ابراہیم ذوق

ابراہیم ذوق

قصیدہ (١)

    قصیدہ (١)

    شیخ ابراہیم ذوق

     

    واہ وا کیا معتدل ہے باغ عالم میں ہوا

     مثلِ نبضِ صاحبِ صحت ہے ہر موجِ صبا

     بھرتی ہے کیا کیا مسیحائی کا دم بادِ بہار

     بن گیا گلزارِ عالم رشک ِصد دارالشفا

    ہے گلوں کے حق میں شبنم مرہمِ زخمِ جگر

    شاخِ بشکستہ کو ہے باراں کا قطرہ مومیا

     ہو گیا موقوف یہ سودا کا بالکل احتراق

     لالہ، بے داغِ سیہ پانے لگا نشوونما

    ہو گیا زائل مزاجِ دہر سے یاں تک جنوں

    بید ِمجنوں کا بھی صحرا میں نہیں باقی پتا

     ہوتا ہے لطفِ ہوا سے اس قدر پیدا لہو

     برگ میں ہر نخل کے سُرخی ہے جوں برگِ حنا

    پائی یہ اصلاح صُفرا نے کہ دنیا میں کہیں

     زرد چشم اب دیکھنے کو بھی نہیں ہے کہربا

     ہر مزاجِ بلغمی میں ہوتی ہے تولیدِ خوں

     چاندنی کا پھول ہو گر ارغوانی، ہے بجا

    نام کو اشیا میں نےَ تلخی رہی نےَ سیمیت

     بن گئی تریاک افیون، زہر میٹھا ہو گیا

    کیا عجب جدوار کی تاثیر گر رکھے زقوم

     کیا عجب گر آبِ حنظل دیوے شربت کا مزا

     نیش کی جا نوش ہو دنبالۂ زنبور میں

     کام میں افعی کے ہو مہرہ بجاے آبلا

     راحت و آرام کا اس دَور میں ہے دُور دُور

    چاہیے واقف نہ ہو دورانِ سر سے آسیا

     موتیا بند آنکھ میں اپنے جو رکھتی ہے صدف

    اب رکھے ہے روشنی مثلِ دل ِاہلِ صفا

    آ گیا اصلاح پر ایسا زمانے کا مزاج

    تا زبانِ خامہ بھی آتا نہیں حرفِ دوا

    نسخے پر لکھنے نہیں پاتا ’’ہوالشافی‘‘طبیب

     کہتا ہے بیمار، بس کر مجھے کو بالکل ہے شفا

     فرق چاہا یاں تک اعضا ئے بدن سے درد نے

     درد کے جو حرف ہیں، وہ آپ بھی ہیں سب جدا

     لاغروں کو ہو کمالِ تاب و طاقت یہ شتاب

    کیسے دو ہفتے ہلال اک شب میں ہو بدرالدجیٰ

     صبحِ صادق کے ہے گو سر میں سپیدی آگئی

     لیکن اس پیری میں بھی صادق ہے ایسی اشتہا

    بھوک کی شدت سے اس کو اک نفس فرصت نہ ہو

     قُرص سے خورشید کے جب تک نہ کر لے ناشتا

    رات بھر ٹھونگا کیا انجم کے دانے چرخِ پیر

     پھر جو دیکھا صبح کو اصلاً شکم میں کچھ نہ تھا

     پہنچی یہ تنقیح کی نوبت کی نوبت خانے میں

     لیتی ہے جی کھول کر کیا کیا ڈکاریں کرنا

    کوس پھولا ہے خوشی سے، نفخ کا کیا دخل ہے

     جوں حباب اس کے نہیں مطلق شکم میں امتلا

    ہضمِ کامل اس قدر معدے نے پہنچایا بہم

    جیدا لکیموس ہے جو حلق سے اترے غذا

    ہے مزاجِ اہلِ عالم یہ قریب اعتدال

     ساتوں اقلیمیں ہیں گویا اب بہ خطِ استوا

    رکھے گا تعویذ اور گنڈا کوئی کیوں اپنے پاس

    باغِ عالم میں یہی عالم جو صحت کا رہا

    دے گا طاؤس اپنے بال و پر سے سارے نقش دھو

     پھینک دے گی توڑ کر گنڈا گلے سے فاختا

     اس قدر جاتی رہی عالم سے بیماری کہ آج

    نام گلشن میں نہیں ہے نرگسِ بیمار کا

     واقعی کس طرح سے صحت نہ اک عالم کو ہو

     جب کہ ہو اس کی نویدِ غسلِ صحت جاں فذا

    وہ ولی عہدِ زماں، مرزا محمد بو ظفر

     اس کی قوت گر ضعیفوں کو بنا دے اقویا

    تقویت کا یہ اثر ہو عام ،جو ہیں برگِ زرد

     ہوں مقوی دل و جاں مثل اوراق ِطلا

    شادیِ صحت سے اس کی آج ہو کر شاد شاد

     تہنیت خوانی میں ہیں سرگرم سب مدحت سرا

     میں بھی اس رشکِ چمن محفل میں وہ مطلع پڑھوں

     بلبلِ تصویر سُن کر بول اٹھے مرحبا

    مطلع

    آج ہے عالم میں وہ روزِ سعادت انتہا

     دے اگر زاغ و زغن بیضہ تو ہو پیدا ہما

     مژدۂ جاں بخشِ صحت ہے ترا ماء الحیات

     جس سے جوں سیمابِ کشتہ مردہ دل زندہ ہوا

     ہے بقائے عمر سے تیری بقاے عمر ِخلق

    ہوں دُرِ خوش آب پیدا اس قدر قوت فذا

    ہو دیں استعمال یاقوتی میں وہ موتی اگر

    بخشے پیرانِ کہن کو نوجوانوں کے قوا

    جسم کو مل مل کے دھویا تو نے جس دم وقتِ غسل

     گردِ کلفت کو دلِ عالم سے گویا دھو دیا

     دل عدوے سنگ دل کا تھا شقاوت سے جو سخت

     زیرِ پا پامال ہوتا تھا برنگِ سنگ پا

    خوردۂ گل کو صبا لائی تصدق کے لیے

     دے گیا ابرِ بہاری نذر دُرِّ بے بہا

     شادیِ صحت کا تیری کیا کہوں عالم کہ آج

     جوشِ عشرت سے یہ عالم بن گیا عشرت سرا

    چھیڑے تارِ شمع کو گر ناخن ِموج ِنسیم

    بزم میں پیدا ہو تارِ ساز ِمطرب کی صدا

    لب پہ ساغر کے ہے جوں موجِ تبسم موجِ مے

     شورِ قلقل لب پہ ہے، میناے مے کے قہقہا

     بزمِ تصویرات فانوس ِخیالی کی طرح

    حلقۂ رقاص گاں ہے زیرِ گردوں جابجا

    کر رہا صحنِ چمن ہی میں ہے کیا طاؤس رقص

    آشیانے میں ہے رقصاں طائر قبلہ نما

     خانہ ہائے چشم میں بھی پتلیوں کا رقص ہے

     ہے جو منظورِ نظر سب کو تماشا رقص کا

    چھوٹی آتش بازی ایسی جس کی گل کاری کو دیکھ

     رات کو کہتے تھے آپس میں ثُریا و سَہا

    صنعِ آتش باز پر حیرت زدہ ہوتی ہے عقل

     سنگِ پارس سے کہیں باروت کو پیسا تھا کیا

    ہو گئی تاثیر جس کی یہ کہ ہر گل ریز سے

     ریزۂ فولاد نکلے بن کے گل ہائے طلا

    گنج چھٹتے تھے ستاروں کے عجب انداز سے

     ماہ پاروں کا تھا گویا خندۂ دنداں نما

     منہ ہے کیا جو رنگ سے مہتاب کے ہم تاب ہو

    غازے سے ہر چند چمکے رنگِ روئے مہ لقا

     برج جو اُڑ کر ہوئے قندیلِ شب زیرِ فلک

    برج تھے جتنے فلک پر، سب کو روشن کر دیا

    فی الحقیقت یہ وہ شادی ہے کہ اس کے رُو بہ رُو

     جشنِ جمشیدی کا کچھ مطلق نہیں رُتبہ رہا

    ہے زبانِ خامہ عاجز آگے بس تعریف میں

     ذوق کہتا ہے اُٹھا کر ذوق میں دستِ دعا

    رکھے صحت سے ہمیشہ شافیِ مطلق تجھے

     جو ترے بدخواہ ہیں، وہ رنج میں ہوں مبتلا