انتظار حسین

انتظار حسین

بے سبب

    بے سبب

    بیوی نے اس کی طرف غور سے دیکھا:’’ کس بات پہ ہنس رہے ہو؟“

    ’’میں ہنس رہا ہوں؟ نہیں تو۔‘‘   وہ سٹپٹا گیا۔

    ’’لو! ہنس ہی نہیں رہے ہو ۔ باچھیں تو کھلی جا رہی ہیں ۔‘‘ر کی، پھر بولی:’’ کوئی یاد آ رہا ہے۔‘‘

    ’’یاد کون آتا ؟‘‘ وہ سٹپٹا کر چپ ہو گیا۔

     کئی مرتبہ اس نے کوشش کی کہ بیوی اِدھر اُدھر ہو جائے تو دل کھول کر ہنسا جائے مگر وہ ٹس سے مس ہی نہیں ہو رہی تھی۔ ناشتے کے برتن باورچی خانے میں رکھے اور فوراً ہی واپس آگئی۔ رفتہ رفتہ اسے یقین آگیا کہ گھر میں اسے ہنسنے  کی آزادی میسر نہیں آسکتی۔ پھر کہاں جایا جائے ۔ گھر کی طرف سے مایوس ہو کر اس نے باہر تصور دوڑایا اور ایسے مقامات کو دھیان میں لایا جہاں اطمینان سے ہنسنے  کے امکانات تھے۔ اصل میں آج صبح ہی سے اس کا ہنسنے کو جی چاہ رہا تھا۔ دفتر آج اسے دیر سے جانا تھا۔ خیال یہی تھا کہ گھر میں اطمینان سے بیٹھیں گے اور ہنسیں گے ۔ جب گھر کے اندر ہنسنے  کے امکانات اس نے مسدود دیکھے تو اُٹھ کھڑا ہوا۔

    ’’تمہیں تو دفتر آج دیر سے جانا تھا۔‘‘ بیوی نے ٹوکا۔

    ’’ہاں ! مگر ایک دو کام باہر کے ہیں۔ سوچا کہ انہیں نمٹا لیا جائے ۔ پھر ادھر سے ادھر ہی دفتر چلا جاؤں گا۔“

    ’’جا رہے ہو تو بجلی کا بل بھی ادا کر دو ۔ پرسوں آخری تاریخ ہے۔‘‘کہتے کہتے بیوی اٹھی، اندر گئی اور واپس آ کر بجلی کا بل اور رقم اس کے حوالے کر دی۔

     جب وہ چلنے لگا تو بیوی کو پھر ایک کام یاد آ گیا:’’ اجی! میں نے کہا کہ خالہ اماں کو منی آرڈر بھی تو بھیجنا تھا۔ بل ادا کرو تو وہیں ڈاک خانہ میں منی آرڈر بھی کر دینا ۔‘‘ اور جلدی سے سو کا نوٹ اندر سے لا کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔

     گھر سے نکل کر اس نے اپنے آپ کو آزاد محسوس کیا۔ اب میں اطمینان سے ہنس سکتا ہوں، سکوٹر سٹارٹ کرتے ہوئے ہنسی اس کے ہونٹوں پر کھیلنے لگی تھی کہ دفعتاً خیال آیا کہ لوگ اسے سکوٹر پر ہنستا دیکھیں گے تو کیا کہیں گے ۔ آدمی سکوٹر پہ بیٹھا ہو اور ہنس رہا ہو تو کتنا عجب سا لگتا ہے۔ بس اس خیال کے ساتھ اس نے ہنسی کو ملتوی کر دیا۔

    بجلی کے بل کی ادائیگی کے لیے بنک پہنچا تو کاؤنٹر کے سامنے ایک پوری قطار کو پایا۔ وہ بھی قطار میں لگ گیا۔ قطار میں کھڑا رہا۔ بور ہوتا رہا۔ جیسے تیسے باری آئی۔

    بل ادا کر کے ڈاک خانے پہنچا۔ منی آرڈر فارم لے کر اسے پر کیا۔ فارم پر کرتے کرتے کاؤنٹر پہ اور کئی منی آرڈر بھیجنے والے آ کھڑے ہوئے۔ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا۔ وہ سب سے پیچھے تھا۔ سب سے بعد میں اس کی باری آئی۔

     بنک اور ڈاک خانے نے اسے بہت بور کر دیا تھا۔ سوچا کہ کسی ٹھنڈے گوشے میں بیٹھ کر چائے پی جائے کہ طبیعت بحال ہو۔ قریب ہی ریستوران تھا۔ اس میں داخل ہو گیا۔ ٹھنڈا پانی پیا ،گرم چائے کا گھونٹ چڑھایا تب کہیں جا کر طبیعت بحال ہوئی ۔ طبیعت کی بحالی کے ساتھ ہنسنے کی خواہش عود کر آئی مگر فوراً ہی خیال آیا کہ آس پاس کی میز سے کسی نے اسے ہنستے دیکھا تو کیا سوچے گا۔ یہی  کہ اس آدمی کا دماغ چل گیا ہے۔ اس نے اردگرد نظر ڈالی۔ میزیں بھری ہوئی تھیں۔ یہ لنچ کا وقت تھا۔ سب کھانے میں مصروف تھے ۔ کسی چہرے پر کوئی ہنسی نہیں تھی۔ مجھے ہنسنے  کی فرصت ہے ،اس نے سوچا مگر آدمی اکیلا ہو اور ہنس رہا ہو تو خواہ مخواہ شک ہوتا ہے کہ سنک گیا ہے۔ تو ہنسنے   کے لیے دوسرے کی شرکت ضروی ہے۔ یہ عجب طرح کی پابندی ہے، اس نے چڑ کر سوچا۔

    سوچا دفتر چلنا چاہیے۔ ہنسنے کے لیے دفتر سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ۔ وہاں ہنسنے میں شرکت کرنے والے آسانی سے میسر آ جاتے ہیں۔ دفتروں میں ان دنوں یہی کچھ ہوتا ہے۔ فائلوں کے ڈھیر لگتے رہتے ہیں۔ دفتری وقت باتوں میں گزرتا ہے۔ کبھی سیاسی مسائل پر بحث، کبھی لطیفہ بازی۔ فاروقی کو کتنے لطیفے یاد ہیں۔ اسے بس بہانہ چاہیے۔ شروع ہو جائے گا مگر دفتر میں پہنچ کر اس نے اور ہی فضا دیکھی۔ مسئلہ یہ زیر بحث تھا کہ فاروقی کی سنیارٹی کو نظر انداز کر کے علی احمد کو، جو فاروقی سے جونیئر تھا، اگلا گریڈ دے دیا گیا تھا۔ فاروقی کا موڈ سخت آف تھا۔

     ایک بیزاری کے ساتھ وہ دفتر سے گھر کی طرف چلا۔ بس اسی بیزاری کے عالم میں اس کے ذہن میں ایک سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ آخر وہ ہنسنا کیوں چاہتا ہے؟ ہاں آخر میں ہنسنا کیوں چاہتا ہوں؟ لیکن کیا ہنسنے کے لیے کسی سبب کا ہونا ضروی ہے۔ اسے یاد آیا کہ صبح جب اس کی بیوی نے اس سے پوچھا تھا کہ کیوں ہنس رہے ہو؟ اسے اس سوال سے کتنی گھبراہٹ ہوئی تھی۔ زندگی کے ہر مرحلے میں ہر فعل پر یہ سوال کھڑا کرنا کہ کیوں کر رہے ہو؟ کتنی فضول بات ہے۔ آدمی کو کچھ کام ایسے بھی تو کرنے چاہئیں جن کا کوئی مقصد نہ ہو، تو مجھے اپنے آپ سے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ میں کیوں ہنسنا چاہتا ہوں۔ بس ہنسنا چاہتا ہوں، محض اور صرف ہنسنا، کسی وجہ کے بغیر ۔ سبب اور مقصد کے بغیر۔

     اس نے اپنے اس استدلال سے اپنے آپ کو قائل کر لیا تھا مگر دل کے اندر ایک چور تھا۔ دوسروں کو وہ کیسے قائل کرے گا۔ دوسرے، ہنسنے اور رونے ،دونوں کی وجہ پوچھتے ہیں۔ تو دوسروں کو وہ کس طرح قائل کرے گا؟ دوسروں کو قائل کرنے کی تدبیر سوچتے سوچتے اس نے ارد گرد کا تصور کیا اور ہر طرف اسے وہ کچھ نظر آیا جس پر صرف ہنسا ہی جا سکتا ہے۔ ہنسنے  کا ارد گرد اتنا سامان ہوتے ہوئے کوئی کیوں پوچھے کہ کیوں ہنس رہے ہو اور کیوں بتانے کی ضروت پیش آئے کہ ہم کس وجہ سے ہنس رہے ہیں؟ اسے تعجب ہوا کہ فی زمانہ ہنسنے  کا اتنا وافر سامان موجود ہے، پھربھی ہم کتنا کم ہنستے ہیں۔ جیسے ہمارے نہ ہنسنے  سے صورت حال کی مضحکہ خیزی جاتی رہے گی۔

    گھر پہنچ کر اس نے حالات کو بہت سازگار پایا۔ اب نقشہ صبح سے بالکل مختلف تھا۔ بیوی باورچی خانہ میں مصروف تھی۔ رات کے کھانے کی ہنڈیا خاصی دیر سے چڑھائی گئی تھی۔ اسے اتنی فرصت ہی نہیں تھی کہ اس کے پاس آ کر بیٹھتی ۔ اس تنہائی کو اس نے بہت غنیمت جانا۔ تنہائی بھی کتنی غنیمت ہوتی ہے۔ ایسے میں کہ کوئی دیکھنے والا نہ ہو کہ آپ کیا کر رہے ہیں آدمی کتنا آزاد محسوس کرتا ہے۔

     اس نے یوں ہی ریڈیو آن کر دیا۔ سوئچ گھمانے لگا۔ کبھی ایک اسٹیشن لگایا، کبھی دوسرا اسٹیشن ۔ کوئی خاص اسٹیشن لگانا اور سننا مقصود نہیں تھا۔ وہ تو بس تفریحاً سوئچ گھما رہا تھا۔ ایک اسٹیشن سے ڈراما ہو رہا تھا۔ ڈراما کومیڈی کی قسم سے تھا۔ کچھ دیر اس نے ڈراما سنا اور خوش ہوا، پھر اس نے سوئچ گھمایا، دوسرا اسٹیشن لگ گیا۔ یہاں بچوں کی کہانی ہو رہی تھی ۔ سننے والے بچے بیچ بیچ میں کھلکھلا کر ہنستے ۔ پھر اس نے سوئچ گھما دیا۔ ایک اور اسٹیشن لگ گیا۔ کچھ گانے بجانے کا پروگرام ہو رہا تھا۔ گانے بجانے والی ٹولی ترنگ میں تھی۔

    جو اسٹیشن بھی لگ جاتا ،یہی اسے احساس ہوتا کہ وہاں سے خوشی نشر ہو رہی ہے۔ دنیا میں لوگ کتنے خوش ہیں، اس نے دل میں کہا۔ ہاں! دنیا میں لوگ کتنے خوش ہیں۔ وہ بڑبڑایا اور اداس ہو گیا، بغیر کسی سبب کے۔