حالات کی مجبوری تھی مگر ٹی وی ڈرامہ اس نے خود شوق سے لکھنے کی کوشش کی۔ مگر یہ بہت بعد کی بات ہے۔
سنا ہے..... جب وہ جھنگ سے لاہور آیا .....تو گویا فاتح لاہور کہلایا۔ پھر سکندر اعظم کی پیروی میں دنیا فتح کرنے کا خواب ہی نہیں دیکھا شہر شہر گھومنے لگا۔ یہ اس کے پاؤں کا چکر تھا کہ وہ چند دن سے زیادہ کسی شہر میں نہ ٹکتا تھا۔ گویا ہر شہر اس کا تھا.....مگروہ کسی شہر کا نہ تھا۔ نذیر ناجی کو کوئی زندہ آدمی کہتا تھا..... کوئی مرده.....!
اپنی اپنی نظر ہے..... اپنا اپنا مشاہده.....
جب میں اور مجھ جیسے ٹی ہاؤس میں داخل ہوئے تو اس دربار میں اس کی حکومت تھی۔ وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اور ٹیڑھی گردن کے جھٹکے کے ساتھ یوں اپنی بات مسلط کر دیتا کہ دلائل ہاتھ باندھے کھڑے رہتے۔ ان دنوں میرے پاس کچھ بھی نہ تھا مگر بقول اس کے اس کا روزانہ بجٹ بھی دو روپے تھا۔ جو اس کے لیے بہت کافی تھا کہ اس کے پسندیدہ سگرٹوں کا پیکٹ چار آنے میں ملتا تھا۔ وہ بہت مطمئن تھا۔ تمام دن بحث کرنے کے باوجود وہ تازه دم رہتا، ادب اس کا اوڑھنا اور شاعری اس کا بچھونا تھا۔ ادب کا محاذ ان دنوں تھا بھی گرم اور کچھ ایسا کہ ہر شخص نظم، غزل، افسانہ یا کوئی نظریہ جیب میں لیے ٹی ہاؤس آتا..... سنتا سناتا..... چائے کا دور اور سگرٹوں کے مرغولے تو بس بونس میں مل جاتے تھے۔ ہر چند کہ دستر خوان، چائے یا سگرٹ، غزل یا نظم میں چار چاند لگا دیتے تھے۔ مگر وقتی طور پر ..... بالآخر تو حلقہ ارباب ذوق میں ہی، کسی بھی صنف ادب کا پوسٹ مارٹم ہوتا تھا۔
پر نذیر ناجی کے پاس تو چائے تھی نہ سگرٹ .....نہ روپیہ نہ زر..... اس کی گرہ میں اس کی ذہانت تھی یا دلائل۔ جو اس کے لیے سکوں کا کام کرتے تھے۔ حلقہ ارباب ذوق میں یہ سکہ بھی اسی کا چلتا تھا، جس کے پاس ہوتا تھا۔ یوں تو حلقے میں مختلف ادوار میں مختلف سکے رائج رہے کبھی عزیز الحق کا تو کبھی عارف امان کا۔ کبھی ان دونوں کا۔ مگر ارشاد کاظمی بھی کچھ دنوں ان مباحث پر چھا سا گیا۔ وہ دلیل کی مار مار تا تھا۔ مگر اس کی ذہانت منفی تھی۔ مثلاً اس نے سلمیٰ جبیں کے افسانے پر ایسے تابڑ توڑ حملے کیے کہ وہ روہانسی ہو کر رہ گئی..... شدید نفرت سے ارشاد کاظمی کو دیکھا اور پھر ہتھیار ڈال دیئے..... چند دن بعد دونوں لارنس میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ٹہلتے ہوئے مجھے دکھائی دیئے اور پھر میں نے سنا دونوں نے شادی کر لی ہے خیر یہ قصہ بعد میں کبھی۔
نذیر ناجی ان سے مختلف تھا۔ اس کا شوق دوسرے کو چت کرنا تھا۔ اور دلیل کی لاٹھی سے۔ پھر وہ قہقہہ لگاتا اور سگریٹ کا دھواں اڑاتا ہوا یہی محسوس کرتا جو ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد’’ہلارے اور تن سنگھ ‘‘نے کیا ہو گا۔ ان دنوں ادب لطيف، نقوش، سویرا اور فنون کا راج تھا..... مگر در میان میں ایک رسالہ لیل و نہار بھی پڑتا تھا۔ جو تھا تو ہفت روزہ..... مگر مار بڑی دور تک تھی۔ ہر ہفتے ایک افسانہ اور چند غزلیں سیاسیات کے علاوہ اس میں شائع ہوتی تھیں۔ مگر یہ ایسا انتخاب ہوتا تھا کہ اگلے شمارے تک ان تخلیقات پر بحث ہوتی تھی۔
کچھ یہی حال حلقہ ارباب ذوق کا تھا۔ حلقہ میں ہر مستند ادیب کے لیے اپنی تخلیق بھی پیش کرنا اعزاز تھا۔ اور غیر مستند یا مبتدی کے لیے تو باقاعدہ سند بھی تھی۔ شاید اسی باعث حلقے کے پروگرام کو تین ماہ پہلے شیڈول کیا جاتا تھا اور یوں کہ اپنی تخلیقات سیکرٹری کے پاس جمع کرانی پڑتی تھیں۔ (یہ سب باتیں مجھے اپنی پہلی کہانی پیش کرنے کے مرحلے پر معلوم ہوئیں۔ جب شہرت بخاری سیکرٹری تھے۔) سو انہی دنوں نذیر ناجی حلقے میں چومکھی لڑتا نظر آتا تھا۔ ہم ایسوں کو تو کوئی جانتا ہی نہ تھا۔ بلکہ جاننا ہی نہ چاہتا تھا، کہ ہم ایسے تھے بھی تو سامعین اور وہ بھی خاموش۔ کچھ کہنے کی ہمت نہ تھی نہ جرأت.....
١٩٧١ء کی جنگ نے یہ راستہ کھول دیا کہ چھوٹے موٹے ادب میں منہ مارنے والے تخلیق کار ان محفلوں میں سما گئے جن کے قریب پھٹکنا بھی جوئے شیر لانا تھا۔ سوائے نذیر ناجی کے جو ہر نئے لکھنے والے کو گلے لگا کر پاس بٹھاتا .....اور پوچھتا۔ ’’کوئی نئی چیز لکھی؟‘‘
میں ان دنوں حلقے میں داخل ہو کر چپ بیٹھنے اور گفتگو سننے ہی کو فخر و اعزاز سمجھتا تھا اور سمجھنا بھی چاہیے تھا..... کہ وہیں برسوں بیٹھ کے جو گفتگو میں نے سنی اس سے اپنی تہذیب کرنے کی کوشش کی۔
مجھے یاد ہے ایک مرتبہ کسی شاعر کی غزل حلقے میں پیش ہوئی۔ غزل جیسی بھی تھی نذیر ناجی نے چھوٹتے ہی غزل کو تہس نہس کر دیا۔ اور دلائل دے کر اسے ناکارہ اور ناکام غزل ثابت کر دیا۔ اور کچھ اس طرح کہ میرے علاوہ ہر شخص کو اس غزل میں کیڑے ہی کیڑے دکھائی دینے لگے۔ پھر سناٹا چھا گیا اور یہ بات یقینی ہو گئی کہ اگلے جملے میں ہی صدر اس غزل پر بحث ختم کرنے کا اعلان کر دیں گے کہ نذیر ناجی کی رگ جملہ بازی کچھ اس طرح سے پھڑکی کہ جملہ چست کیے بغیر نہ رہ سکا اور غزل کی کاپی واپس پھینکتے ہوئے بہ آواز بلند بولا.....
”جناب صدر!
ایسی غزلیں تو میں تیسری جماعت میں پڑھا کرتا تھا۔‘‘
اس سے پہلے کہ یہ جملہ غزل کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا۔ کسی نے برجستہ کہا ”ناجی صاحب جناب نے تیسری پاس کب کی تھی؟‘‘
کچھ ایسا بے ساختہ قہقہہ پڑا کہ بہت سوں کو اسی دن معلوم ہوا کہ ناجی نے علم کو ڈگریوں میں مقید نہیں کیا۔ اس بے ساختہ جملے کے بعد دیر تک اجلاس نہ سنبھل سکا۔ ناجی کوئی جواب نہ دے سکا۔ مگر اس نے ہار بھی نہیں مانی۔ ہارا تو وہ بہت مرتبہ ہے مگر اس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ یہ طے ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا۔ جس نے ایک نئے نذیر ناجی کو جنم دے دیا تھا۔ اس نے کسی سکول کالج میں داخلہ لیے بغیر اس نئے ناجی کی تعمیر شروع کر دی۔ اور اس طمطراق سے کہ اردو ادب تو اس نے کھنگال ہی رکھا تھا۔ انگریزی ادب پر بھی ہاتھ ڈال دیا۔ ”مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ‘‘ جو اس نے کی۔ اور لفظ لفظ جوڑ کر انگریزی سیکھی..... اخبارات پڑھے..... انگریزی اخبارات کے اداریوں کے تراجم کیے وہ بہت جلد ان تمام مراحل سے گزر جانا چاہتا تھا۔ جس کے لیے باقاعدگی سے سولہ برس لگتے ہیں۔ مگر اس نے سولہ ماہ میں ہی آگے کا سفر بھی کر لیا۔ اور ایسا ایسا ادب پارہ اپنے اندر گویا انڈیل لیا، بعد کے شواہد بتاتےہیں کہ ہضم بھی کرنے کی کوشش کی جس کے لیے برسوں کی ریاضت درکار ہوتی ہے اس کا اعتماد پہلے ہی بلا کا تھا اس میں یقین کی چمک اور ٹھہراؤ کا کلس بھی آ چڑھا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا اور شاید ہے بھی، کہ ناجی کے اعتماد کی بنیاد اس کا احساس کمتری اور کو مپلیکس ہے اگر ہے تو ہوا کرے..... کیوں کہ ناجی جیسا اعتماد کم کم لوگوں کے نصیب میں آیا ہے ۔ ناجی جملہ نہیں بولتا..... فائر کرتا ہے..... گھاؤ دکھائی نہیں دیتا..... مگر گہرا لگتا ہے پھر اس کا ذہن کھلتا چلا جاتا ہے۔ اور وہ مد مقابل کو چت گرا دیتا ہے۔ ہاں اگر نشہ زیادہ ہو جائے..... اور یہ نشہ ادب ہی کا نہیں..... اقتدار کا بھی ہو سکتا ہے۔ کہانی کا بھی..... رفتار کا بھی..... اور باخبر ہونے کا بھی یا پھر ”اس‘‘ کا بھی ہو سکتا ہے..... جس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہتی.... یا پھر یہ کہ چراغ جل اٹھتے ہیں..... پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ناجی کی بحث ادب سے گرتی چلی جاتی ہے۔ پہلے سیاست پر آ ٹھہرتی ہے پھر اس سے بھی گر کر دھول دھپے پر آ جاتی ہے۔ اور لڑائی جھگڑے پر پہنچ کر عینک توڑ مناظر پر آ رکتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نشے میں زیادہ ہونے والا..... حملہ آور ہونے کے باوجود گھاٹے میں رہتا ہے اور پٹ جاتا ہے۔ سو چوں کہ زیادہ نشہ ناجی ہی پر چڑھا ہوتا تھا..... اس لیے ہر مرتبہ وہ اپنی عینک تڑوا بیٹھتا۔ ناک مجھے یاد نہیں۔ مگر یار لوگ یا حاسد یہی کہتے ہیں کہ وہ بھی ان کے سامنے کئی مرتبہ ٹوٹی ہے۔ ناک ٹوٹی ہو یا نہ ٹوٹی ہو..... ناجی ایسے فسادات میں کئی مرتبہ ٹوٹا اور جڑا اور ٹوٹ سا گیا۔ مگر اس نے اس ٹوٹ پھوٹ سے ہر دفعہ ہر مرتبہ اس نئے ناجی کی تعمیر، جو کنویں کی مٹی ..... کنویں میں لگاتا چلا گیا۔ ایسی لڑائیوں .....مار کٹائیوں میں چند نام جو سامنے کے ہیں محمد صفدر میر، احمد بشیر، جاوید شاہین، عباس اطہر حتیٰ کہ سلیم شاہد بھی ہے جو ان دنوں بھی دھان پان کا ہوتا تھا میں نے صرف سلیم شاہد کی اوٹ پٹانگ لڑائی دیکھی ہے۔ ہم ٹی ہاؤس میں بیٹھے تھے اور یہ لوگ ٹی ہاؤس کے برابر دکان کے تھڑے پر، جس کا نام اب بھی ’’ایگل بار ‘‘ ہے منڈلی جمائے، دھونی رمائے بیٹھے تھے۔ وہاں جو بھی تھا کیا منصف کیا وکیل..... کیا ملزم کیا متقی، سب اپنے اپنے نشے میں تھے موج میلہ عروج پر تھا کہ یک لخت ایسا شور مچا۔ جو ان منڈلیوں کا خاصہ ہے۔ پھر زوروں کا رن پڑا۔ لگتا یہ تھا کہ لڑ کوئی نہیں رہا۔ سب چھڑا رہے ہیں۔ یہ تو بہت دیر بعد کھلا کہ نذیر ناجی بہ مقابل سلیم شاہد، پہلا دنگل ہے۔ جب سب پیچھے ہٹ گئے کہ ہوش کسی کو نہ تھا تو صرف دبلا پتلا سلیم شاہد اور بھاری بھر کم (کم از کم سلیم شاہد کے مقابلے میں) ناجی رہ گیا۔ ناجی کی عینک دور فٹ پاتھ پر جا کر چکنا چور ہو چکی تھی کہ سلیم شاہد کا ایسا الٹا ہاتھ پڑا تھا (جو اتفاق سے خوفزدہ اور کمزور آدمی کا پڑ جاتا ہے) کہ ناجی ..... بغیر عینک کے ناکارہ ہو گیا۔ غصے میں یوں بھی آدمی ہوش میں نہیں رہتا۔ گویا دو نشے ایک ساتھ ہو گئے یعنی کریلا اور نیم چڑھا مگر دونوں طرف سے۔ عینک کے بغیر جب ناجی بے بس ہو گیا تو سلیم شاہد ٹی ہاؤس کے دروازے کے بالکل ساتھ والی ہماری میز پر آ بیٹھا۔ ناجی اسے للکارتےہوئے چیخا۔
’’ادھر سے ہلنا نہیں۔ میں ابھی آ کر تمہیں مزہ چکھا تا ہوں۔“ سلیم شاہد تراخ سے بولا .....
’’جلدی آنا..... مجھے کام سے جانا ہے.....‘‘ نذیر ناجی لمحہ بھر بغیر عینک کے غصے میں اسے تکتا رہا..... پھر منہ پر ہاتھ پھیرتا چلا گیا جس کا مطلب میں نے تو یہی لیا کہ تمہیں ابھی چھٹی کا دودھ یاد دلاتا ہوں..... سب کا خیال تھا کہ ناجی..... رات گئی۔ بات گئی کے مصداق یہ قصہ بھی بھول جائے گا۔ دوسری شام .....شرابی کی توبہ شکنی کی طرح اسے کچھ بھی یاد نہ رہے گا۔ اور وہ شام کو مخصوص مسکراہٹ کی جھلملاہٹ سجائے دوبارہ کسی نکتے پر بحث کرتا پایا جائے گا۔ ہمیشہ کی طرح۔ مگر ہوا یوں کہ آدھ گھنٹہ بعد ہی ناجی دو تین ڈشکروں کو ساتھ لیے دور سے آتا دکھائی دیا قریب آیا تو ناجی کے منہ سے کف اڑ رہا تھا وہ ابھی تک سخت غصے میں تھا اور بار بار بازو لمبا کر کے ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈشکروں کو ہدایات بھی دے رہا تھا۔ ڈشکرے اس بلا کے تھے کہ میرے سمیت اس میز پر بیٹھا ہر انسان سہم سا گیا۔ وہ ڈشکرے چپ چاپ دور سے ہم سب کا جائزہ لے رہے تھے محسوس ہوتا تھا کہ ابھی کچھ ہونے والا ہے۔ سلیم شاہد کا رنگ زرد ہو چکا تھا اسے بھی یقین سا ہو رہا تھا کہ ان تین ڈشکروں میں سے کوئی بھی اس کا آٹا گوند سکتا ہے مجھے تو سلیم شاہد کی لاش تڑپتی دکھائی دینے لگی ایک سناٹا تھا جس نے دلوں سے چہروں تک کو ڈھانپ دیا تھا ہر سانس، ہر لمحہ ، نازک سے نازک ترین ہوتا جا رہا تھا اور کسی میں جرأت نہ تھی کہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہی ہو جائے۔ کسی نے سلیم شاہد کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی ہاؤس کے کچن میں جا چھپے کسی نے کہا بھاگ جائے۔ کسی نے کہا پاؤں پڑ کے معافی مانگ لے مگر اس وقت منظر آیا تھا کہ معافی مانگنے کا موقع تھا نہ بھاگنے کا اور نہ ہی چھپنے کے لیے کوئی پناہ گاہ تھی وہ سارے لوگ فٹ پاتھ پر کھلنے والی کھڑکی سے ہمیں نگاہوں میں تول رہے تھے کہ آپریشن کدهرسے شروع کریں پھر ان سب میں کڑیل جوان آگے بڑھا اور ناجی سے پوچھا۔
’’ہے کیہڑا؟‘‘
ناجی نے سلیم شاہد کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
’’یہ ہے وہ غنڈہ..... جس نے مجھے مارا ہے .....یہ .....یہ‘‘ اس نے سلیم شاہد کو چھو ہی لیا۔ کڑیل جوان نے سلیم شاہد کو ہاتھ لگا کر دوبارہ پوچھا..... ’’یہ؟‘‘
’’ہاں یہی۔‘‘
’’واقعی یہ؟‘‘
’’سو فیصدیہی‘‘ ناجی نے سلیم شاہد کے سر کو ہاتھ لگا کر ڈشکرے کو دوبارہ یقین دلایا۔ ڈشکرے کڑیل جوان نے کچھ ایسی غصیلی نگاہ سلیم شاہد پر ڈالی کہ اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ہم سب کسی ہتھیار کے وار کے منتظر تھے مجھے تو کانوں میں تڑ تڑ کی آوازیں تک سنائی دینے لگی تھیں ..... گلے خشک ..... سانس رکتا ہوا اور نگاہوں میں دهند اتر آئی تھی۔ سناٹا اندر باہر مزید بڑھ گیا تھا، سلیم شاہد نے عالم سکرات میں آسمان کی طرف دیکھا بالکل قربانی کے بکرے کی طرح..... مگر وہ تو ممیا بھی نہ سکا تھا۔ تینوں جوانوں نے قصائیوں کی طرح قربانی کے دنبے کو نگاہوں میں تول لیا تھا پھر یکا یک کیا ہوا کہ تینوں ڈشکرے، تینوں کڑیل جوان پہلے مسکرائے، پھر ہنسے اور پھر انہوں نے اتنے زور سے قہقہہ لگایا کہ سناٹا تو چکنا چور ہوا ہی تھا..... ٹی ہاؤس کے سامنے بڑ کے درخت سے کوے بھی اڑ گئے وہ قہقہہ لگاتے جاتے تھے اور سلیم شاہد کو نگاہوں میں تولتے جاتے تھے اور بار بار ہاتھ بڑھا کر پوچھتے تھے۔
’’..... اوئے یہ چھچھڑا..... ؟‘‘
’’ ہاں میں بد معاش ہے۔‘‘ ناجی نے انہیں پھر یقین دلایا۔
”اک نمبر حرامی۔‘‘
’’نہیں یار۔‘‘ کڑیل جوان کو یقین نہ آیا.....’’ یہ تو بالکل ہی وچارا سا ہے ..... اسے کیا کہیں۔‘‘
’’اس کا قیمہ بنا دو.....‘‘ ناجی نے پکارتے ہوئے کہا۔
’’او صاحب جی ..... کسی کو نچوڑ دینے کا ہمارا بھی کچھ معیار ہے۔ یہ ہماری رینج سے باہر ہے..... بدنامی ہو گی۔ ہمیں تو شرم آرہی ہے اس چڑی کے بوٹ کی طرف دیکھتے ہوئے بھی‘‘..... وہ زور زور سے ہنسے۔ ناجی کو گلے لگایا۔ اور پیار سے کھینچ کر لے گئے میرے نزدیک یہ معجزہ ہی تھا سلیم شاہد بہت لکی آدمی ہے میں اس کے بارے میں الگ لکھ چکا ہوں.....
یہاں بھی اس کے مقدر کے ستارے نے اس کا ساتھ دیا تھا یہ سب باتیں اپنی جگہ مگر ناجی دوستوں کا دوست ہے اور دشمنوں کا دشمن۔ خصوصاً اس کے دوست کا دشمن اس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس نے بہت دوست بنائے ..... ناجی نہیں بدلا۔ دوست بدل گئے۔ یہ میرا مشاہدہ ہے۔ کہاں وہ بھٹو کا عاشق تھا اور کوثر نیازی کا دست راست۔ اور مساوات کا ایڈیٹر ۔اور کہاں وہ نوائے وقت کا کالمسٹ۔ اور پھر ضیاء الحق کے حواریوں کا دوست پھر نواز شریف کا قابل اعتماد سپاہی بنا تو لگا یہی ایک سپاہی اس کا اصل ہے۔ دوستی سب سے رہی ان سب تبدیلیوں کے لیے بھی اس کے پاس دلائل کا ایک انبار ہے اس کے دلائل سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ان کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ بالکل اسی طرح جس طرح ضمیر کے فیصلوں کے خلاف کوئی اپیل ممکن نہیں۔ (آپ اس بات سے سو فیصد اختلاف کر سکتے ہیں) وہ مجھ سے بہت زیادہ باخبر اور سینئر بھی ہے۔ ہم ایسے تو اس کی باتوں سے سیکھتے تھے۔ مگر اس کی شفقت میں کبھی کمی نہ آئی۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ جب میں اس کے ساتھ سیکرٹریٹ کے قریب کسی پبلشر کے ہاں جا رہا تھا اسے سگریٹ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ قریبی کھوکھے سے اس نے اپنے محدود بجٹ سے اپنے لیے نہایت سستے سگریٹ خریدے کہ یہی اس کا برانڈ تھا پھر مجھ سے پوچھا۔
’’تم کون سا پیتے ہو؟‘‘ اس کے پوچھنے میں بھی ایک حکم تھا۔
’’ میں یہی پی لوں گا۔‘‘ میں نے اس کی ڈبیہ کی طرف اشارہ کیا۔
’’ پیتے کون سا ہو..... ؟ وہ کڑک کر بولا۔
’’ کیپسٹن‘‘ میں نے ممیا کر کہا۔
اس نے کھٹ نوٹ کھوکھے والے کے سامنے پھینکا اور کہا۔ ”ایک پیکٹ کیپسٹن‘‘ میں باقاعدہ سموکر بھی نہیں تھا کبھی کبھار ایک سگریٹ پی لیتا تھا۔ جیب اکثر خالی ہی رہتی تھی۔ ہر چند کہ نذیر ناجی کی جیب بھی بھری ہوئی نہ تھی مگر اس نے دو پہر کا اپنا کھانا میرے پیکٹ کی نذر کر دیا بلکہ اس دن کا اپنا بجٹ تباہ کر لیا یہ اس کے ظرف اور جرأت کا ثبوت ہے۔ جس کا مظاہرہ اور بہت سے مقامات پر بھی دیکھنے میں آیا تھا۔
ایک واقعہ اور بھی مجھے بھولتا نہیں..... وہی حسب معمول ’’ایگل بار‘‘ کی رونقیں عروج پر تھیں محفل گرم اور موسم سرد تھا۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی کافی بڑا مجمع ’’ایگل بار“ کے تھڑے پر بیٹھا کھڑا موج میلہ کر رہا تھا۔ سب مزے میں تھے۔ ناجی اس دن بھی بہت خوش تھا۔ میں گھر جانے کے لیے باہر نکلا تو ناجی نے مجھے پکڑ لیا..... میں نے کہا ”سر مجھے گھر پہنچنا ہے" وہ کہنے لگا ”دو منٹ رک جاؤ..... اور پھر مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر گھر چھوڑ آؤ۔‘‘ اس وقت ناجی کو واقعی ایسے ہی ساتھی کی ضرورت تھی جو اسے حفاظت سے گھر پہنچا دے۔ میں رک گیا۔ مگر جلدی فراغت ایسے مشاغل میں کب ہوتی ہے۔ کوئی ادھر سے آ شامل ہو تا کوئی ادھر سے۔ مصالحہ بھی بہت تھا اور ختم ہونے سے پہلے کوئی نیا ساتھی کچھ اور لے آتا تھا..... کیا ہما ہمی تھی۔ کیا قہقہے تھے۔ سلیم شاہد سے لے کر جاوید شاہین تک اور جانے کون کون۔ میں بوندا باندی کا مزہ لینے کے باوجود بور ہو رہا تھا کہ رات کے ساڑھے دس بجے تھے اور مجھے سخت بھوک لگ رہی تھی۔ میں نے اصرار سے ”آخری“ پر متفق کر لیا مگر ایسے موقعوں’’آخری‘‘ کبھی نہیں ہوتا پھر بھی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ پیچھے بیٹھا۔ میں نے موٹر سائیکل سٹارٹ کر دی۔ ان دنوں وہ چوہان روڈ پر میرزا ادیب کے گھر کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتا تھا بلکہ میرزا ادیب کا ہی کرایہ دار تھا۔ جب میں نے موٹر سائیکل کرشن نگر جسے اب اسلام پورہ کہتے ہیں، کی طرف موڑی تو ناجی نے متضاد سمت چلنے کو کہا..... میں سمجھا ہوش میں نہیں ہے۔ اسے بتایا کہ اس کا گھر ادھر نہیں، ادھر ہے .....مگر وہ اڑ گیا.....’’ جو میں کہتا ہوں وہ کرو۔“ مجبوراً میں ریگل چوک کی طرف چل دیا ریگل چوک کے قریب دائیں ہاتھ والی ایک گلی میں اس نے مجھے مڑنے کا اشارہ دیا۔ میں مڑ گیا، پھر ایک مکان کے سامنے پہنچ کر مجھے روکا اور کہا ’’تم جا نہیں سکتے۔‘‘ ..... وہ خود سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیا۔ سیڑھیوں کے درمیان دروازہ تھا اور باقی سیڑھیاں اوپر جا کر ختم ہو جاتی تھیں جہاں دیوار تھی۔ ناجی سیدھا دیوار تک چلا گیا اور دیوار پر زور زور سے دستک دی کہ اس کا ہاتھ تک زخمی ہو گیا اتنے میں صاحب خانہ جو کوئی وکیل اور ناجی کا بہت ہی خادم تھا نکل آیا اور ہمیں اوپر اپنے دفتر میں لے گیا۔
ہر چند کہ ناجی کی حالت اس قابل نہ تھی کہ وہ مزید کوئی شغل کر سکتا۔ مگر اس نے خادم کو حکم دیا کہ شروع کیا جائے۔ خادم نے اپنے دراز سے ایک عمده چیز نکال کر میز پر رکھ دی .....تو ناجی نے پورے زور سے مجھے کہا۔ ’’اب تم ہمارے ساتھ بیٹھو گے.....!‘‘ ’’ بیٹھو گے“ کا مطلب وہی سمجھتا ہے جو ان مشاغل سے دو چار ہو تا رہا ہو۔ مجھے ایک تو زوروں کی بھوک نے ہلکان کر رکھا تھا دوسرے رات بہت ہو چکی تھی اور تیسرے میں اس شغل سے ابھی تک محروم تھا اور اس پہ خوش بھی تھا..... میں نے پہلے معذرت کی پھر منت سماجت مگر ناجی اڑ جائے تو اس کو ’’ٹنڈا لاٹ‘‘ بھی سیدها نہیں کر سکتا۔ میری بری حالت دیکھ کر صاحب خانہ خادم کو (بعد میں معلوم ہوا کہ ان کا نام ہی خادم ہے) مجھ پر ترس آگیا۔ اس نے پینترا بدل کر ناجی سے کہا۔
’ناجی صاحب ..... یہ کہاں جا سکتا ہے..... لیکن آپ ذرا ہاتھ دھو لیں خون بہہ رہا ہے آئیں واش روم چلیں.....‘‘
’’ہاں‘‘ اچانک ناجی کو یاد آیا..... کہ اسے تو باتھ روم بھی جانا ہے..... خادم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر باتھ روم تک پہنچایا اور دوسرے ہاتھ سے مجھے بھاگ جانے کا اشارہ کیا تب میں سرپٹ بھاگا اور نکل گیا دوسرے دن ناجی کو یہ بھی یاد نہ تھا کہ ہم کسی خادم حسین کے گھر بھی گئے تھے۔
کتنا ہی عرصہ گزر گیا۔
بہت سے اتار چڑھاؤ ہوئے۔ روپ بدلے۔
کچھ لوگ بچھڑ گئے .....کچھ آن ملے..... جب ناجی اکیڈمی آف لیٹرز کا چیئرمین ہوا تو میرے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ میں اس سے ملتا.....
بڑے عہدہ کے لوگوں سے ملنا میرے لیے بہت دشوار ہوتا ہے..... میری خواہش یہ ضرور رہی ہے کہ اگر کوئی ملنے والا کسی بڑے عہدے پر جا پہنچے تو وہ خود اپنے پرانے ملنے والوں سے ملنے کی کوشش کرے۔ اس سے ایک تو پرانے کو توقیر ملے گی دوسرے اونچے عہدے والا بھی عزت دار اور ظرف والا کہلائے گا..... مگر ہوتا یہ ہے .....کہ کبھی ایسا نہیں ہوتا۔
لوگ ماضی کے دوستوں، ملنے والوں، یا جاننے والوں سے کترانے لگتے ہیں کہ ان میں ان کا مفلوک الحال ماضی جھلک رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا میرے گریز کی ایک وجہ بھی یہی ہے کہ سلام دعا سے آگے نہ بڑھوں..... مجھے تو یہ بھی یاد ہے جب محمود شام ٹی ہاؤس میں ناجی کا ساتھی تھا۔ تو تمام دن فلم دیکھنے کے لیے رقم جمع کرتا رہتا یا بچاتا رہتا..... اور فلم کے ٹکٹ کے پیسے پورے ہونے پر اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے کسی نہ کسی سینما ہاؤس پہنچ جاتا..... مجھے یہ بھی یاد ہے کہ زاہد ڈار زیبا کا عاشق تھا..... اس کا عشق یہ تھا کہ وہ زیبا کی کوئی فلم نہ چھوڑتا تھا..... بلکہ کئی کئی دفعہ رپیٹ بھی کرنا پڑتی تو کرتا..... اس کا سانس زیبا کی فلم سے چلتا تھا .....اور آنکھیں اس کی تصویر سے سلگتی اور چمکتی تھیں..... لوگوں کا خیال تھا یہ اس کا ٹوپی ڈرامہ ہے پھر ایک دن یار لوگ اسے فلم سٹوڈیو زیبا سے ملوانے لے گئے مگر وہاں مرحوم ہدایت کار حسن طارق سے ملاقات ہو گئی اس نے زاہد ڈار کے کان میں جانے کیا کہا کہ وہ زیبا کے عشق سے تو دستبردار ہو گیا مگر عشق سے دستبردار نہ ہو سکا۔ نہ ہی کوئی عشق سے دستبردار ہو سکتا ہے کہ عورت بے وفائی کر کے آدمی کو زندگی بھر کے لیے ڈس لے تب بھی ..... اور اگر سرشار کر دے تب بھی۔ عشق ایک زندہ اور تابندہ حقیقت ہے۔ سو زاہد ڈار نے کشور ناہید کی محبت میں پناہ لے لی۔ اور اس کے لیے سب سے لڑائی مول لے کر گویا ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر لیا۔ یہ ایک الگ قصہ ہے بلکہ جملۂ معترضہ ہے جو در میان میں آ پڑا تھا۔ میں تو ناجی کی بات کر رہا تھا..... ناجی نے زندگی میں ایک ہی عشق کیا اور اسے نبھایا ..... زندہ اور جرأت مند مرد کی طرح.....
پچھلے دنوں لاہور میں پرائڈ آف پرفارمنس اور تمغہ امتیاز پانے والوں کے اعزاز میں’’ فلیٹیز‘‘ میں ایک تقریب ہوئی۔ میں بھی پہنچا..... ڈرا ڈرا..... سہما سہما سا .....! بڑے بڑے بزرگ اور سکالر جمع تھے میں سب سے آخری رو میں چھپ کر بیٹھ کیا۔ اتنے میں قاضی جاوید میرے پاس آیا اور کہا کہ میں آگے کی سیٹوں میں آ بیٹھوں ..... اس کا اصرار ہی کچھ اس قدر پیارا تھا کہ میں اٹھ کر اگلی رو کی طرف بڑھ گیا۔ جب میں بڑے بڑے خصوصی مہمانوں والے صوفے کے سامنے سے گزر جانا چاہتا تھا تب ایک مضبوط ہاتھ نے مجھے دبوچ لیا اور پھر زور سے اپنے ہی صوفے پر گرا لیا۔ میں نے دیکھا..... وہ نذیر ناجی تھا..... اس کی آنکھوں میں وہی اپنائیت تھی..... ویسی ہی محبت اور بے تکلفی ..... وہ اسی تپاک سے ملا اور پورے پروگرام تک مجھے ساتھ بٹھائے رکھا۔ اور حیرت کی بات یہ تھی کہ چیئرمین عام لوگوں میں بیٹھا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے میں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئر مینوں کو سٹیج سے اترتے تبھی دیکھا ہے جب وہ اپنے عہدے سے اتر چکے ہوتے ہیں۔ نذیر ناجی کا یہ عوامی رویہ بھی مجھے پسند آیا ..... اس نے کمپیئرنگ کی نہ سٹیج پر آ کر اپنا تعارف کرایا..... نہ اپنے دوروں کی تفصیل بتائی۔ اور نہ ہی اپنے عالم ہونے کا رعب جمایا۔ بس چپ چاپ بیٹھا رہا۔ اختتام پر گلے ملا اور چائے کی پیالی پر مجھے کہا ’’مجھے اپنی کتابیں بھیجو‘‘ میں اس خیال سے نہیں بھجوا سکا کہ اسے کہاں فرصت ہے..... کہ دیکھ سکے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ کتاہیں بجھوا دوں گا..... تو وہ فوراً رسید بھی دے گا۔ اور ریمارکس بھی، کہ یہی اس کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔