نیند
-
نیند
ظفر اسے دیکھ کر حیران رہ گیا: ’’ ارے سلمان! تم ؟ تم آگئے ؟ مگر کیسے؟‘‘
’’یہ مت پوچھو کہ کیسے۔ بس میں آگیا ہوں۔“
ظفر کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آگے کیا کہے: ’’ وہاں سے زندہ بیچ کر نکل آنا..... یہ تو معجزہ ہے۔‘‘
’’ہاں ! معجزہ ہی سمجھ لو۔ بس زندگی تھی کہ نکل آیا۔‘‘
تعجب اس کے نکل آنے پر ظفر ہی کو نہیں تھا، خود اسے بھی تھا:’’ میں خود حیران ہوں کہ وہاں سے میں کیسے نکل آیا۔‘‘
ظفر حیران اسے تکتا رہا۔ وہاں سے بچ کر نکل آنے والوں میں وہ پہلا شخص تھا جس سے ظفر کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے تصور میں یہ بات نہیں آ رہی تھیں کہ وہاں سے کوئی بچ کر کیسے آسکتا ہے۔ اس نے سلمان کو ایک مرتبہ نظر بھر کر سر سے پیر تک دیکھا: ” سلمان ! تم وہاں سے نکلے کیسے؟‘‘
’’میں کیسے نکلا ؟‘‘ وہ بڑ بڑایا اور اس کا جی چاہا کہ وہ ایک سانس میں اپنی پوری روئیداد سنا ڈالے مگر پھر
اردگرد کی فضا کو دیکھ کر رکا: ’’ یار! دو لفظوں میں تو اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو پوری داستان ہے۔ تم سنو گے تو تمہارے ہوش اُڑ جائیں گے۔‘‘
’’ ٹھیک کہتے ہو۔ ہمارے تو سن سن کر ہوش اُڑے جا رہے ہیں اور تم نے تو سب کچھ آنکھوں سے دیکھا ہے۔“
اس نے ٹھنڈا سانس بھرا: ’’ہاں ! سب کچھ آنکھوں سے دیکھا ہے۔“
اذیت بھرے ان گنت منظر اس کی آنکھوں میں گھوم گئے ۔’’اتنا کچھ دیکھا ہے کہ .....بس بہت کچھ دیکھا ہے؟‘‘
’’ پھر سناؤ!‘‘
اس کا ایک دفعہ پھر جی چاہا کہ بس شروع ہو جائے لیکن اس نے پھر اپنے آپ کو روکا: ” سنانے کے لیے میرے پاس بہت کچھ ہے مگر یہاں کھڑے کھڑے کیا سناؤں۔‘‘
ظفر نے سوچا، پھر پوچھا: ’’ شام کو تم کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’ کیا شام کیا صبح ۔ میرے لیے کرنے کو اب ہے کیا ۔‘‘
’’ پھر تم شام کو میری طرف آجاؤ!‘‘
’’ آجاؤں گا۔‘‘
’’اسلم کو فون کر دوں گا، وہ بھی آجائے گا۔‘‘
’’ اسلم جھکی ؟ ارے وہ یہیں ہے؟‘‘
’’اسے رزق نہ موت۔ اسے کہاں جانا ہے۔“
’’اور زیدی کہاں ہے؟‘‘
’’اچھا! اس بکو ایسے کو بھی بلالوں گا۔ پھر پکی رہی؟‘‘
’’پکی!‘‘
ظفر نے گھر پہنچ کر تیزی سے ڈائل گھمایا:’’ ہیلو! اسلم ! میں ہوں ظفر۔ یار! سلمان آ گیا ہے۔“
’’سلمان؟ .....یار کیا کہہ رہا ہے!‘‘
’’ہاں ہاں یار! وہ آگیا ہے ۔“
’’وہ وہاں سے بچ کر نکل آیا ؟ مگر کیسے؟‘‘
’’شام کو آؤ اور اس سے خود پوچھ لو!“
’’ آؤں گا۔‘‘
پھر اس نے زیدی کے دفتر فون کیا:’’ہیلو زیدی! بھئی زیدی صاحب کو بلائیں! .....ہیلو زیدی !..... میں ظفر ۔ یار تمہیں ایک خبر سناؤں؟“
’’سناؤ!‘‘
’’ سلمان آگیا ہے۔‘‘
’’ سلمان؟ .....نہیں بے!‘‘
’’ ہاں یار! وہ نکل آیا ہے۔‘‘
’’بہت موٹی کھال کا نکلا۔ پھر کہاں ہے وہ ؟‘‘
’’ شام کو میری طرف آجاؤ ! وہ آئے گا۔‘‘
’’آجاؤں گا !‘‘
شام کو چاروں یا ر ا کٹھے ہوئے۔ تینوں نے سلمان کو اور سلمان نے ان تینوں کو ایک حیرت سے دیکھا۔ اسلم نے اس کے بچ آنے پر پہلے اظہار تعجب کیا، پھر وہاں کے حالات پر اظہار افسوس کیا۔ پھر اسے غصہ آتا چلا گیا: ’’ لوگوں کو انہوں نے کیسی کیسی اذیتیں دے کر مارا ہے..... بوڑھوں کو ، بچوں کو ،عورتوں کو .....وحشی .....درندے .....میرا بس چلے تو میں انہیں .....‘‘اس نے دانت کچکچائے۔
’’انہیں یہی کرنا چاہیے تھا ۔‘‘ زیدی نے اعلان کیا۔
’’ہاں ! ہم پچیس سال تک ان کے ساتھ جو کچھ کرتے رہے تھے، اس کے بعد انہیں یہ ہی کرنا چاہیے تھا۔“
’’ کیا کرتے رہے تھے؟ کیا کیا تھا ہم نے ان کے ساتھ ؟‘‘ اسلم غصہ سے چلایا۔
پھر اسلم نے اخباری رپورٹوں کے حوالے سے ان کے مظالم کی تفصیلات سنائیں اور زیدی نے بے تحاشا اعداد و شمار بیان کر کے اپنی طرف والوں کے استحصال کو ثابت کیا۔ سلمان نے ایک لمبی جما ہی لی۔ ظفر نے اس کی طرف دیکھا :’’ سلمان کیا خیال ہے؟ تم بتاؤ!‘‘
اس نے ظفر کے منہ کی بات لپک لی: ’’ہاں سلمان سے پوچھو! یہ تو وہاں اتنے عرصے رہا ہے۔ اس نے سارے حالات دیکھے ہیں۔ سلمان تمہارا کیا خیال ہے؟“
’’میرا کیا خیال ہے؟ ‘‘وہ سوچ میں پڑ گیا۔
اسے خاموش دیکھ کر ظفر آخر بے چین ہوا۔ اسے ٹہو کا ؟’’ یار! کچھ بولو!‘‘
’’کیا بولوں؟‘‘
زیدی طنز یہ ہنسی ہنسا :’’ کومٹ منٹ سے ڈرتا ہے۔‘‘
’’ کومٹ منٹ‘‘ وہ زیدی کا منہ تکنے لگا۔
اسلم نے زور دے کر کہا کہ ’’ آخر پتا تو چلے کہ تم اس بارے میں کیا سوچتے ہو۔‘‘
اس نے اک تذبذب کے ساتھ کہا: ’’یار! کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔‘‘
ظفر نے برہمی سے اسے دیکھا: ’’ پچھلے برس جب تم آئے تھے تو تم نے وہاں کے حالات کا تجزیہ کر کر کےمیرا دماغ چاٹ لیا تھا۔‘‘
وہ ظفر کو تکنے لگا، پھر مری ہوئی آواز میں بولا: ’’ اس وقت میرا گمان یہی تھا کہ میں نے حالات کو سمجھ لیا ہے۔“
’’اچھا! چھوڑو اس قصے کو!‘‘ ظفر نے کہا: ’’تم یہ بتاؤ کہ وہاں ہوا کیا۔“
’’ہاں ! یہ میں بتا سکتا ہوں ۔ ‘‘ اس نے مستعدی سے کہا۔
’’ میں نے وہاں بہت کچھ دیکھا ہے۔ میں اسے سناؤں تو تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے ۔‘‘ وہ یہ کہہ کر ایسے چپ ہوا جیسے کوئی لمبی داستان سنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ تینوں یار ،ہمہ تن گوش ہو بیٹھے۔ انتظار کرتے رہے کہ اب شروع ہو اور اب شروع ہو مگر وہ بالکل چپ تھا۔ جب وہ کچھ نہ بولا تو ظفر نے ٹو کا:’’ یار! تم تو چپ ہو گئے۔‘‘
’’ ہاں یار!‘‘ اس نے سٹپٹائے لہجہ میں کہا:’’ کچھ یاد نہیں آرہا ۔‘‘
اسلم اور زیدی دونوں نے اسے تفصیلی نظروں سے دیکھا اور پھر اس سے بے تعلق ہو کر ایک دوسرے سے بحث کرنے لگے۔
بحث گرم ہوتی چلی گئی۔ طنز و تعریض، غصہ، نا شائستہ کلمہ کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے، بیچ بیچ میں ظفر کی طرف سے کوئی بھر پور گالی کبھی اس طرف والوں کے لیے کبھی اس طرف والوں کے لیے۔ وہ سنتار ہا، دوستوں کا منہ تکتا رہا، پھر اس کے پپوٹے بھاری ہونے لگے۔ ایک دو دفعہ اونگھ گیا، پھر فوراً ہی وہ مستعد ہو بیٹھا اور ایک ایک بات غور سے سننے لگا مگر تھوڑی ہی دیر میں اس کے پپوٹے پھر بھاری ہوئے اور اس کی آنکھیں مندتی چلی گئیں۔
’’حرام زادے ! سامراجی کتے !‘‘..... زیدی نے زور سے میز پر مکا مارا۔
’’سب سالے غدار تھے۔ ہندوستان کے ایجنٹ !‘‘ اسلم نے غصے سے کہا۔ سلمان نے دونوں کو نیند بھری نظروں سے دیکھا اور پھر سو گیا۔
آخر وہ اس وقت اُٹھا جب چائے سامنے آگئی اور ظفر نے اسے ٹہوکا: ’’ سلمان ! چائے پیو!‘‘
اس نے ہڑ بڑا کر آنکھیں کھولیں، معذرت طلب نظروں سے دوستوں کو دیکھا اور مستعد ہو بیٹھا۔ آنکھوں پر نرمی سے انگلیاں پھیریں، پھر چائے کا گھونٹ لیا۔ چائے کے ساتھ ساتھ اس کی نیند غائب ہوتی چلی گئی ۔ چائے نے اسے تازہ دم کر دیا تھا، جیسے اس کے دل و دماغ کے دریچے کھلتے چلے جا رہے ہوں ۔ کہنے لگا:
’’اپنے سونے پر ان دنوں کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ اس رات ایسا ہوا کہ میں بالکل نہیں سو سکا۔“
یہ کہتے کہتے کئی دہشت بھرے منظر تیزی سے اس کے تصور میں ابھرے اور ایک غیر انسانی سی چیخ اس کے دماغ میں گونج گئی ۔
’’یہ کس رات کا ذکر ہے؟ زوال ہو چکا تھا ؟‘‘ اسلم نے سوال کیا۔ اس نے سوچا پھر کہا: ” ٹھیک یاد نہیں کہ وہ کون سی رات تھی۔ ویسے وہ سب راتیں ایک سی تھیں۔ ہوا یہ کہ .....‘‘ یہ کہتے کہتے وہ چپ ہو گیا۔ اسلم، زیدی، ظفر تینوں اس کی طرف متوجہ تھے۔ انہیں اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ سٹپٹایا۔ بولا: ’’آئی بات ذہن سے اتر گئی۔ بہر حال، اس کے بعد میں رات بھر نہ سو سکا۔‘‘ رکا پھر بولا: ’’ اور پھر اس کے بعد تو یہ ہوا کہ سونا نصیب ہی نہیں ہوا۔ شاید پھر سویا ہی نہیں ..... یا شاید کبھی سولیا ہوں.....‘‘
اسلم، زیدی، ظفر تینوں نے بے دلی سے اس کی بات سنی، پھر وہ آپس میں گتھ گئے اور وہی بحث کرنے لگے کہ ادھر والوں نے ان کا استحصال کیا یا ادھر والوں نے غداری کی اور وہ بیٹھا بیٹھا یہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا کہ ان راتوں میں وہ کسی رات سویا تھا یا نہیں سویا تھا۔ اسے کچھ یاد نہ آیا اور یہاں آنے کے بعد، یہاں آنے کے بعد کا بھی سونے کا حساب وہ ٹھیک نہیں لگا سکا۔
اس حساب سے تھک کر وہ اسلم، زیدی اور ظفر کی بحث پر متوجہ ہو گیا۔ سنتا رہا، سنتا رہا، سنتے سنتے اس نے ایک جماہی لی اور غنود آمیز آنکھوں سے ظفر کو دیکھتے ہوئے کہا: ’’یار! مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘
ظفر نے بے مزہ ہو کر اسے دیکھا ،پھر مروت میں کہا:’’ تو پھر سو جاؤ !‘‘
’’ ہاں یار! میں سونا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ نیند بھری آواز میں کہا۔ آگے کھسک کر سر صوفے کی نشست پر نکایا اور پیر میز پر پھیلائے، اس طرح کہ اس کی ایک خستہ حال جوتی اسلم کے مقابل تھی اور دوسری جوتی کی نوک زیدی کے روبرو ۔ اور وہ خراٹے لینے لگا۔