قصیده
قصیده
ھو اللہ اکبر
شاہا جمال وحُسن کے تیرے کہوں میں وصف کیا
ظاہر میں تو ظلِّ خدا، باطن میں تو نورِ خدا
جلوہ ترے دیدار کا ہے اس قدر فرحت فزا
حُسنِ مقدس کو ترے جس نے کہ دیکھا یہ کہا
صلِ علىٰ صلِ علىٰ صلِ علىٰ صلِ علىٰ
انوار سے عرفان کے روشن وہ تیرا سینہ صاف
پہنچے ہے جس کی روشنی اک قاف سے لے تا بہ قاف
خورشید و مہ کو روبرو تیرے کہاں مقدور لاف
کرتے ہیں دونوں روز و شب آکر ترے در کا طواف
اسے قبلۂ روشن دلاں ! اے کعبۂ اہلِ صفا !
ہے تیری نسبت سے فریدوں کمتر از دُو ہمتاں
نصفت کو تیری دیکھ کر کسریٰ کی بھی ہو کسرِ شاں
تو وہ سکندر قدر ہے اے فخرِشاہانِ جہاں
تیرے ضمیرِ صاف کو پہنچے ہے جامِ جم کہاں
وہ جام ہے گیتی نما، یہ آئنہ ہے حق نما
اللہ رے دریا دلی تیری دم ِجود و کرم
ہے دل ہی دل شاہنشاہ تو سر سے لے کر تا قدم
آگے تری بخشش کے ہے دریا کہیں رتبے میں کم
اک آن میں تو بخش دے سو گنج دینار و درم
پیسہ بھی دے سکتا نہیں وہ فلس ماہی کے سوا
تیری بہارِ لطف سے ہو دشت بھی رشکِ چمن
پیدا ہوں خارِ خشک سے گل ہاے نسرین و سمن
تیرے سحابِ فیض سے اے ظلِّ ربِّ ذوا لمنن
جس جا کہ موجِ ریگ ہو، دریا وہاں ہو موج زن
اور دامنِ ہر موج میں لاکھوں ہوں دُرِّ بے بہا
جس پر عنایت ہو تری اُس کو نہیں پروائے زر
جس کا کہ تو حامی ہو کیوں اس کی شکستہ ہو کمر
اللہ نے تجھ کو کیا بے چارگاں کا چارہ گر
اے خسروِ والا گُہر ،تیرے تلطف کی نظر
ہے مفلسوں کو کیمیا، ٹوٹے دلوں کو مومیا
تیری ثنا کب ہو سکے اے خسروِ والا نگاہ
پر یہ دعا ہے ذوق کی حق میں ترے شام و پگاہ
جب تک زمیں ہو اور فلک، اور ہوں فلک پر مہر و ماہ
ہر سال تجھ کو عید ہو فرخ شہا! با عزو جاہ
بدخواہ تیرا ہو سدا رنج و الم میں مبتلا