خیمے سے دُور
-
خیمے سے دُور
’’ یہاں کب تک بند بیٹھے رہیں۔ اب نکلنا چاہیے۔‘‘ اُکتا کر پہلے نے کہا۔
’’نکل کر کہاں جائیں؟‘‘ دوسرے نے تھوڑا چڑ کر کہا۔ اصل میں پہلے نے اتنی بار نکل چلنے کا سوال اُٹھایا تھا کہ دوسرے نے سوچا کہ کسی طور اس کا منہ بند کرنا چاہیے اور واقعی تھوڑی دیر کے لیے تو اس کا منہ بند ہو ہی گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔ یہ تو ابھی تک اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ یہاں سے نکل کر جائیں گے کہاں ۔ سوچتا رہا، سوچتا رہا۔ جب بہت الجھ گیا تو بولا: ’’ نکل کر کہیں بھی جائیں۔ باہر تو نکلیں۔‘‘
’’ مگر باہر کے متعلق کچھ تو پتا چلے۔ یوں بے سوچے سمجھے نکل کھڑے ہو نا عاقبت اندیشی تو نہیں ہے۔‘‘ اس نے سمجھانے کے لہجے میں کہا۔ وہ جو تھوڑا چڑ چڑا اپن اس میں پیدا ہو گیا تھا، اس پر اب اس نے قابو پالیا تھا۔ اس کا تحمل اور تامل واپس آ گیا تھا۔
’’باہر کے متعلق ہمیں پتا کیسے چلے گا۔ اندر اسی طرح بیٹھے رہے تو بے شک دنیا بدل جائے، ہمیں کیا خبر ہوگی۔‘‘
دوسرے نے پھر اسی تحمل کے ساتھ جواب دیا جیسے اسے سمجھا بہلا رہا ہو:’’جو گئے ہیں، واپس آجائیں ۔ ان سے کچھ پتا چلے گا، پھر نکلنے کے متعلق سوچیں گے۔“
پہلا اس جواب سے مطمئن نہ ہوا، بولا: ’’ کب کے گئے ہیں، پلٹے ہی نہیں۔ آخر کب تک ان کا انتظار کیا جائے ؟ ‘‘ر کا، پھر بولا: ’’ اگر وہ نہ آئے تو ؟‘‘
اس اچا نک سوال پر دوسرا تھوڑا بوکھلا گیا۔ اگر وہ نہ آئے تو ؟ .....اگر وہ نہ آئے تو ؟ .....کتنی دیر تک یہ سوال اس کے اندر گونجتا رہا۔ اس امکان پر تو اس نے غور ہی نہیں کیا تھا۔ ایک تشویش کی لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔ اسے خیال آیا کہ واقعی اب تک تو انہیں آجانا چاہیے تھا، پھر کیوں نہیں آئے؟ کوئی ایک تو آجاتا ۔ کیوں؟ اور پھر وہی تشویش کہ اگر وہ نہ آئے تو ؟ مگر اس نے اپنی اس تشویش کو بالکل ظاہر نہیں ہونے دیا۔ بظاہر اعتماد کے لہجے میں بولا: ’’ نہیں، وہ آئیں گے۔‘‘
’’ہاں ! انہیں آنا تو چاہیے لیکن اگر نہ آئے تو ؟‘‘ پھر وہی سوال ،پھر وہ اکھڑنے لگا تھا مگر پھر اس نے اپنے آپ کو تھا ما:’’ نہیں، وہ آئیں گے ۔‘‘ اور پھر قطعی لہجے میں کہا: ’’ہمیں ان کا انتظار کرنا ہوگا ۔‘‘
’’ مگر کب تک؟‘‘
ا س سوال نے اسے پھر پریشان کر دیا۔
انتظار کی مدت کا تعین کرنا اسے کتنا مشکل نظر آرہا تھا۔ کیا خبر ہے کب آئیں اور کیا خبر ہے کہ نہ آئیں؟ پھر وسوسے کی لہر اٹھنے لگی تھی مگر اس نے فوراً ہی اسے رفع دفع کر دیا: ’’ بہر حال، ہمیں ان کا انتظار کرنا ہے۔‘‘
اس قطعی جواب کے بعد کوئی کیا کہتا۔ پہلا منہ میں کچھ بڑبڑایا اور چپ ہو گیا۔ دوسرے نے پہلے کو دیکھا کہ وہ چپ تو ہو گیا ہے مگر کتنا بے اطمینان ہے، سمجھانے کے لہجے میں بولا: ” میرے یار! تجھے باہر کے حالات کا اندازہ نہیں ہے۔ ہم یوں بے سوچے سمجھے نکل کھڑے ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے ۔“
پہلا بولا: ” میرے دوست ! تجھے باہر کے حالات کا تو اندازہ ہے، اندر کے حالات کا اندازہ نہیں ہے۔ اب تو مجھے دو ٹانگوں پر کھڑا ہونا دوبھر لگتا ہے۔ چلنے کی خواہش ہی ختم ہو گئی ۔ تھوڑے دن اور یہاں بند رہے تو ٹانگوں پر چلنا بھول ہی جائیں گئے، رینگنا شروع کر دیں گے ۔‘‘ یہ کہتے کہتے اسے اچانک خیال آیا کہ پچھلی رات جب اسے اس بند جگہ سے بہت خفقان ہوا تھا تو اس کا جی چاہا تھا کہ وہ سمٹ جائے، اتنا کہ کنواڑ اور چوکھٹ کے بیچ جو دراڑ ہے ،اس میں سے رینگ کر نکل جائے۔
تیسرے نے، جو کتنی دیر سے آنکھیں موندے اوندھے منہ ان دونوں سے بے تعلق بے سدھ پڑا تھا جیسے وہ ان کے بیچ ہے ہی نہیں، آنکھیں کھول کر غور سے پہلے کو دیکھا، عجیب نظروں سے کہ پہلا پسینہ پسینہ ہو گیا مگر اس نے دم بھر دیکھ کر پھر آنکھیں موند لیں۔ اس کے آنکھیں موند لینے کے بعد پہلے نے اسے غور سے دیکھا، پھر جیسے کسی شک میں پڑ گیا ہو، دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا مگر دوسرا اسے کچھ کہتے کہتے اچانک دم بخود ہو گیا جیسے اسے کچھ سنائی دیا ہے۔ پہلا چونکا اور وہ بھی دم بخود ہو گیا۔ تیسرے نے آنکھیں کھولیں اور خلا میں تکنے لگا۔ تو واقعی کچھ آہٹ ہوئی تھی۔ کان اس آہٹ پر لگے ہوئے تھے۔ ایک ساتھ وہ کتنے چوکنے، کتنے خوفزدہ ہو گئے تھے۔
’’ کوئی ہے ۔‘‘ پہلے نے کسی قدر شک کے ساتھ کہا۔
’’ لگتا یہی ہے۔ کوئی ہے‘‘۔
’’پتا نہیں کون ہے ۔‘‘ پہلے نے وسوسے کے ساتھ کہا۔
وسوسہ دوسرے کو بھی تھا مگر اس نے وسو سے پر قابو پاتے ہوئے متانت کے ساتھ کہا: ’’ وہی ہوں گے۔‘‘
’’ ہاں! ہونا تو انہیں ہی چاہیے لیکن اگر وہ نہ ہوئے تو پھر کون ہو سکتا ہے؟“
پھر کون ہو سکتا ہے؟ یہ کہتے ہوئے وہ خود بھی خوفزدہ ہو گیا اور دوسروں کو بھی خوفزدہ کر دیا۔ دل کس بری طرح دھڑکنے لگا اور دھیان کس کس طرف گیا۔
دروازے پر بہت ہلکی سی دستک ہوئی۔ وہ دم بخودر ہے۔ پھر دستک ہوئی۔ اتنی ہی ملکی ۔ آخر دوسرے نے ہمت کی، آہستہ سے اُٹھا، دبے پاؤں دروازے تک گیا، دراڑ میں سے جھانکا۔ کسی نے سرگوشی میں کہا:’’ کھولو!“ دوسرے نے شاید آواز پہچان لی تھی، آہستہ سے دروازہ کھولا ۔ جو داخل ہوا، وہ ان کا چوتھا تھا۔ اسے دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی۔
’’ تم اکیلے ؟‘‘ دوسرے نے تعجب سے کہا۔
’’اچھا! وہ ابھی تک نہیں پہنچا ہے؟‘‘ چوتھے نے سوال کے جواب میں سوال کیا۔
’’نہیں! ابھی تک تو آیا نہیں ہے۔‘‘
’’پھر آتا ہوگا۔‘‘ چوتھے نے اطمینان کے لہجے میں کہا۔
’’باہر کیا حال ہے؟‘‘
’’ بہت ہجوم تھا۔ مشکل سے نکل کر آیا ہوں۔‘‘
’’ہجوم .....؟‘‘ پہلے اور دوسرے نے اسے تعجب سے دیکھا۔
’’ہاں ! بہت ہجوم تھا، لوگ ہی لوگ۔“
’’عجب بات ہے۔‘‘ پہلا بولا: ” اس وقت تو کوئی دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا، نہ کوئی آواز ہی سنائی دیتی تھی۔ جیسے یہاں لوگ ہیں ہی نہیں۔‘‘
’’مگر اس وقت بہت لوگ ہیں اور بہت شور ہے۔‘‘
’’ کہاں سے آگئے اتنے لوگ؟‘‘ پہلا بدستور حیران تھا۔
’’میں خود حیران تھا کہ یا اللہ ! یہ لوگ کہاں تھے اور اب کیسے اور کہاں سے نکل آئے ۔ پتا نہیں کن کن کونوں، کھدڑوں سے نکل آئے ہیں۔ بہت لوگ ہیں، اور چوک میں تو سروں کا سیلاب امڈا ہوا ہے۔‘‘
’’ پھر ہمیں بھی نکلنا چاہیے۔ ہم یہاں کیوں بند بیٹھے ہیں؟‘‘ پہلے نے بیکل ہو کر کہا۔
اس پر چوتھا چپ ہو گیا۔ تامل کے بعد بولا: ’’ہاں! نکلنا تو چاہیے۔ سوچ لیں!‘‘
’’سوچنے کی اس میں کیا بات ہے۔ میرے خیال میں اب یہاں سے نکلنا ہی چاہیے۔ بند بیٹھے بیٹھے مجھے تو پھپھوندی لگ گئی۔ کتنے دن سے آسمان نہیں دیکھا۔ بس اب نکلنا چاہیے۔“
چوتھا چپ رہا پھر بولا: ’’ پہچانے نہ جائیں!‘‘
’’اتنے ہجوم میں کون کس کو پہچانتا ہے۔‘‘
’’یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ چوتھے نے جواب دیا: ’’ ہجوم تو بہت ہے مگر پہچاننے والے سب جگہ ہوتے ہیں۔“
’’ ٹھیک کہتے ہو ۔‘‘ دوسرے نے چوتھے کی تائید کی ۔’’ ہجوم تو بہت ہے۔ لوگوں میں ہر قسم کے لوگ ہوتےہیں۔ کسی نے پہچان لیا تو؟‘‘
’’اس کا بہت خطرہ ہے۔‘‘ چوتھا اب زیادہ اعتماد سے بولا۔
’’ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی طرح بند بیٹھے رہیں ۔ لوگ باہر نکلے ہوئے ہیں، ہم اندر گھٹے بیٹھے رہیں۔“پہلے نے غصے سے کہا۔
’’نہیں، اب زیادہ دیر تو اندر بند ہوکر نہیں بیٹھ سکتے ۔‘‘ دوسرے نے تحمل سے جواب دیا مگر عجلت نہیں برتنی چاہیے۔ ذراسی عجلت ہمیں کسی بڑی مشکل میں پھنسا سکتی ہے۔ تو بہتر یہ ہے کہ تھوڑا انتظار کر لیں ۔ جو قدم اُٹھا ئیں احتیاط سے اُٹھا ئیں ۔‘‘
’’انتظار ،احتیاط ۔‘‘ دوسرا ہونٹ چباتے ہوئے بڑبڑایا۔
چوتھے کو گھور کر دیکھا: ’’ تجھے کسی نے پہچانا؟‘‘
یہ سوال تیسرے نے کیا تھا۔ اب تک اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا تھا، جیسے وہ تھا ہی نہیں ۔ اب جو اس نے گھور کر دیکھا اور سیدھا سوال کیا تو چوتھے نے اسے دیکھا۔ اس کے لیے وہ اجنبی تھا مگر اس کے پاس یہ سوچنے کی، کہ یہ کون ہے؟ زیادہ مہلت نہیں تھی۔ ایک سیدھے سوال نے اسے پکڑ لیا تھا اور اب اسے خیال آیا، کسی قدر تعجب کے ساتھ کہ وہ اتنے بڑے ہجوم سے گزر کر آرہا ہے ،جہاں ہر قسم کے آدمی سے اس کی مڈ بھیٹر ہوئی اور کسی نے اسے نہ پہچانا۔ ’’ مجھے..... ہاں ! مجھے تو کسی نے نہیں پہچانا۔ بس نظروں میں نہیں آیا۔ بچ ہی گیا۔ اتفاق کی بات ہے حالاں کہ سگریٹ کے لیے بیچ چوک میں رکنا پڑا۔ البرٹ سینما کے سامنے پان سگریٹ کی جو دکان ہے، وہاں کتنے اپنے جاننے والے کھڑے رہتے ہیں۔ اتفاق کی بات کہ اس وقت کوئی ایسا تھا ہی نہیں جو مجھے پہچانتا۔‘‘
’’میرے ساتھ دمشق میں یہی ہوا تھا ۔‘‘ تیسر ا بولا ۔
’’دمشق میں؟ ‘‘ تینوں نے تعجب سے اسے دیکھا۔
’’ہاں ! دمشق میں۔ بازار اس روز کتنے سجائے گئے تھے ۔ تماشائیوں کا ہجوم تھا۔ جلوس کا انتظار تھا۔“
’’تو دمشق کب گیا تھا ؟ ‘‘پہلے نے طنز بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’بس اسی روز پہنچا تھا جس روز سَر اس شہر میں پہنچے ہیں۔‘‘
’’سَر؟ کیسے سَر ؟‘‘
’’ نیزوں پہ بلند باوقار سَر۔‘‘ یہ کہتے کہتے تیرا کیسی تصور میں کھو گیا جیسے ان کے بیچ سے نکل کر کہیں دور چلا گیا ہو، پھر بڑ بڑایا:’’ اونچے نیزے پہ بلند، باوقار، معتبر سَر ۔ منور چہرہ گرد میں اٹا ہوا، لب ہلتے ہوئے ،قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے ۔‘‘
چوتھے نے غور سے کسی قدر شک سے اسے دیکھا، سر سے پیر تک اس کا جائزہ لیا ،پھر سوالیہ نظروں سےپہلے اور دوسرے کو دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو کہ یہ کون ہے؟
دوسرا کچھ کہنے لگا تھا کہ اچانک دم بخود ہو گیا ،پھر سرگوشی میں پہلے اور چوتھے سے مخاطب ہوا:
’’ تم نے سنا؟‘‘
’’ کیا.....؟‘‘
’’ قدموں کی آہٹ ۔‘‘
’’اچھا.....؟‘‘
”ہاں!‘‘ کہتے کہتے چپ ہوا اور کان لگا کر کچھ سننے کی کوشش کرنے لگا: ’’ سنو!‘‘
’’ ہاں! کوئی ہے۔ ‘‘پہلے نے اس کے شک کی توثیق کر دی۔
’’اسے آنا تھا۔ وہی ہوگا ۔‘‘ چوتھا بولا۔
’’ہاں! ہونا تو اسے ہی چاہیے ۔‘‘ پہلا بولا: ’’ مگر کیا خبر ہے۔‘‘ دوسرا چوتھے سے مخاطب ہوا۔
’’ تمہیں یہاں آتے ہوئے کسی نے دیکھا تو نہیں تھا ؟‘‘
’’نہیں، اصل میں مجھے کسی نے پہچانا ہی نہیں۔ کسی کو کیا پڑی تھی کہ دیکھتا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔“
’’ پھر تو اسے ہی ہونا چاہیے ۔‘‘ دوسرے نے کسی قدر بے یقینی کے ساتھ کہا، تامل کیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ دبے پاؤں چل کر دروازے تک گیا۔ کیواڑ کی دراڑ میں سے جھانکا، پھر دستک ہوئی اور دبی سی آواز: ’’کھولو!‘‘ اس نے فوراً ہی دروازہ کھول دیا۔ وہ اندر آ گیا۔ وہ وہی تھا، ان کا پانچواں ۔ ’’یار! تم نے آنے میں بہت دیر لگائی۔ مجھے تو فکر ہو گئی تھی ۔‘‘ چوتھے نے کہا۔
پانچواں ابھی اپنے حواس درست کر رہا تھا، اس نے اس سوال کا فوراً جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔ دوسرا چیخ میں بول پڑا :’’اتنے بڑے ہجوم کے بیچ سے نکل کر آنے میں بھی تو وقت لگتا ہے۔ دیر تو ہونی ہی تھی ۔‘‘
’’ ہجوم؟‘‘ پانچویں نے تعجب سے دوسرے کو دیکھا: ” کیسا ہجوم ؟‘‘ چوتھے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’ یار! کیا بات کر رہے ہو؟ ابھی تھوڑی دیر ہوئی آیا ہوں، بہت بڑا ہجوم تھا۔ شہر خلقت سے اُبلا پڑ رہا تھا۔“چوتھا بولا۔
پانچویں نے حیرت سے بات سنی ،پھر بولا:’’ یار ! تم نے خواب تو نہیں دیکھا تھا۔“
’’میں واقعہ بیان کر رہا ہوں۔“
’’اچھا؟‘‘ رُکا ،پھر بولا: ’’ میں نے تو ہُو کا عالم دیکھا۔ عجیب سناٹا چھایا ہوا تھا۔ میں تھا اور میرے قدموں کی آواز ۔ باقی سب سنسان۔‘‘
چوتھا سوچ میں پڑ گیا، پھر بولا: ’’ تم چوک کی طرف گئے تھے۔‘‘
’’ادھر ہی سے ہوتا ہوا آیا ہوں۔ چوک میں اُلو بول رہا ہے اور البرٹ سینما، جہاں اتنی چہل پہل رہتی تھی، بند پڑا ہے۔‘‘
’’البرٹ سینما بند پڑا ہے؟‘‘ چوتھا اب بالکل چکرا گیا تھا۔ ’’ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہاں ٹکٹوں کے لیےقطاریں لگی ہوئی تھیں ۔‘‘
’’پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو۔ وہاں تو سناٹا ہے۔‘‘
’’دم کے دم میں سناٹا ۔‘‘ چوتھا بڑ بڑایا: ” کہاں گئے لوگ؟‘‘
’’یہی میں سوچ رہا تھا کہ کہاں گئے ؟“
پہلا ہنسا اور بولا ’’ اس شہر کے لوگ تو جن بھوت ہو گئے۔ دم میں حاضر دم میں غائب۔‘‘ پھر ایک دم سے سنجیدہ ہو گیا۔
’’ شاید ہم لوگ بھی..... کم از کم میں سایا بن چکا ہوں۔“
’’بنے تو نہیں ہیں ۔‘‘ دوسرا بولا: ’’ بن جائیں گے۔‘‘
تیسرے نے اسی طرح اوندھے پڑے پڑے آنکھیں کھولیں، ایک ایک کو گھور کر دیکھا: ’’اچھا! تم لوگ بھی؟‘‘
چوتھے کو ایک دم سے پھر خیال آیا کہ یہ کون شخص ہے۔ وہ سوالیہ نظروں سے دوسرے کو دیکھنے لگا تھا جیسے کچھ پوچھنے والا ہو، اتنے میں پہلا بول پڑا :’’ ویسے اچھا ہی ہے۔‘‘
’’ کیا اچھا ہے؟‘‘
’’یہی کہ اس وقت کوئی نہیں ہے۔ نکل چلیں ۔ موقع اچھا ہے۔‘‘
دوسرے پس و پیش میں پڑ گئے مگر پانچویں نے اس کی بات کاٹ دی ۔’’ کیا باتیں کرتے ہو! اس وقت نکلو گے؟‘‘
’’ اس سے بہتر وقت اور کون سا آئے گا۔ کوئی دیکھنے والا ہے ہی نہیں۔‘‘ پہلے نے اپنے موقف کے حق میں دلیل پیش کی۔
’’بات یہ ہے ۔ ‘‘ پانچواں بولا: ’’لوگ چل پھر رہے ہوں تو نکلنے میں آسانی رہتی ہے۔ کوئی نوٹس نہیں لیتا کہ کون جارہا ہے، لیکن سڑکیں خالی ہوں اور شہر میں سناٹا ہو اور پھر کوئی گزرتا نظر آئے تو خواہ مخواہ شک ہوتا ہے۔“
دوسرے نے تائید میں سر ہلایا: ’’ ٹھیک کہتے ہو۔‘‘
پہلا بولا: ’’ جب کوئی ہے ہی نہیں تو کون دیکھے گا اور کون شک کرے گا ؟“
پانچواں طنزیہ ہنسی ہنسا:’’ تم بہت سادے ہو، ایسے ہی وقت میں، جب کوئی نظر نہیں آتا، آدمی کو زیادہ دیکھا جاتا ہے اور زیادہ شک کیا جاتا ہے۔‘‘
تیسرے نے ایک مرتبہ پھر آنکھیں کھولیں، پانچویں کو گھور کر دیکھا: ’’ تجھ پر کسی کو شک ہوا؟“
اس آن پانچویں کو خیال آیا اور اس خیال پر وہ ششدر رہ گیا کہ وہ سائیں سائیں کرتے رستوں سے گزر کر آیا ہے مگر کسی کو اس پر شک نہیں ہوا۔ بولا: ’’ میرے ساتھ تو کمال ہوا۔ سڑکیں خالی، بس میں اکیلا چل رہا تھا۔ اُوپر کا دم اُوپر، نیچے کا دم نیچے کہ کسی نے تاڑ لیا۔ تو مگر بچ گیا۔‘‘
” میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔‘‘ تیسر ا سوچتے ہوئے بولا، جیسے کچھ یاد آ گیا ہو: ” وہ رات بہت ویران تھی۔ چاروں طرف سناٹا۔ بس، صحرا کے سانس کی آواز تھی۔ مجھے دھڑکا لگا ہوا تھا کہ قریب ہی فرات پہ لشکر پڑا ہے۔ کسی نے دیکھ لیا تو ؟..... مگر بچ گیا۔‘‘
’’فرات؟‘‘
’’ہاں! فرات ‘‘ رکا ،پھر سوچتے ہوئے بولا:’’ میں سمجھا کہ کوئی مجھے نکلتے ہوئے نہیں دیکھے گا کہ چراغ تو اس جناب نے گل کر دیا تھا مگر جب میں نکلنے لگا تو میں نے دیکھا کہ خیمہ تو منور ہے اور سب نے مجھے دیکھ لیا ہے۔ بس ،جیسے میں سب کے سامنے برہنہ ہو گیا ہوں ،منہ چھپا کر تیزی سے نکل آیا ۔‘‘
رُکا، خیالوں میں کھو گیا ،پھر بڑبڑایا :’’ فرات کے کنارے لشکر پڑا تھا۔ قدم قدم پہ پہرہ دھڑکا کہ اب پکڑا گیا مگر کسی نے دیکھا ہی نہیں۔‘‘
وہ بول رہا تھا اور چاروں کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں، پھر جیسے سب کچھ سمجھ آ گیا ہو:’’ اچھا! تُو تھا وہ آدمی۔‘‘
’’ ہاں !‘‘ اس نے بمشکل کہا اور اس کا سر جھک گیا۔ دوسرے نے تامل کیا، پھر کہا:’’اگر تُو وہی ہے.....؟‘‘ اس نے فوراًبات کاٹی: ’’نہیں، میں وہی نہیں ہوں۔‘‘
’’تو وہی نہیں ہے ؟‘‘ دوسرا چکر ایا: ’’ مگر ابھی جو تُو نے بیان کیا اور اقرار کیا۔‘‘
’’ عزیزو! میں نے صحیح بیان کیا اور صحیح اقرار کیا۔ ہوا یوں کو جب میں دمشق پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اہلِ تقویٰ مشکل میں ہیں۔ ان پر شک کیا جا رہا ہے ،انہیں پکڑا جا رہا ہے۔ میں ڈرا کہ کہیں میں پہچانا نہ جاؤں مگر عجب ہوا کہ کسی نے مجھے نہ پہچانا، کسی کو مجھ پر شک نہیں گزرا۔ تب مجھے دھیان آیا کہ جب میں خیمے سے نکلا تھا تو نکلتے نکلتے جیسے کہیں میں اپنے بیچ سے نکل گیا۔ تو جب میں خیمے سے باہر آیا تو میں وہ نہیں تھا، کوئی اور تھا..... ہاں بالکل ! پھر میں کوئی اور تھا۔‘‘
وہ چاروں اسے تکنے لگے۔ پریشان کہ کیا کہہ رہا ہے، پھر وہ انہیں تکنے لگا۔ ایک ایک کی صورت کو غور سےدیکھا ،حیران ہوا :’’تم وہی ہو؟‘‘
’’ہم ؟“ وہ ایسے چونکے جیسے ان پر اچانک حملہ ہو گیا ہو ۔ سٹپٹائے، ایک نے دوسرے کو دیکھا، جلدی سے دفاعی انداز میں بولے: ’’ہم وہی ہیں..... جو تھے۔‘‘
’’اچھا؟“ وہ اور حیران ہوا۔ ایک دفعہ پھر باری باری چاروں صورتوں کو غور سے دیکھا : ’’ تو گویا جب تم خیمے سے نکلے تھے تو تم.....‘‘
’’خیمے سے؟ کس خیمے سے؟‘‘ انہوں نے بیک زبان عجلت سے اس کی بات کائی۔
وہ کچھ نہیں بولا۔ حیران انہیں تکتا رہا۔ وہ خود ہی چکر میں پڑ گئے ۔ آپس میں ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا، سرگوشی میں ایک دوسرے سے پوچھا: ’’یار! ہم کس خیمے سے نکلے تھے؟‘‘
اس با ہمی سوال نے انہیں مزید چکرایا۔ کچھ حیران، کچھ پریشان ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ اسی عالم میں دوسرے نے خود اعتمادی دکھائی۔ بڑے یقین سے کہا: ’’ عزیز ! ہم کسی خیمے سے نہیں نکلے۔‘‘
دوسرے نے فوراً تائید میں سر ہلایا: ” ٹھیک بات ہے۔ ہم کسی خیمے سے نہیں نکلے ہیں۔‘‘
پھر وہ چپ ہو گئے۔ آگے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ تیسرا بھی چپ رہا، بس انہیں تکتا رہا ،بڑبڑایا: ’’ عجیب بات ہے۔‘‘ چپ ہو گیا پھر بڑبڑایا: ’’ مجھے کم از کم یاد تو ہے۔‘‘