یونس جاوید

یونس جاوید

ونجارا

    ونجارا

    میں ایک ایسے سلیم شاہد کو جانتا ہوں جو سنجیدہ شاعر، بہترین باپ، ٹودی پوائنٹ شوہر اور آؤٹ آف دی وے دوست ہونے کے باوجود ہر فن مولا ہے۔ اس نے ہر وہ کام کیا ہے جو کیا جا سکتا ہے یا کم از کم سوچا جا سکتا ہے۔ سوچنا یوں بھی کوئی چھوٹا کام نہیں ہے۔ سوچ کی پرواز ایک دنیا سے دوسری دنیا اور پھر تیسری دنیا تک جا سکتی ہے۔ مگر کائنات تو وہ جگہ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں جہاں ،ہمارے تصور سے آگے کی اشیاء اور دنیا ئیں آباد ہیں یا نہیں، موجود ضرور ہیں۔ لہٰذا سلیم شاہد کی پہلی  سوچ یہ تھی کہ وہ کائنات پر فلم بنائے گا۔

    اس نے نہایت سنجیدگی سے مجھے گھر بلایا ، بٹھایا، چائے سے تواضع کی اور پھر بے حد رازدارانہ انداز میں مجھے باور کرایا کہ اس نے کائنات پر فلم بنانے کا اراده ہی نہیں کیا، ڈھیر سارا مصالحہ بھی جمع کر لیا ہے اور مصالحے پر ہی کیا موقوف، بہت سا کام نمٹا بھی دیا ہے۔ اس نے مخصوص انداز میں سوٹا لگایا اور مجھے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ ’’ تقریباً‘‘  کام مکمل ہے۔ ‘‘

    ’’ مکمل ؟‘‘ میں نے وضاحت چاہی۔

    ’’ہاں۔“ وہ بولا۔ ’’بالکل مکمل ہے۔ بس تم اسکرین پلے لکھنا شروع کر دو۔‘‘ میں ممیا کر رہ گیا مگر وہ پراعتماد سوٹے کے ساتھ پھر بولا۔ ”لوگوں میں حوصلہ نہیں ہے کسی نئے آئیڈیے کا .....جو بھی میری بات سنتا ہے حیران ہوتا ہے۔ تم پہلے شخص ہو جو اس قدر حیران نہیں ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ.....‘‘ میں نے ہمت کر کے اس کی بات کاٹی۔ ’’یار یہ موضوع بہت بڑا ہے یہ تو ہالی وڈ والوں کو چاہیے کہ .....‘‘تب اس نے جواب میں میری بات کاٹی اور کہا۔ ”ہالی وڈ والے کیا بیچتے ہیں؟ ان کے پاس پروڈکشن ہو سکتی ہے۔ روپیہ ہو سکتا ہے۔ بڑے بڑے مصنوعی سیٹ ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ پریس  ہو سکتا ہے۔ مگر ہمارے پاس ٹیلنٹ ہے۔ زبان ہے۔ لکھنے والے ہیں۔ سوچنے والے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات کہ آئیڈیا ہے۔ اسی لیے میں نے سوچا ہے کہ مصنوعی سیٹوں کے بجائے صرف اور یجنل ورک کروں۔ سمجھ آئی یا دہراؤں؟ ‘‘میں نے حوصلہ کر کے زبان کھولی اور بات کا رخ تھوڑا سا بدلنے کے لیے پوچھا۔ ”ہدایات کس کےذمے ہیں؟‘‘

    تب اس نے کہا۔ ’’یہی  ایک شعبہ تو رکھا ہے میں نے اپنے پاس۔ تم اس کی فکر مت کرو۔ یہ میرا ہیڈ ایک ہے۔‘‘ وہ بچوں کی طرح خوش تھا۔ پھر وہ اپنے آئیڈیا کے مختلف روپ ،سلولائیڈ پر اتارنے کے مراحل بتانے لگا۔ کیمرہ کس طرح سے کمان تک جائے گا۔ آسمان، وسعتیں، ستارے، سیارے، زہرہ، مشتری۔ میں نے ایک مرتبہ دل کڑا کر کے کہہ ہی دیا۔ ’’برادر یہ کینوس، یہ منظر نامہ اور اس کے فریم دل ہلا دینے والا کام ہے اور.....‘‘

    اس نے اس بات پر ہی مجھے دبوچ کر کہا۔ ’’دل متحرک شے ہے۔ اسے ہلنادھڑ کنا ہی چاہیے۔ جامد دل تو موت ہے۔‘‘

    ’’لیکن‘‘ میں نے زبان کھولی..... اس نے بات کاٹی... بولا۔ ”ہدایت کار ٹیم کا کپتان ہوتا ہے۔ میں اس وقت تمہیں سمجھا نہیں سکتا کہ میرے ذہن میں کیا کچھ ہے۔‘‘

    ’’تم نے فلکیات کا مطالعہ کیا ہے؟‘‘ میرا سوال تھا۔ وہ برجستہ بولا۔ ’’اتھے کھے کھان نوں ہو ئیں آں۔ ‘‘پھر اس نے چمک دار آنکھوں سے مجھے گھورا، کہنے لگا۔’’تمہارا خیال ہے میں بے وجہ شور مچا رہا ہوں..... میاں صاحب میں نے ایسا ایسا ستارا ڈھونڈ نکالا ہے کہ.....‘‘

    ’’مگر..... علامہ اقبال اس مقام سے ڈر کر گزرے ہیں۔‘‘ میں نے اسے روکنے کے لیے شعر سنایا۔

    یہ  گنبد مینائی، یہ عالم تنہائی

    مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی

     اس نے ہار نہیں مانی۔ کہنے لگا۔ ’’مولا جب یہ شعر کہا گیا تھا، کوئی انسان چاند پر نہیں اترا تھا۔‘‘ یہ بات سچ تھی۔ اس وقت کوئی انسان چاند پر واقعی نہیں اترا تھا۔ مگر میں سوچنے لگا یا اللہ خیر۔ یہ شخص اگر چاند پر اترنے کا تہیہ بھی کر لے تو کودے گا ضرور خواہ چھت سے باہر سڑک پر آن گرے۔ اور اگر خدانخواستہ اس نے اس پراجیکٹ میں کود پڑنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو وہ آباد ہو یا برباد اسے کوئی روک نہیں سکے گا۔ تخت ہو یا تختہ۔ دنیا ادھر کی ادھر ہو، یار دوست مذاق اڑائیں یا تماشا دیکھیں۔ وہ ریورس گیئر نہیں لگائے گا، لہٰذا میں نے اس کے بچوں کے حق میں خلوص دل سے دعا کی۔ وہ مجھے چپ دیکھ کر بولا۔ ’’کیمرہ دکھاؤں؟ ..... میں نے مووی کیمرہ تک لے لیا ہے۔‘‘ وہ اٹھ کر الماری کھولنا ہی چاہ رہا تھا کہ اس وقت..... بلکہ یوں کہیے کہ بروقت بہت سے مہمان آ گئے اور سارا تسلسل ٹوٹ گیا۔ مجھے صرف اس لیے خوشی ہوئی کہ مجھ ایسا فقیر پر تقصیر لکھنے والا کائنات کا منظر نامہ لکھنے سے صاف بچ گیا۔

    تاہم مجھے آج بھی یقین ہے کہ میں نے جو اس کے اور اس کے بچوں کے حق میں خلوص دل سے دعا مانگی تھی  وہ قبول ہوئی تھی۔ کیوں کہ بعد میں معلوم ہوا کہ سلیم شاہد نے کیمرہ بیچ کر جو بھی کیا ہو اسے نذر مے نہیں کیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس نے اس موضوع پر ناول لکھنے کی ابتدا کر دی تھی۔ جسے اس نے ریٹائرمنٹ کے بعد مکمل کرنا ہے۔

    سلیم شاہد جب کوئی ارادہ کر لیتا ہے تو کوئی کچھ بھی کہے، اس پر پانی کی بوند نہیں ٹھہرتی۔ الطاف قریشی رازدارانہ تدبر اس کے سینے میں منتقل کرنے یا اسلم گورداس پوری اس سے شام ادھار مانگے یا بابا یونس ادیب اسے لچھے دار مشورہ عطا کرے، وہ سب کی سنے گا اور اپنی کرے گا۔ لیکن جب اس کے سامنے چائے کی پیالی سے بھاپ اٹھ رہی ہو، سگریٹ کا پیکٹ سامنے رکھا ہو تو وہ کسی کی کم ہی سنتا ہے اور ایسے ایسے برجستہ جملے اور قلم کائنات جیسے اور یجنل  خیالات کی ایسی  بوچھاڑ کرتا ہے کہ بعض اوقات تو تیز تر بولنے والا باخبر اور عالم شخص احمد بشیر بھی زچ دکھائی دیتا ہے۔ سنا ہے زچ کرنے کے سارے داؤ پیچ اس نے پہلے الطاف قریشی سے سیکھے پھر احمد بشیر سے دنیائے انقلاب کی کہانی سنی اور اس پر سر بھی دھنا مگر ایک دن ،جس کا میں خود بھی گواہ ہوں ،اس نے پہلے الطاف کو سیاسی اکھاڑ پچھاڑ پر بحث کرتے ہوئے کہا۔ ’’تم سیاست کیا جانتے ہو خاک؟ ‘‘اور جب احمد بشیر نے بات سنبھال کر آفاقی تناظر میں فٹ کرنے کی کوشش کی تو سلیم شاہد نے کہا۔ ’’بشیر صاحب تسی وی بے خبر آدمی او وقت بڑا اگے جا چکا اے۔‘‘

    واقعی وقت آگے جا چکا تھا ورنہ احمد بشیر کو ایسے موقعوں پر چپ ہو تا کسی نے نہیں دیکھا۔

    بہ قول سلیم کے اس نے زندگی کا آغاز ایک ڈاکٹر کے کلینک سے کیا جس کی رہائش کلینک کے اوپر تھی وہاں اس پر جوانی آئی۔ اور ”اندر بوٹی مشک مچایا‘‘..... تو جادو سر چڑھ کر ہی نہیں بولا... چوبارے تک چڑھ گیا۔ اس نیک طینت ڈاکٹر نے جو صحیح انسان کہلانے کا مستحق ہے، خاموشی سے فطری تقاضوں کو تسلیم کیا اور سزا کے بجائے جزا سے سلیم شاہد کو یوں نوازا کہ اسٹیٹ بنک میں مستقل ملازم کرا کے گویا اپنے چوبارے کے گرد حصار کر دیا۔

    تب سے آج تک وہ سارے اسٹیٹ بینک میں ڈاکٹر سلیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بینک میں پہلے پہل اس نے ڈسپنسری میں قدم جمائے اور لوگوں کو ’’آئرن مکسچر ‘‘پلا پلا کر مردانہ قوتوں کے راز سے کچھ ایسا آشنا کیا کہ کیا گھردار اور کیا چھڑا، پہلے مسحور ہوا، پھر مفتوح اور پھر سلیم شاہد کے گرد منڈلانے اور باہر کی دنیا میں پراٹھے پانے لگا۔ بینک والوں کو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شاعر بھی ہے، علم ہوا بھی تو انہوں نے اس صفت کو درخور اعتنا نہیں سمجھا، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ سلیم شاہد جیل بھی گیا تو کسی کو معلوم نہ ہوا کہ ڈاکٹر سلیم کیوں چھٹی پر چھٹی لیے جا رہا ہے۔ ویسے بھی وہ بہ یک وقت کئی روپ رکھتا ہے۔ کوئی اسے طالب جالندھری سمجھتا رہا اور کسی نے اسے مہدی حسن سے مشابہہ جان کر شراب خانے والوں سے سفارش کرائی کہ ’’ انہیں  شراب دے دی جائے۔‘‘ میں تو خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آئن اسٹائن بہت پہلے گزر گیا ورنہ اس کے نام پر تو اس کا اچھا خاصا سودا ہو سکتا تھا۔

    میں جب پہلی مرتبہ اس سے ملا تھا تو اس نے مجھے شعر سنائے تھے۔ اس کے پہلے شعر سے ہی میں اس کا گرویدہ ہو گیا تھا۔

    مٹی کا جسم لے کے چلے ہو تو سوچ لو

    اس راستے میں ایک سمندر بھی آئے گا

    اس کی شاعری سے میں ہی کیا، بہت سے سینئر شاعر بھی مزہ لیتے تھے۔ اور سیف زلفی جو سنا ہے ان دنوں احسان دانش کی نفی کرتا تھا سلیم شاہد کو شاعر مانتا تھا۔ سلیم شاہد ..... سیف زلفی کو ہاف زلفی کہتا تھا کہ اس کے آدھے بال گر چکے تھے۔ جس کے جواب میں سیف زلفی، سلیم کو صاف زلفی کہتا رہا کہ اس کے سر پر ٹاکی مارنے کی گنجائش موجود تھی۔ پھر شہزاد احمد نے جسے سب جونیئر، مینار نور سمجھتے تھے، جونیئر ترین سلیم شاہد کو اس قدر تسلیم کر لیا کہ ان دونوں کی راتوں کی نشست میکلوڈ روڈ کے کسی ریستوران میں ہونے لگی۔ شہزاد کی سند کے باعث ہی اس نے اپنا پہلا مجموعہ چھاپا، جس کا نام ”موتیوں کا جزیرہ“ تھا۔ سنا ہے اس کا انتساب بھی شہزاد احمد کے نام تھا۔ وہ مجموعہ ابھی تقسیم نہیں ہوا تھا کہ سلیم شاہد کو اپنے اندر کسی نئے سلیم شاہد کی نوید ملی جو شاعری میں شہزاد احمد سے آگے نکل رہا تھا۔ اس نے اس مجموعے کی تمام کاپیاں مع شہزاد احمد کے انتساب کے جلوا دیں اور کبھی ہمارے سامنے ذکر نہیں کیا۔ میں آج اس سے پوچھتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا گیا؟..... کیا شاعری کمزور تھی..... یا انتساب ناقص تھا؟ اس جملہ معترضہ کو چھوڑیئے..... کتاب جلوا دینا..... اولاد جلوا دینا ہے، یہی بات اس کے ارادے، عزم اور حوصلے کے علاوہ کسی بھی دوسرے شخص کو ڈس اون کرنے کی طاقت اور جرأت کا ثبوت ہے اور اپنی پہلی اولاد، پہلی شعری واردات کو اتنی آسانی سے عاق کر کے اس نے لن یو تانگ کے اس مقولے کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ ”تحریر اپنی اچھی لگتی ہے اور بیوی دوسرے کی۔‘‘

    آئرن مکسچر بنانے والا یہ مرد قلندر اپنی انہی باتوں کی بدولت آئرن مین یا مرد آہن لگتا ہے۔ اور انہی باتوں نے اسے اس وقت ہی مستند شاعر بنا دیا تھا جب ہم ایسے بھی نگینہ بیکری کے باہر کھڑے ادب کو منہ شوں مار رہے تھے۔ اس درویش نے میرا بازو پکڑا اور مجھے نگینہ بیکری سے ٹی ہاؤس لے آیا جو ایک بڑا معرکہ تھا۔ میں ٹی ہاؤس میں داخل ہونے سے گھبراتا تھا جب کہ سلیم شاہد میں بلا کا اعتماد تھا اور ہے۔ حالاں کہ ان دنوں ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے سینئر ادیب و شاعر نے لوگوں کو گھاس تو کیا ان پر نگاہ بھی نہ ڈالتے تھے مگر سلیم شاہد جس طمطراق سے مجھے اندر لے گیا وہ آج بھی یادگار ہے۔ بہت سے نئے لوگ باہر کے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر اپنے کسی نہ کسی سینئر کا انتظار کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس میری طرح نہ تو اعلیٰ درجے کی کوئی ادبی صنف تھی نہ سند نہ جنس نہ مال پانی..... تقریباً  سب میری طرح پھانگ ہوتے تھے۔ لہٰذا اس دن سے پہلے میرے سمیت سب لوگ حلقہ ارباب ذوق کے جلسے میں جانے سے پہلے فٹ پاتھ کے ایئر پورٹ سے ہی ٹیک آف کرتے تھے، مگر سلیم شاہد نے جس آسانی سے مجھے یہ مرحلہ طے کرایا تھا، میں آج بھی اس کا شکر گزار ہوں۔ اس کے پاس پیسے تھے، خلوص تھا اور سب سے بڑی بات کہ خرچ کرنے کا بے مثال حوصلہ تھا۔ جس کی کوئی نہ کوئی رمق زندگی کے اس اداس کر دینے والے موڑ پر بھی اس میں مل جاتی ہے۔ وہ زندہ بھی ہے اور زندہ دل بھی۔ سیالکوٹی ہونے کے باوجود وہ زندہ دلان لاہور کا کوئی لیڈر معلوم ہوتا ہے۔ ان دنوں ٹی ہاؤس میں داخل ہونا ایک ایسے پرستان کا خواب تھا جس کو بیان کرنا مجھے مشکل ہو رہا ہے۔

    کبھی کبھار چندہ جمع کر کے چائے کی میز پر آبیٹھنا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ دور دور سے ادیبوں کو دیکھنا، ان کی گفتگو کے انداز پر کھنا اور قد آور ادیبوں کی خوشبو سے خود کو مہکائے رکھنا زندگی کی افضل ترین خوشی محسوس ہوتی تھی جو کم از کم مجھے تو مسحور کر دیتی تھی۔ ان دنوں ایک روزنامے کی پیشانی پر باقاعدہ اشتہار چھپا کرتا تھا۔’’ادیبوں اور دانش وروں سے ملاقات کے لیے..... پاک ٹی ہاؤس۔‘‘

    میں اندر اکیلا کیسے جا سکتا تھا۔ میرا حوصلہ بھلا ان ادیبوں کے ادب کا بوجھ کیوں کر اٹھا سکتا تھا۔ رہی دانش وری تو یہ جس قدر میری سمجھ میں آ سکی ہے، سلیم شاہد اس میں مکمل طور پر فٹ ہے۔ پہلے روز ہی اس نے دھڑام سے دروازہ کھولا، ..... تڑاخ سے کرسی گھسیٹی، بیٹھا..... اور کھٹاک سے یوں سگریٹ بھرا پیکٹ میز پر پھینکا جیسے اس کے نزدیک بے چارے پیکٹ کی حیثیت ہی کیا ہے (حالاں کہ ان دونوں سگریٹ چھپا کر بلکہ دوسروں سے بچا کر رکھنے کی روایت تھی۔) اس نے چھوٹتے ہی چائے کا آرڈر دے کر ثابت کر دیا کہ ریستوران میں ہر شخص کنگ ہوتا ہے۔ چائے پیتے اور دھویں کے مرغولے اچھالتے ہوئے اس نے کسی کو پر کاہ کی اہمیت نہ دی اور آخر میں بیرے کو چونی کے بجائے دو روپے ٹپ دے کر اسے خوش اور مجھے حیران کر دیا۔ یہ سلسلہ کچھ اس طرح سے اس نے معمول بنایا کہ الہٰی بخش بیرا ہی اس کا متوالا نہیں ہوا بہت سے اکڑ فوں لوگ بھی اس کی میز پر اٹھ آئے۔

    لوگوں کو اردگرد جمع کرنے کا گر یا کمال اسے تب سے اب تک حاصل ہے۔ وہ دعوت قبول کرے یا دوسروں کو دعوت دے مگر وہ خود کو مرکز بنا کر رکھتا ہے اور اس سے کم پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ مجھے تو وہ قدم قدم پر حیرت زدہ رکھتا ہے مثلاً ایک دعوت سے اٹھارہ روز پہلے اس نے احمد فراز اور فخر زمان کے خلاف کچھ کمال کھٹ مٹھے اخباری بیان داغ دیئے تھے۔ میں جب اس دعوت میں اس کے گھر پہنچا تو سب ہی لوگ موجود تھے جن کا تذکرہ بیان میں تھا۔ احمد فراز سے فخر زمان تک اور الطاف قریشی سے الف الا محراث تک سبھی ایسے لوگ تھے جو اپنے خلاف چھپے بیانوں کے باوجود سلیم شاہد کے گرد جمع تھے۔ جس سے مجھے اس کی مقناطیسی شخصیت کا اندازہ ہوا، ہو سکتا ہے یہ اس کی شاطرانہ کشش ہو ، کیوں کہ چوبیس  گھنٹے میں سوتے جاگتے اس کا ذہن شاطرانہ داؤ پیچ کے اسرار و رموز میں الجھا رہتا ہے۔ وہ چال چلتا ہے۔ وار کرتا ہے اور پھر کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں محبت اور درگزر کا نمونہ  بن جاتا ہے۔ چال چلنا اس کی تلوار ہے اور محبت اور درگزر اس کی ڈھال۔ اس دن سے تو وہ احساس تفاخر میں گندها گندھا دکھائی دینے لگا تھا جس دن فیض صاحب نے اس کا یہ شعر۔

    باہر جو میں نکلوں تو برہنہ نظر آؤں

    بیٹھا ہوں میں گھر میں در و دیوار پہن کر

     ماسکو کے دورے میں اہل نشست کو سنایا۔ یہ خبر پاکستان پہنچی  تو سلیم شاہد چکرا گیا اور اتنا زیادہ کہ بہت دنوں میں نارمل ہوا۔ یہ تفاخر اس کے لیے اتنا بڑا کریڈٹ بنا کہ اس نے اسے پہلے تو کئی دن بے چین رکھا۔یہی  بے چینی، یہی  اضطراب نئے عزم کے نئے بادبانوں کی صورت اختیار کر گیا۔ اس نے کشتی تو بنا لی مگر بادبان نہ کھل سکے اور بے پتوار کشتی نے اسے شعر کی دنیا سے سمندر کی موج کی طرح اچھالا اور ساحل سیاست پر لا پھینکا۔ وہ اعلیٰ ترین شے یعنی  تخلیق اور عشق کی دنیا کو معطل کر کے ایک سطحی نقار خانے میں داخل ہو گیا جہاں پہلے ہی کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی مگر یہاں اس نے اتنا ضرور کیا کہ مزاحمتی شاعری کو یکجا کر کے سب سے پہلے ایسا قدم اٹھایا جس سے اس کا نام شاعروں کے علاوہ بڑے سیاست دانوں کے دلوں پر بھی ثبت  تو ہوا ،مگر نقش نہ ہو سکا۔ گویا نہ بکنے والے دلوں پر حکومت چھوڑ کر سلیم شاہد نے ایسے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کی جہاں سیف صاحب کا یہ شعر فٹ آتا ہے۔

    ہے سارا زمانہ سوداگر

    ہرچیزیہاں بک جاتی ہے

    وہ بکا نہیں مگر شعر کی دنیا اس سے اور وہ شعر کی دنیا سے اوجھل ہو گیا۔ سلیم شاہد کی ایک خوبی یہ  ہے کہ اسے کوئی کام کرنے سے عار میں ہے۔ اس نے اون بیچی ، کارڈ کا اسٹال لگایا، عورتوں کو چوڑیاں چڑھاتے ہوئے تو وہ مجھے روایتی ونجارا لگا۔ یہیں پر اکتفا نہیں، اس نے شربت بیچا ہی نہیں، بنایا بھی۔ پھر کرشمہ اچار اور کرشمہ مربے بنا کر گویا کرشمہ ہی کر دکھایا۔ سوجھ بوجھ حاصل ہوئی تو موسم بدل گیا، اس نے سندھی کڑھائی کے کام کے لیے مختلف نمایشوں میں سٹال لگائے جہاں بابا یونس ادیب ہر روز اس کی مدد کو پہنچتا تھا اور واپسی پر ہمیں گرما تا تھا کہ وہاں ’’کچ کا سامان‘‘ بہت ہے۔

    سلیم شاہد کا سب سے بڑا کاروباری رسک،لبرٹی کی وہ دکان تھی جس کا تجربہ اسے لاکھوں کے نقصان میں ہوا۔ مگر وہ اس پر اس لیے خوش ہے کہ تجربات کرنا اس کی زندگی کا حصہ ہے۔ اسی تجربے کےتجسس نے اسے محمود علی قصوری کی کوٹھی والے جلسے سے گرفتار کرایا اور قید کرایا اور تجربے ہی کی خاطر ایک عید قربان پر اس نے قصائی کا انتظار کرنے کے بجائے ساری فیملی کو وختا ڈال دیا۔ اس کے حکم پر سب بچوں نے بکرے کی ٹانگیں پکڑیں، بھابھی نے گردن دبوچی اور سلیم شاہد نے قربانی کا بکرا ذبح  کر دیا، ذبح   ہی نہیں پورے بکرے کو گوشت کی پرتوں میں کاٹا اور محلے  میں گوشت بانٹتے ہوئے بھابی نے یوں داد پائی کہ .....’’بہن تہاڈا قصائی بڑا ستھرا اے۔‘‘

    سلیم شاہد قصائی کھرا ہو نہ ہو، دل کا کھرا ضرور ہے۔ اسی لیے وہ کسی کی بے وجہ لیڈری پسند کرتا ہے نہ برداشت۔ میں نے اپنے سامنے اس کو بڑے بڑے برج الٹتے دیکھا ہے۔ اسی ٹی ہاؤس میں..... جہاں وہ کبھی گمنام داخل ہوا تھا، آج اس کے نام سے دروازے کے ساتھ والی میز پر سیٹ مخصوص ہے۔ وہ آئے نہ آئے کوئی اس کی سیٹ پر نہیں بیٹھتا اور بیٹھ جائے تو اٹھنے کے قابل نہیں رہتا۔ مگر سب اسے سلیم شاہد کی سیٹ کہتے ہی نہیں، سمجھتے بھی ہیں۔ یہ بڑی بات ہے۔ وہ لوگ جو اپنے سامنے کسی کا کتبہ برداشت نہ کرتے ہوں، اس کی سیٹ نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ اس کی عدم موجودگی میں اسے خالی بھی رکھتے ہیں۔ یہ جاننے کے باوجود کہ ایک شاعر کا دوسرے شاعر سے وہی رشتا ہے جو اینٹ کا..... اینٹ سے ہے۔ سلیم شاہ نے بہت سے اینٹ پسند مصنفین کو نہ صرف موم کیا ہے بلکہ ان کی اینٹوں کا ہار پرو کر مستقل پہن رکھا ہے۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب اس کا وجدان اسے خبر کرتا ہے کہ شہر کی کس کس محفل میں اس کے بارے میں کیا باتیں ہوئیں۔ اس کا وجدان مجھے تو کوئی بریگیڈئیر وجدان ہی دکھائی دیتا ہے، کیوں کہ مارشل لا کے دنوں میں سیاست پر گہری گہری گفتگو کرتے وقت وہ کوئی اتنا بڑا دعویٰ کر بیٹھتا تھا کہ سب اس سے خبر کا سورس پوچھنے لگتے۔ وہ فوراً بریگیڈئیر فلاں یا کرنل فلاں کہہ کر اپنی بات کو با اعتماد بناتا اور بتا تا۔ ’’صبح ہی فون آیا تھا اس کا‘‘ ..... مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی کہ سال بھر بعد ہی معلوم ہوا بریگیڈئیر کرنل  تو کوئی نہیں صرف اس کا قیاس یا وجدان ہے۔ وجہ وجدان اتنی ہے کہ تکا لگ گیا تو لگ گیا نہیں تو نہ سہی۔

    وہ دماغ کو ہمیشہ حاضر رکھتا ہے۔ ۱۹۷٦ ء میں ایک مرتبہ وہ مجھے مورل سپورٹ کے لیے ساتھ لے کر ’’ایڈل جی‘‘ سے شراب خریدنے گیا۔ شراب کے دو کواٹر لے کر اس نے ایک میری جیب میں اور دوسرا اپنی میں اڑس لیا۔ ہم دونوں ٹی ہاؤس کے سامنے والے بڑ کے پیڑ کے نیچے تک ہی پہنچے تھے کہ ایک اسکوٹر سوار اے ایس آئی نے ہمیں گھیر لیا۔ میں سر سے پاؤں تک لرز گیا جب کہ سلیم شاہد مسکراتا رہا۔’’شراب ادھر لاؤ۔‘‘ انسپکٹر بڑی تہذیب سے بولا۔ ( ۱۹۷٦ ء میں شراب کے کیسوں میں بڑا مہذب انداز اپنایا جاتا تھا)۔’’ کس لیے؟‘‘ سلیم نے پوچھا۔

    انسپکٹر اسکوٹر سے اتر آیا۔ بولا۔’’یہاں بتا دوں یا تھانے لے جا کر‘‘ ۔

    سلیم اسی لہجے میں بولا۔ ”برادر یہ  شراب میری ہوتی تو ضرور آپ کو پیش کردیتا بلکہ  ساتھ بٹھاتا۔ یہ مساوات کے ایڈیٹر کے لیے ہے۔ اسے پی کر ایڈیٹوریل لکھنا ہے۔ اب بتائیں کیا حکم ہے؟‘‘

    انسپکٹر مسکرایا۔ اس نے نحیف و نزار سلیم شاہد کو ایک ڈھیلا سلوٹ مارا اور اسکوٹر پر بیٹھ کر نکل گیا۔ میرے کانبے کو دیکھ کر وہ کھل کر ہنسا اور بولا ’’اگر بادہ خواری کی ہوتی تو یہ حال نہ ہوتا۔ بادہ خوار کو خدا نے پینے کے سو گر سکھائے ہوتے ہیں۔‘‘

    اور یہ سچ  ہے۔ وہ کئی مرتبہ شراب کے ہاتھوں ادھر ادھر ہوتے بچا کہ اس کی لک ( Luck ) اور اس کا ذہن ہر وقت جاگتا ہے۔ ایک مرتبہ جب وہ بینک کا ۳۵ کروڑ روپے کا خزانہ کسی دوسرے شہر لے کر جا رہا تھا، خزانہ گاڑی میں لدوا کر اور پولیس گارڈ کو اس کی حفاظت پر مامور کر کے سلیم شاہد آزاد ہو گیا۔ گاڑی چھوٹنے میں گھنٹہ بھر تھا سو اس سے رہا نہ گیا۔ رکشا لے کر ریگل چوک پہنچا، شراب خریدی دوباره رکشے میں سوار ہوا ہی تھا کہ پولیس والے نے دبوچ لیا اور سول لائن تھانے میں لےگیا۔

    جوں جوں گاڑی چھوٹے کا وقت قریب آ رہا تھا، اندر سے اس کی جان نکلی جا رہی تھی ۔ مگر وہ حاضر ذہن کے ساتھ مسکراتا رہا اور پولیس والوں کو ذرا بھی شبہ نہ ہونے دیا کہ اسے اس قدر جلدی ہے۔ وہ اپنے مضبوط اعصاب کے باعث ان سے کھلی  ڈھلی باتیں کرنے لگا۔ اس کے پاس شراب کا ادھا اور سینتیس روپے پچاس پیسے کے علاوہ کچھ نہیں تھا جو پولیس والوں نے لے لیے تھے ..... اس نے پہلے خدا کو ..... اور پھر اپنے ساتھ کسی محفل میں شریک ہونے والے ڈی ایس پی کو یاد کیا۔ سلیم شاہد نگاہ اٹھائی..... اس کا مقدر کہیے یا اتفاق ..... ڈی ایس پی سامنے کافی فاصلے پر دکھائی پڑا۔ سلیم شاہد نے مجسم آواز بن کر پوری طاقت سے نعرہ لگایا.....’’ ڈار صاحب‘‘ ..... سول لائن کے تھانے نے اتنی اونچی چانگر کبھی نہ سکتی تھی۔ جس میں اس ہرن کی چیخ بھی شامل تھی جو شکار ہونے کو ہوتا ہے۔ ڈار صاحب قریب آئے۔ اس سے پہلے کہ سلیم شاہ کو پہچان پائیں، سلیم شاہ سو آدمیوں کی قوت سے ان سے لپٹ  گیا اور یہی وہ منظر تھا جسے دیکھ کر پولیس کے بہت سوں نے بہ ظاہر ڈی ایس پی صاحب کو سلوٹ کیا حالاں کہ اندر سے ان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ سلیم شاہد کا ماتھا چوم لیں۔

    دونوں جدا ہوئے تو ڈار صاحب نے پوچھا۔’’حکم ؟‘‘

    ’’میرا ادھا واپس دلا دیں۔“ ڈار صاحب نے گھور کر ابھی نہیں دیکھا تھا کہ ادھا سلیم شاہد کی جیب میں آگیا۔’’آئیں.....‘‘ ڈار صاحب نے دعوت دیتے ہوئے کہا۔ ”اندر میرے کمرے میں آئیں۔‘‘

    ’’اندر نہیں.....‘‘ سلیم شاہد دھاڑا۔ ”باہر..... بس اتنی مہربانی کر دیں کہ میرے سینتیس روپے پچاس پیسے بھی واپس دلوا دیں۔ اور ایک عدد رکشا بھی..... کہ ٹائم کم ہے اور فاصلہ زیادہ ہے۔‘‘

    حکم حاکم کا..... جو مزہ سلیم شاہد کو اس دن کیا ہو گا شاید زندگی میں پھر کبھی نہ آ سکے۔ چشم زدن میں مبلغ سینتیس روپے پچاس پیسے جمع ایک تیز رفتار رکشے کے حاضر کیے گئے اور بہت سے باور دی اور کچھ بے وردی سپاہیوں نے سلیم شاہد کو یوں الوداع کیا .....جیسے سلیم شاہد حج پر جا رہا ہو۔ سلیم شاہد نے رکشے والے کو راستے ہی میں پیسے چکا دیے تھے تا کہ اسٹیشن پر چھلانگ لگا کر بھاگ سکے اور یقین کیجئے جب وہ پھولتے سینے اور لٹکتی  زبان سے بھاگ کر پلیٹ فارم پر آیا تو گاڑی رینگ رہی تھی اور وہ اس میں لپک کر یوں چڑھ گیا جس طرح پہلی مرتبہ لپک کر ٹی ہاؤس میں داخل ہوا ہوگا۔

    انہی اتفاقات اور حادثات کی بنا پر میں اسے خوش قسمت کہتا ہوں۔ وہ ایسا زرخیز آدمی ہے کہ واقعات لمحہ لمحہ زنجیر  کیے جا سکتے ہیں۔ مگر مسعود منور کے ساتھ سلیم شاہد  جب اپنی دانست میں ریگل کی جانب جا رہا تھا کہ دونوں ناصر باغ (گول باغ) پہنچ  گئے، ظاہر ہے ہوش میں نہیں تھے۔ مگر اس قدر ہوش ضرور تھا کہ پچاس کا نوٹ اس لیے نہ نکالا کہ جن پولیس والوں سے پالا پڑا تھا۔ وہ صرف چار روپے مانگتے تھے۔ سلیم شاید کے پاس پچاس کا نوٹ تھا اور مسعود منور کے پاس دو روپے تھے۔ دونوں..... دو سپاہیوں کو قائل کرتے رہے کہ ان کے لیے دو ہی روپے کافی ہیں۔ انہیں ڈر تھا کہ پچاس کا نوٹ دیکھ کر وہ سارے کا سارا ہڑپ کر جائیں گے۔ اس مے نوشی اور پھر بے ہوشی میں انہوں نے جب ضرورت سے زیادہ ہوشیاری شامل کر دی تو اس کے سبب رات حوالات میں بسر کی۔ یہ حوالات پرانی انار کلی کے آئیڈیل تھانے کی تھی۔ بعد میں سناگیا کہ رات بھر انہوں نے مسعود مفتی کا نام لے لے کر پولیس والوں کو بہت ڈرایا دهمکایا (جو ان دنوں لاہور کے ڈی سی تھے) دونوں بار بار اصرار کرتے رہے کہ ہم نے مسعود مفتی کے ساتھ بیٹھ کر پی ہے۔ اسے بھی بلا کر یہاں بند کرو مسعود مفتی نے جو کہ اس نعمت سے محروم تھا یہ واقعہ سنا تو مسکرا دیا اور حبیب جالب کے کہنے پر اسی مسعود مفتی نے مجسٹریٹ سے نرم سزا کی سفارش بھی کی۔ یہ سفارش بہت کام آئی اور نواب محمد احمد خان اعزازی مجسٹریٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ لکھواتے ہوئے جب یہ لکھوایا کہ ’’شراب پی کر غل غپاڑا کر رہے تھے‘‘  تو ریڈر سے اس جملے کوکٹوا دیا اور پھر اصلاح یوں کی کہ ’’شراب پی کر واویلا کر رہے تھے۔‘‘ اس نے دونوں کو بتیس بتیس   روپے جرمانہ کر کے رہا کر دیا۔ اور یوں یہ قصہ خوش بختی پر تمام ہوا۔

    سلیم شاہد میرے نزدیک بہترین غزل گو ہے۔ بہترین الفاظ کو بہترین ترتیب میں سجانے والا یہ عمدہ شاعر جب مشاعرے میں اپنی غزل سناتا ہے تو لگتا ہے کوئی بچہ کرسٹل  کے نوادرات کو تہس نہس کر رہا ہے۔ اچھے سخن  شناس کو بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ پرلطف پلاؤ کے ساتھ وہ کنکر بھی نگل رہا ہے مگر اسے لہجے کے توازن کی پروا ہے نہ کھنک کی، نہ داد کی نہ ہوٹنگ کی بلکہ بعض اوقات تو یہ لگتا ہے کہ وہ خود سامعین کو ہوٹ کر رہا ہے۔ وہ اپنا کلام سناتے ہوئے اس کا ثبوت ضرور دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی بڑے مشاعرے میں وہ بڑی بڑی شخصیات کے جلو میں اس پل صراط سے صحیح سالم گزر جائے۔ مگر یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ اپنی روایت کا نشان نہ چھوڑے۔ یوں اس کا ذہن ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر ڈٹا رہتا ہے۔ بالکل سیاست دانوں کی طرح..... اس کی جیب میں ایک سے ایک اچھا داؤ پرانے سکوں کی طرح کھٹکتا ہے تو وہ چیلنج سامنے ہو نہ ہو داؤ ضرور لگاتا ہے۔ کوئی رکاوٹ بنے تو کشتوں کے پشتے لگا دیتا ہے، کوئی مزاحم نہ ہو تو بے مزہ ہو کر پسپائی اختیار کرتا ہے۔ اس فیلڈ میں وہ اس وقت سے ہے جب اس نے حلقہ ارباب ذوق کے متوازی ایک تنظیم قائم کر لی تھی۔ نام اس کا ’’اردو مجلس“ رکھا گیا اور گرما گرم جلسے ہونے لگے۔ سب نئے پرانے جنہیں حلقے والے قریب نہ آنے دیتے تھے، ان جلسوں کی رونق بنے۔ چند ماہ بعد سلیم شاہد کے اندر کے سیاست دان نے کروٹ بدلی اور اس نے الیکشن اناؤنس کر دیا اور اس گھی کو خوامخواہ ٹیڑھی انگلی سے نکالنے کی اس طرح ٹھانی کہ سیکرٹری شپ افتخار جالب کو آفر کی مگر الیکشن مجھے لڑوا دیا۔ جب میرا نام پیش ہوا تو افتخار جالب نے جو ہم سب کے لیے قابل احترام اور سینئر تھے اور بہت دور رس انسان ہیں، اپنا نام واپس لے کر مجھے سیکرٹری تو بنوا دیا ،تاہم مجھے یہی لگا کہ میں استعمال ہو چکا ہوں کیوں کہ عباس اطہر جو افتخار جالب کو اپنا گرو مانتا تھا مجھ سے بری طرح روٹھ گیا مگر سلیم شاہد کو اس ساری گیم میں بڑا لطف آیا۔ کیوں کہ اس نے ’’اردو مجلس‘‘ کا عہدہ قبول نہ کر کے اپنے آپ کو ’’حلقہ ارباب ذوق ‘‘ کا الیکشن لڑنے کا اہل ثابت کر دیا۔ (کسی دوسری انجمن کا عہده دار حلقے کے کسی عہدہ کے لیے الیکشن نہیں لڑ سکتا) اور واقعی وہ اس کے بعد ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘  کا جوائنٹ سیکرٹری منتخب بھی ہو گیا جب کہ ان دنوں میری کہانی تک حلقے  کے پروگرام میں شیڈول نہیں ہوئی تھی۔ اور میں جو کہتا ہوں کہ اس کے اندر ہردم ایک سیاست داں، ایک شاعر کلبلاتا رہتا ہے تو یہ بہت حد تک درست ہے۔ عجیب اور اصل بات یہ ہے کہ وہ ہر میدان میں اپنی کیپسٹی  سے زیادہ خرچ کرتا ہے خواہ وہ عقل ہی کیوں نہ ہو۔ گھر میں اس کی بات سنی جاتی ہے اور اسے مدبر سمجھا جاتا ہے، دوست اسے مدبر مانیں یا نہ مانیں ..... وہ دوستوں کے لیے اپنے دل میں ایک تنبو تانے رہتا ہے۔ سب کے دکھ سنتا ہے، مشورہ بھی دیتا ہے، البتہ دوستوں کو اس کا مشورہ پسند نہ آئے تو وہ کیا کرے۔ لیکن یہ طے ہے کہ دوسروں کے لیے جب وہ کچھ نہ کچھ کرتا ہے تو خلوص دل سے، اندر باہر سے ،ایک ہو کر ۔اس کے لباس پر سیاست کے چھینٹے تو ہیں مگر دل بے داغ ہے اگر کوئی نقش سویدا تھا بھی..... تو اس کی ریٹائرمنٹ نے اسے دھو دیا ہے۔

    ساری باتیں اپنی جگہ .....نئے غزل گو کے طور پر اس کی شاعری اعتماد کا ایک ایسا نشان ہے جسے نظرانداز کرنا نئے شعور سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اس کے لہجے اور وژن کا جمال اسے ایک خوبصورت شاعر کے طور پر پیش کرتا ہے، جس نے کم لکھنے کے باوجود .....سلیقے اور حسن کاری سے داستان رقم کی ہے۔ وہ زبان کا ادا شناس نہ سہی، لفظ کا مزاج دان تو ہے۔ اسی باعث وہ لفظ کو تخلیقی سطح  پر پرکھنے اور سجانے کا ہنر جان گیا ہے۔’’صبح سفر ‘‘ سے’’خواب سرا‘‘ تک اس وہبی شاعر کے بہت سے ایسے اشعار ملیں گے جو دلوں پر نقش ہیں اور نقش رہیں گے۔ وہ ایک ایسا و نجارا ہے جس کے چھابے میں ہر رنگ کی شے موجود ہے جو اسے تو آسودہ رکھتی ہی ہے قاری کو بھی آسودہ ذہن کرتی ہے۔ خدااس ونجارے کو سلامت رکھے ، صحت مند رکھے اور خوش رکھے۔

     

    ا- یہ وہی نواب احمد خاں تھے جن کا قتل بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کو منظر سے ہٹانے کا سبب بنایا گیا۔ (ی۔ج)