انتظار حسین

انتظار حسین

برہمن بکرا

    برہمن بکرا

    دکن دیس میں نرا بدا ندی کے کنارے ایک برہمن رہتا تھا۔ ہر طرح کے سکھ آنند میں تھا۔ بس، ایک دکھ تھاکہ اس کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک سنت گھومتا پھرتا اس گاؤں میں جا برا جا۔ یہ برہمن اس کے پاس پہنچا۔ چرن چھوئے اور بولا: ’’ سنت جی! کچھ مجھ پہ بھی کرپا کرو! میرے کوئی بیٹا نہیں ہے۔‘‘

    سنت نے کہا: ” دیوی پہ بکرا چڑھا۔ دیوی تجھے پتر دے گی۔‘‘

    برہمن نے وہاں سے لوٹ کر ترنت ایک بکرا خریدا۔ اسے خوب میوہ کھلایا کہ موٹا ہو جائے کہ دیوی موٹے بکرے کے بدلے میں موٹا سا بیٹا اسے دے۔ بکرا میوہ کھاتے کھاتے ہنس پڑا۔ ہنسا تو ہنستا ہی چلا گیا۔ برہمن اس کو ہنستا دیکھ کر چکرایا۔ بولا: ’’ اے بکرے ! تُو ہنسا کس کا رن؟‘‘

    بکرا بولا: ’’ اے برہمن! میں دنوں کے ہیر پھیر کو دھیان میں لا کے ہنسا۔ کیا سمے کا چکر ہے اور کیا دنوں کا الٹ پھیر ہے کہ تب تُو بکرا تھا اور میں برہمن تھا۔ اب میں بکرا ہوں اور تُو برہمن ہے۔“

    ’’ اے بکرے! یہ کب کی بات ہے۔‘‘

    ’’ اے برہمن! یہ تب کی بات ہے جب راجا بکرماجیت، اجین کے سنگھاسن پہ بیٹھے راج کرتے تھے ۔ میں اجین کا نامی گرامی برہمن تھا۔ پالنے والے نے سب کچھ دیا تھا بس ایک بیٹا نہیں دیا تھا اس کا مجھے بڑا دکھ تھا۔ ایک جوگی سے میں نے اپنا یہ دکھ کہا تو اس نے کہا کہ دیوی کو بکرا بھینٹ دے۔ وہ تجھے بیٹا دے گی۔ میں نے جھٹ پٹ ایک بکرا خریدا اور اسے میوے کھلا کر موٹا کیا کہ دیوی خوش ہو اور مجھے موٹا بیٹا دے اور برہمن ! وہ بکرا تُو تھا۔“

    بکرا اتنا کہ کر چپ ہو گیا۔ برہمن بے چارا پھیر میں پڑ گیا۔ چھری جیسے نکالی تھی، ویسے ہی رکھ دی۔ دنوں تک اسے کھلاتا پلاتا رہا۔ دنوں بعد ایک دن اس نے پھر چھری نکالی۔ سوچا کہ آج اس کے گلے پہ چھری پھیرو اور دیوی جی کی بھینٹ دو۔ بہت سا میوہ اس کے سامنے رکھا کہ آج آخری بار پیٹ بھر کے کھالے ! بکرے نے میوے میں منہ ڈالا اور رو پڑا۔

    برہمن نے اسے روتا دیکھ کر اچرج کیا اور پوچھا: ’’ اے بکرے ! تو کس کارن روتا ہے؟‘‘

    ’’ برہمن ! میں اس کا رن روتا ہوں کہ آج تُو میرے گلے پہ چھری پھیر رہا ہے، کل کوئی دوسرا تیرے گلے پہ چھری پھیرے گا۔“

    برہمن ہنسا اور بولا:’’ بکرے! میں اب کون سا بکرا ہوں کہ کوئی مائی کا لال میرے گلے پہ چھری پھیرے گا۔ بکرے کا جنم میں بھول چکا۔ اب تو میں منش جاتی میں ہوں۔“

    ’’ہاں ! اس سمے تو منش جاتی میں ہے۔‘‘ بکرے نے ٹھنڈا سانس بھرا:’’ مگر میرے گلے پر چھری پھیر نےکے بعد تو منش جاتی میں نہیں رہے گا ۔‘‘

    ’’ کیسے نہیں رہوں گا ؟‘‘

    ’’برہمن! اور تو میں کچھ جانتا نہیں پر اتنا جانتا ہوں کہ کوئی آدمی خون بہا کر آدمی کی جون میں نہیں رہتا اورجنم جنم کے دکھ اٹھا کر مجھے اتنا پتا چلا ہے کہ کرموں کا پھل اد بدا کر ملتا ہے۔ جو جیسا کرے گا، ویسا بھرے گا۔“

     برہمن یہ سن کر پھر دَبدا میں پڑ گیا۔ چھری جیسے نکالی تھی، ویسے ہی رکھ دی ،پھر دنوں تک اس کی ہمت نہ پڑی کہ چھری نکالے اور بکرے کے گلے پہ تیز کرے۔ بکرا بھی نچنت ہو گیا۔ مزے مزے سے برہمن کے میووں کی جگالی کرتا رہا۔

    آخر ایک دن پھر برہمن نے جھرجھری لی۔ چھری کو نکال، خوب تیز کیا ۔ من ہی من میں کہا کہ یہ بکرا بہت چاترہے۔ کبھی ہنستا ہے، کبھی روتا ہے اور ایسا اپدیش دیتا ہے کہ میں بالکل بکری بن جاتا ہوں۔ اب کے ہنسے یا روئے یا گائے یا اپدیش دے ،میں اس کی ایک نہیں سنوں گا، بس گلے پہ چھری رکھ دوں گا۔ دیر تک وہ اسی طرح سوچتا رہا، اپنے من کو پکا کرتا رہا اور چھری کو تیز کرتا رہا مگر اس نے دیکھا کہ بکرا آج بالکل چپ ہے۔ نہ ہنستا ہے، نہ روتا ہے، نہ بولتاہے۔ بولا: ’’ اے بکرے! آج تُو بہت چپ ہے۔ تُو میرے ہاتھ میں چھری دیکھ رہا ہے اور پھر بھی کچھ نہیں بولتا۔“

     بکرے نے ٹھنڈا سانس بھرا اور کہا:’’ مورکھ سے بات کرنا اپنی بات کو کھونا ہے اور ہونی کو کوئی کب تک ٹال سکتا ہے۔ میرا گلا کٹے ہی کئے اور تو بکرا بنے ہی بنے ۔ ہم دونوں کی گردنیں ایک رسی سے بندھی ہیں۔ بس، اتنا ہے کہ کوئی آج کٹی، کوئی کل کٹی۔‘‘

     برہمن پھر ڈولنے لگا تھا، پر جلدی ہی سنبھل گیا۔ تھوڑا بچار کر کے بولا کہ ’’ اے بکرے! تیرا گلا کاٹے بنا تو میں رہ نہیں سکتا۔ دیوی کو بھینٹ جو دینی ہے۔ پر کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ میں بکرے کی جون میں جانے سے بچ جاؤں اور گلا میرا چھری تلے آنے سے بچ جائے ۔‘‘

    بکرا سوچ کے بولا کہ ’’ اے برہمن! تُو میری اِچھا پوری کر! پھر میں دیکھوں گا کہ میں تیری اِچھا کتنی پوری کر سکتا ہوں۔‘‘

    ’’ تیری کیا اِچھا ہے؟‘‘

    ’’میری اِچھا یہ ہے کہ جب میرا گلا کٹ جائے تو تو گیتا کے آٹھویں ادھیائے کا پاٹھ کر کے ایک چلو پانی مجھ پر چھڑک دیجیو ! کہ اس پر کار میں جنم چکر سے نکل جاؤں گا اور مکتی پالوں گا۔‘‘

    ’’یہ بات ہے تو میں تیری اِچھا پوری کروں گا۔‘‘

    سو، جب برہمن بکرے کے گلے پر چھری پھیر چکا تو اس نے گیتا کے آٹھویں ادھیائے کا پاٹھ کیا اور پھر ایک چلو پانی لے کر اس پر چھڑک دیا۔ بکرے نے اسی دم اپنی بکرے والی دیہی چھوڑی اور دیو دیہی میں آ گیا۔ اس کے ساتھ ہی بیکنٹھ جانے کے لیے تیار ہوا۔ برہمن سے بولا: ’’ اے برہمن ! تو نے میرے ساتھ بھلائی کی کہ گیتا کے آٹھویں ادھیائے کا پاٹھ کر کے مجھے جنم چکر سے مکت کیا، سو،اے برہمن ! تُو کہ بکرے کی جون میں جانے سے جھجکتا ہے ،اب تب تک بکرے کی جون میں نہیں جائے گا جب تک خود اس کی اِچھا نہیں کرے گا۔“

    یہ کہہ کر بکرا د یو دیہی میں بیکنٹھ سدھارا۔ برہمن خوش خوش اپنی استری کے پاس گیا۔ اسی رات اس کی استری کو گر بھ رہا اور نو مہینے بعد اس نے بیٹا جنا۔ پر اِدھر اُس نے بیٹا جنا اُدھر برہمن کا وقت آ گیا۔

     برہمن نے مرکر بندر کی جون میں جنم لیا،  پر بندر کی جون میں اس نے کوئی سکھ نہیں پایا۔ اس نے ایسے دیس میں آنکھ کھولی جہاں کال پڑا ہوا تھا۔ وہاں آدمی بھو کے مررہے تھے ۔ اسے کھانے کے لیے کہاں سے مل جاتا ؟ فاقوں میں کب تک جیتا؟ آخر کو پر ان چھوڑ گیا۔ اس کے ساتھ ہی بندر کی جون سے نکلا، پھر کتے کی جون میں پیدا ہوا۔

    کتے کی جون میں اسے بہت خوار ہونا پڑا۔ ایک ایک ہڈی کے لیے اسے کتنے کتوں سے لڑنا پڑا ۔ جس کتے سے بھی اس کی لڑائی ہوئی، اس نے بھنبھوڑ ڈالا۔ ایک بار ایک گھر میں گیا اور ہنڈیا میں منہ ڈال دیا۔ مالک نے دیکھ لیا۔ ایسا ڈنڈا مارا کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی، پھر وہ لنگڑاتا ہوا جس گلی سے گزرتا، لڑکے بالے اسے اینٹیں مارتے ۔ اس طرح بہت مارکھائی۔ آخر کو نڈھال ہو گیا اور دم تو ڑ دیا ،اس کے بعد نیا جنم لیا اور جنم لیتا چلا گیا۔ کتنی جو نیں بدل ڈالیں۔ بہت زمانے کے بعد اس نے بلی کی جون میں جنم لیا۔ اس جنم میں بھی اسے چین نہیں ملا۔ جس نگر میں اس نے جنم لیا تھا وہاں کے لڑکے بالے بلا کے نٹ کھٹ تھے ۔ دیا تو ان میں نام کو نہیں تھی۔ جب بھی وہ ان کے ہتھے چڑھ جاتی، وہ اس کے گلے میں رسی باندھ کر اسے کھینچے کھینچے پھرتے اور بے طرح مارتے پیٹتے۔ پھر اس نگر کے کتے بھی اس کے پیچھے پڑے رہتے ۔ ایک کتے نے تو اسے ایسے بھنبھوڑا کہ اس کے سارے بدن میں گھاؤ پڑ گئے ۔ بالکل ادھ موئی ہوگئی۔

     اس دُر دشا  میں برہمن بلی  نے اپنے جنموں کو یاد کیا اور بہت دکھی ہوا۔ ایک ایک کر کے سارے اگلے پچھلے جنم اس کے دھیان میں ایک دَم سے پھر گئے۔ جس جنم کو دھیان میں لایا،  اُسے دُکھ بھرا پایا۔ ان گنت جنم ،ان گنت دکھ، جیسے یہ جنم چکر نہ ہو، دکھوں کی مالا ہو ۔ اس نے درد کے ساتھ کہا کہ ہے رام ! سکھ کون سی جون میں ہے؟ سکھ اس جنم میں کہیں ہے بھی؟ یا یہ سارا چکر ہے ہی دکھ درد کا گورکھ دھندا ۔ اس آن اُس نے جانا کہ جینے کا یہ بکھیڑا کتنا فضول ہے۔ اس کا کوئی ارتھ، کوئی تت ہے ہی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نیا جنم لے رہے ہیں، اب ہمیں نیا جیون ملے گا مگر بس جون بدلتی ہے، باقی کچھ نہیں بدلتا۔ پھر وہی سارے دکھ ،وہی کٹھنائیاں۔ کوئی نیا جنم نہیں ملتا، جیون اپنے آپ کو بس دہراتا چلا جاتا ہے اور اس دھیان کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ جون بدلتے بدلتے کتنا تھک گیا ہے۔ جینا، پھر مرنا، پھر جینا ،پھر مرنا ۔ یہ کیا جیون ہوا کہ بس جیتے رہو، مرتے رہو۔ اس بار بار کے مرنے جینے میں رکھا کیا ہے۔ میں نے اتنے جنم لیے۔ ہر جون میں جیا۔ ہر دیہی میں بسر کی ،پر مجھے ملا کیا ؟ بس دکھ ملے، درد ملا۔ اس دھیان کے ساتھ اس نے سوچا کہ بہت بھگت لی، اب اس بکھیڑے کا انت ہونا چاہیے اور اسے یاد آیا کہ بکرے نے بیکنٹھ جاتے ہوئے کیا کہا تھا۔ تو مجھے آخر میں تو بکرا ہی بننا ہے ،پھر کس کا رن اوٹ پٹانگ جو نیں لے رہا ہوں۔ کبھی اس جون میں، کبھی اُس جون میں، کبھی کتے کی دیہی میں، کبھی بلی کی دیہی میں ۔ اپنے آپ کو میں کیوں تھکا رہا ہوں ۔ مجھے تھک ہار کر بکرا ہی بننا ہے۔سو ،اب سمے آ گیا ہے کہ میں اپنے انجام کو مان لوں اور بکرا بن جاؤں۔ جس بھلے مانس کے پلے پڑوں گا، اس سے بنتی کروں گا کہ مہاراج! جب میرے گلے پر چھری پھیر چکو تو کر پا کر کے گیتا کے آٹھویں ادھیائے کا پاٹھ کر کے ایک چُلو پانی میری دیہی پہ چھڑک دیجیو ! رام تمہارا بھلا کرے گا۔ میری مکتی ہو جائے گی۔

    بس ،اس اِچھا کے ساتھ برہمن بلی نے پر ان چھوڑ دیے اور ترنت ہی بکرے کی جون لے لی ۔

     برہمن نے جینے کے چکر سے نر اس ہو کر بکرے کی جون لی تھی اور یہ آس باندھی تھی کہ کوئی بھلا آدمی دیوی پہ بھینٹ چڑھانے کے لیے اس کے گلے پہ چھری پھیرے گا اور گیتا کے آٹھویں ادھیائے کا پاٹھ کر کے اور چُلو بھر پانی چھڑک کے اسے مکتی دلائے گا، پر وہاں تو کچھ اور ہی چکر چل گیا۔ جس آدمی نے اسے خریدا، وہ ایک مداری نکلا۔ اس نے اسے مار مار کے ڈگڈگی پہ ناچنا سکھایا۔ ایک چار انگل کی تپائی بنائی اور اسے سدھا یا کہ چاروں ٹانگیں جوڑ کر اس پہ کھڑا ہو اور تماشا دیکھنے والوں کو سیس نوا کے پر نام کرے۔

    مداری نے برہمن بکرے کو اس طرح سدھانے کے بعد اس کا تماشا دکھانا شروع کیا۔ اس کے پاس ایک بندر یا تھی اور ایک یہ بکرا تھا۔ دونوں کو رسی میں باندھ کر نگر نگر لیے پھرتا۔ ڈگڈگی بجا کے بھیڑ اکٹھی کرتا۔ بندریا کو نچاتا، بکرے کو چار انگلی والی تپائی پہ کھڑا کر کے اس سے تماشائیوں کو ڈنڈوت کراتا۔ مداری گھومتا پھرتا ایک دن اجین میں جا پہنچا۔ وہاں بازار میں مجمع جمع کر کے اس نے تماشا شروع کیا۔ برہمن بکرا جس گھڑی چاروں ٹانگیں سمیٹ کر تپائی پہ کھڑا ہوا اور مجمع کے سامنے سر نیوڑھایا تو اس نے دیکھا کہ تماشائیوں میں اس کا بیٹا کھڑا ہے اور اس کا تماشا دیکھ کر خوشی سے تالیاں بجا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر برہمن بکرا شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ ترنت تپائی سے اتر آیا، پھر مداری نے لاکھ اسے پچکارا، ڈانٹا ڈ پٹا پر وہ رام نہ ہوا ۔ مداری نے لوگوں کو یہ کہہ کر سمجھایا کہ بکرا آج بندریا سے روٹھ گیا ہے۔

    اس شام ڈیرے میں پہنچ کر برہمن بکرا ایسے ڈھیر ہو گیا جیسے اس میں جان ہی نہ ہو ۔ دانہ پانی سامنے آیا تو اس نے بیزاری سے منہ پھیر لیا۔ مداری نے بہت تھپکا پچکارا پر اس نے دانے پانی کو منہ نہیں لگایا۔ رات گئے تک چپ پڑا رہا۔ سوچتا رہا کہ ہے رام ! یہ تیری کیا مایا ہے کہ جس کے جنم کے لیے مجھے بکرے کی جون لینی پڑی ،وہ بھی میرا تماشا دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ کیا دنیا اسی کا نام ہے اور جیون یہی کچھ ہے؟ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ بڑبڑایا کہ یہ جنم مجھ پر سب جنموں سے بھاری ہے۔ کسی جون میں میری اتنی رسوائی نہیں ہوئی تھی، جتنی اس جون میں ہوئی ہے اور یہ جون ہے کہ کھنچتی چلی جارہی ہے۔ کتنی جلدی جلدی میں نے ایک جون چھوڑی، دوسری جون پکڑی مگر اس جون میں آکر پھنس گیا۔ یہ جون تو چچڑ بن گئی۔ وہ جسے میرے گلے پر چھری پھیرنی ہے پتا نہیں کہاں مرگیا ہے؟ رام! میں کب تک اس جنم کو بھوگوں، کب تک دنیا والوں کے لیے تماشا بنا رہوں اور اس کی آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس پڑیں۔ کتنی دیر تک چپ چاپ آنسو بہاتا رہا، پھر رہا نہ گیا، دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ مداری کی آنکھ کھل گئی۔ بڑ بڑانے لگا آج تو بکرا بہت ممیارہا ہے۔ اٹھ کر اس کے دو لاتیں رسید کیں۔

    اب صبح ہو رہی تھی ۔ مداری نے بکرے کو کھونٹے سے کھولا اور باہر نکلنے کے لیے تیار ہوا۔ بکرے نے چلنے میں ہچر مچر کی تو مداری نے پھر اسے زور سے دو لاتیں رسید کیں۔ بچارا کیا کرتا، سیدھے سبھا ؤ چلنے لگا اور جب مداری نے بازار میں پہنچ کر ڈگڈی بجا کے مجمع اکٹھا کر لیا اور اسے اشارہ کیا تو اس برہمن بکرے نے بلا کسی اگر مگر کے چار انگلی والی تپائی پہ  پہلے اگلا کھر ٹکایا پھر دوسرا اگلا کھر، پھر سہج سے پچھلی دو ٹانگیں اچکا کے چاروں کھر اکٹھے ٹکالیے۔ تھوڑی دیر تک ڈرتا رہا کہ کہیں ڈگ نہ جائے، پھر آخر کو سنبھل گیا۔ آنکھیں موند کے سر نیوڑھایا جیسےتماشائیوں کو پر نام کر رہا ہو۔