انتظار حسین

انتظار حسین

صبح کے خوش نصیب

    صبح کے خوش نصیب

    ہم لوگ بیچ جنگل میں تھے اور گاڑی رکی کھڑی تھی۔ کتنی مرتبہ گمان ہوا کہ گاڑی اب چلی مگر نہیں چلی۔ کتنی مرتبہ گاڑی سے باہر بکھرے ہوئے مسافر سیٹی دیتے۔ انجن سے اشارہ لے کر لپک جھپک واپس اپنی اپنی نشست پر آئے اور دم سادہ کر بیٹھ گئے کہ اب گاڑی چلے گی۔ دم سادھے بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ کب گاڑی حرکت میں آتی ہے۔ گاڑی حرکت میں تو آئی ہی نہیں۔ آئی تو بس اس قدر کہ پہیے مشکل سے تھوڑا گھومے اور ڈبوں کو تھوڑا جھٹکا لگا مگر پہیے پورا چکر لینے سے پہلے ہی رک گئے اور گاڑی ایک تھر تھری کے بعد پھر ساکت ہو گئی۔ مسافر بیٹھے رہے، پھر کسی نے بے اطمینان ہو کر پہلو بدلا، کوئی بیزار ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔ ایک ایک کر کے پھر گاڑی سے اترے اور پٹری پہ چہل قدمی کرنے لگے۔ کسی نے پٹری کو پار کیا اور درختوں کے سائے میں جا بیٹھا۔

    ’’امی! گاڑی کیوں نہیں چلتی ؟‘‘ بچے نے بور ہو کر ماں سے سوال کیا۔

    ’’چلے گی۔‘‘

    ’’کب چلے گی؟‘‘

    ’’ بس! ابھی چلے گی۔‘‘

    مگر وہ کم سن ماں سے یہ جواب پہلے بھی سن چکا تھا۔ بے دلی سے اس نے سنا اور باہر جھانکنے لگا۔ سامنے کی نشست پر بیٹھی ہوئی عورت نے گود کے بچے کو پہلے خالی باتوں سے بہلانے کی کوشش کی۔ جب وہ نہ مانا اور سینے پہ دست درازی کرنے لگا تو اس نے قمیض کا دامن اٹھا کر بچہ کا منہ اندر کیا اور دامن گرا لیا۔ قمیض کا دامن اس نے اتنی چابکدستی سے اٹھایا کہ پیٹ کے ایک بے معنی گوشے کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔ خیر اس سے اتنا پتا تو چل ہی گیا کہ اس ملگجے لباس کے اندر کتنا روشن بدن چھپا ہے۔

    میرے برابر کی نشست پر بیٹھے ہوئے بڑے میاں، جو بڑی یکسوئی سے اخبار پڑھے چلے جا رہے تھے، بالآخر اخبار پڑھتے پڑھتے تھک گئے۔ اخبار کو ایک طرف رکھا اور بڑ بڑائے۔

    ’’بہت دیر ہو گئی۔ آخر گاڑی کیوں نہیں چل رہی؟‘‘

    ’’ کراسنگ ہونا ہے۔‘‘ قریب میں بیٹھا ہوا بریف کیس والا آدمی بولا۔

    ’’میرے خیال میں تیز گام آ رہی ہے۔‘‘ دوسرے نے ٹکڑا لگایا۔

    ’’ تیز گام ؟‘‘ بریف کیس والے نے کلائی پر لگی خوبصورت گھڑی کو دیکھا۔ ’’تیز گام کا تو یہ وقت نہیں ہے۔‘‘

    ’’ پھر اور کوئی گاڑی ہوگی ۔‘‘

    ’’ہاں ! اور کوئی گاڑی ہوگی۔ مگر بڑی دیر لگائی ۔‘‘

    ’’اصل میں پسنجر کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ چیونٹی کی چال چلتی ہے اور قدم قدم پر رکتی ہے۔‘‘

     پسنجر ٹرین کی خرابیاں اب ان پر کھل رہی تھیں ۔ سوار ہوتے وقت تو وہ انہیں کشتیٔ نوح نظر آ رہی تھی ۔ پلیٹ فارم پر کتنا ہجوم تھا۔ کتنی دھکم پیل کے ساتھ وہ گاڑی میں گھس رہے تھے، اور سیٹ لینے کے لیے ایک دوسرے پر گر رہے تھے، ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے، ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔ جو اندر داخل ہو گئے تھے، ان کی سرتوڑ کوشش تھی کہ اب کوئی اندر نہ آئے ،جو باہر رہ گئے تھے، وہ سرتوڑ کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح اندر داخل ہو جائیں ۔ اندر داخل ہو جانے والوں نے کتنی پھرتی سے اپنے ڈبے کے دروازے بند کیے تھے اور بعد میں آنے والوں نے کتنے زور کے ساتھ دروازے کھلوائے تھے اور سامنے آنے والوں کو دھکے دیتے ہوئے بستروں اور بکسوں کو پھلانگتے ہوئے نشست کی تلاش میں بڑھتے چلے جارہے تھے۔ کتنی دھینگا مشتی کے بعد کبھی بیٹھنے کی اور کبھی محض کھڑا ہونے کی جگہ میسر آئی، پھر جب گاڑی چلی تو ہم سوار ہو جانے والوں نے اپنے آپ کو کتنا خوش نصیب اور پیچھے رہ جانے والوں کو کتنا بد نصیب جانا تھا، پھر یکا یک پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ہمارے یہاں کتنی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔ چلتی گاڑی کے ساتھ دوڑتے دوڑتے اگر کوئی ہینڈل پکڑ کے لٹک گیا تو کسی نہ کسی نے جلدی سے اس کے لیے دروازہ کھولا اور اسے اندر آنے کی راہ دے دی، پھر چلتی ہوئی گاڑی سے ہم نے اک گونہ اطمینان کے ساتھ اپنی اپنی کھڑکی سے باہر جھانک کے دیکھا۔ پلیٹ فارم پر کھڑے رہ جانے والے مسافر کتنے بے آسرا اور کتنے قابل رحم نظر آ رہے تھے۔

     اب پہیہ الٹا گھومنے لگا تھا۔ اس گاڑی کے مسافر ہونے کی بنا پر ہم اپنے آپ کو کتنا بے آسرا ،کتنا قابل رحم سمجھ رہے تھے اور وہ جو گاڑی میں سوار نہ ہو سکے۔ اچھے رہے وہ لوگ جو اس گاڑی میں سوار ہوتے ہوتے رہ گئے۔

     ” میری سیٹ تو جہاز میں بک تھی ۔‘‘ بریف کیس والا بولا: ’’ لیکن پروگرام میں تبدیلی کی وجہ سے مجھے اپنی سیٹ کینسل کرانی پڑی۔ اس کے بعد کسی فلائٹ میں کوئی سیٹ نہیں ملی ۔ سوچا کہ ٹرین پکڑی جائے۔ تیز گام، سوپر، کسی میں سیٹ نہیں ملی۔ آخر کو پسنجر میں بیٹھنا پڑا۔‘‘

     ایک دفعہ پھر مسافر تیزی کے ساتھ اندر آئے اور اپنی اپنی نشست پر آ کر بیٹھ گئے۔ اصل میں ابھی ابھی انجن نے سیٹی دی تھی۔

    ’’گاڑی اب چلنے لگی ہے ۔‘‘ کہنے والے کے لہجے میں دبی دبی خوشی کا رنگ شامل تھا۔

    ’’واقعی؟‘‘

    ’’ہاں بس! چلنے والی ہے۔ انجن نے سیٹی دے دی ہے۔‘‘

    ’’ اللہ ! تیرا شکر ہے!‘‘

    کم سن لڑکے نے جھانک کر باہر دیکھا: ” امی ! دیکھو!‘‘

    ’’ کیوں ، کیا بات ہے؟‘‘

    ’’دھواں !‘‘ اس نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    امی نے باہر جھانک کر دیکھا۔ میں نے بھی باہر جھانکا۔ واقعی انجن نے اچانک کتنے زور شور سے دھواں اگلنا شروع کر دیا تھا۔ سیٹی ہی سے نہیں، اس دھوئیں سے بھی شاید مسافروں نے یہ اشارہ لیا تھا کہ بس اب گاڑی چل پڑے گی۔ انجن کے منہ سے ایسا کالا دھواں نکل رہا تھا کہ لگتا تھا کہ کوئی دیر جاتی ہے کہ سارا جنگل کالا ہو جائے گا۔ چلتی گاڑی کا انجن جب دھواں اُگلتا ہے تو اس کی بات اور ہوتی ہے۔ فضا میں کالونس کی ایک لکیر کھنچتی اور مٹتی چلی جاتی ہے مگر جب کھڑا ہوا انجن دھواں اگلتا ہے تو فضا کی پاکیزگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

    انجن نے دھواں اُگلتے اُگلتے ایک دفعہ پھر سیٹی دی، اتنی تیز کہ پورے جنگل میں گونج گئی۔ ہم مسافروں کے دل جیسے سیٹی کی آواز سے گرما گئے ہوں۔ وہ جو ایک بیزاری چھائی ہوئی تھی، وہ کافور ہو گئی ۔ ہم سب ہی مستعد اپنی نشست پر بیٹھ گئے ۔ لگ رہا تھا کہ گاڑی بس حرکت میں آنے والی ہے۔

    بیٹھے رہے، بیٹھے رہے۔ پہیوں نے بالکل پہلے کی طرح ایک ہلکی سی جنبش کی تھی اور اس سے ایک تکلیف بھری آواز بھی پیدا ہوئی تھی جیسے پہیوں کو گردش کرنے میں تکلیف ہو رہی ہو مگر پھر وہی سکتہ۔ اور اب تو دھوئیں کا زور بھی کم ہوتا جا رہا تھا۔ کالے سے بھورا ہوا اور پھر بالکل ہی معدوم ہو گیا۔

     جب گاڑی کسی طور حرکت میں نہ آئی تو پھر وہی بیزاری۔ بڑے میاں نے بور ہو کر پھر اخبار اٹھایا اور پڑھی ہوئی خبروں کو پھر پڑھنا شروع کر دیا۔ سامنے بیزار گود میں بچہ پھر کلبلایا اور عورت نے اس مرتبہ اتنی بیزاری اور لا پرواہی سے قمیض اوپر اٹھائی کہ دم بھر کے لیے تو پیٹ سے اوپر کا ہرا بھرا منطقہ بھی نمایاں ہو گیا۔

    ’’ گاڑی آج نہیں چلے گی ۔‘‘ کسی نے بیزار ہو کر کہا۔

    ’’امی ! گاڑی نہیں چلے گی ؟‘‘ کمسن لڑکے نے خوف زدہ ہو کر پوچھا۔

    ’’ چلے گی بیٹے۔‘‘

    ’’ کب چلے گی؟‘‘

    ’’بس ! تھوڑی دیر میں چلے گی۔‘‘

    کمسن لڑکے نے بے اعتباری سے ماں کا جواب سنا اور پھر باہر دیکھنا شروع کر دیا۔

    ’’شام ہو رہی ہے۔‘‘ ایک مسافر نے باہر جھانکتے ہوئے کہا۔

    ’’ہاں واقعی ! وہ وسیع و عریض میدان اور کھیت جو ابھی تھوڑی دیر پہلے تک دھوپ میں چمک رہے تھے، اب چھاؤں میں آچکے تھے اور چھاؤں پھیلنے کے ساتھ ساتھ جیسے اداسی پھیلتی جارہی ہو۔

    ’’رات کہیں اسی جنگل میں نہ گزارنی پڑ جائے ۔‘‘

    ’’اس جنگل کا راستہ تو دن میں بھی محفوظ نہیں۔ رات گزارنی پڑی تو .....‘‘ وہ کہتے کہتے رک گیا مگر اس کےتشویش بھرے لہجے نے سب کچھ کہہ دیا تھا۔

     بڑے میاں نے اخبار سے نظریں اٹھا کر کہنے والے کی صورت دیکھی، پھر اخبار ایک طرف ڈال کر منہ ہی منہ میں کوئی آیت پڑھی۔ لاالٰہ الا انت سبحانک .....چپ ہوئے، پھر انہوں نے بولنے والوں کی طرف سے منہ پھیرکر مجھے اپنے خطاب کے لیے چنا:

    ’’بیٹے ! تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘

    ’’یہ سوال بے محل ہے۔‘‘

    انہوں نے غور سے میری صورت دیکھی: ’’ بے محل کیسے ہے؟‘‘

    ”ہم میں سے کسے کہاں جانا ہے، یہ تو بعد کی بات ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم یہاں سے کب نکل رہے ہیں۔‘‘

    ’’ اور نکل بھی رہے ہیں یا نہیں ۔‘‘ کسی قریب بیٹھے ہوئے نے ٹکڑا لگایا۔

    اسی گھڑی گارڈ سفید وردی میں گزرتا نظر آیا۔ ایک مسافر اسے دیکھ کر پھرتی سے اٹھا اور گاڑی سے اتر گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد واپس آ گیا۔ سب نے اسے متجسس نظروں سے دیکھا۔

    ’’یہ گارڈ تھا؟‘‘

    ’’ہاں‘‘

    ’’ کیا کہتا ہے ۔ گاڑی کیوں نہیں چل رہی ؟‘‘

    ’’آگے گڑبڑ ہے۔‘‘

    ” میرا خیال ہے۔‘‘ بریف کیس والا بولا:’’ آگے کوئی حادثہ ہوا ہے۔ نہیں تو گاڑی اتنی دیر نہیں رک سکتی تھی ۔“

    ’’ہوا تو نہیں ہے۔ ہو جاتا ۔‘‘

    ’’اچھا؟‘‘

    ’’ہاں ! اور اسی گاڑی کے ساتھ ہو جاتا۔ وہ تو بروقت پتا چل گیا۔‘‘

    ”اچھا؟ کیا بات تھی؟‘‘

    ’’آگے پٹڑی اکھڑی ہوئی ہے۔‘‘

    ’’ پھر تو بچ گئے ۔‘‘

    ’’ہاں ! یہاں سے نکل جائیں پھر جانیں۔‘‘

    ہاں واقعی ! میں نے سوچا، یہاں سے تو نکلیں اور اسی کے ساتھ مجھے پھر اس گھڑی کا خیال آیا جب ہم اس گاڑی میں سوار ہوئے تھے ۔ ہم گاڑی میں بیٹھے لوگ کس طرح ایک احساس تحفظ کے ساتھ ان پر ترس کھا رہے تھے جو پیچھے رہ گئے تھے ۔ اب وہ ہم پر ترس کھائیں گے۔ خوش نصیبی اور بدنصیبی کا کتنی جلدی آپس میں تبادلہ ہو گیا۔ صبح کے خوش نصیب شام ہوتے ہوتے بدنصیب بن چکے ہیں۔ اچھے رہے وہ لوگ جو گاڑی میں سوار نہ ہو سکے اور ایک وقتی بد قسمتی سے گزر کر خوش قسمت بن گئے ،اور ہم .....ہاں اور ہم ۔ میں نے اردگرد نظر ڈالی ۔ شام کی چھاؤں باہر سے رینگ رینگ کر اندر آگئی تھی، ساتھ ہی اداسی بھی، جو شام کی چھاؤں کی ہمزاد ہے۔ ڈبے میں ابھی لائٹیں نہیں جلی تھیں۔ اپنی اپنی نشست پہ چپ چاپ بے حس و حرکت بیٹھے ہوئے سب آدمی سائے دکھائی پڑ رہے تھے ۔