قصیده (۲۱)
قصیده ( ۲۱)
( در مدح ابوظفر بہادر شاہ )
شیخ ابراہیم ذوق
ساون میں دیا پھر مہِ شوّال دکھائی
برسات میں عید آئی، قدح کش کی بن آئی
کرتا ہے ہلال ابروئے پُرخم سے اشارہ
ساقی گو کہ بھر بادے سے کشتیِ طلائی
ہے عکس فگن جام ِبلوریں سے مئے سرخ
کس رنگ سے ہوں ہاتھ نہ مے کش کے حنائی
کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے میں
ساقی نے ہے آتش سے مئے تیز اُڑائی
یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے
ہووے نہ ممیز کرهٔ ناری و مائی
پہنچا کمکِ لشکر باراں سے ہے یہ زور
ہر نالے کی ہے دشت میں دریا پہ چڑھائی
ہو قلزمِ عماں پہ لبِ جُو متبسم
تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی
ہے کثرتِ باراں سے ہوئی عام یہ سردی
کافور کی تاثیر گئی، جو ز میں پائی
سردیِ حنا پہنچے ہے عاشق کے جگر تک
معشوق کا گر ہاتھ میں ہے دستِ حنائی
عالم یہ ہَوا کا ہے کہ تاثیر ِہَوا سے
گردوں پہ ہے خورشید کا بھی دیدہ ہوائی
کیا صَرف ہُوا ہے طرب و عیش سے عالم
ہے مدرسے میں بھی سبقِ صرفِ ہوائی
خالی نہیں مے سے روشِ دانۂ انگور
زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح رہائی
جو آئنۂ دل ہے وہ عاشق کی بغل میں
گویا کہ ہے مینائے مئے کاہ ربائی
کرتی ہے صبا آ کے کبھی مُشک فشانی
کرتی ہے نسیم آکے کبھی لخلخہ سائی
تھا سوزنی خار کا صحرا میں جہاں فرش
سبزے نے وہاں مخملِ خوش رنگ بچھائی
آرائشِ گل کے لیے ہے جامۂ رنگیں
زیبائشِ غنچہ کے لیے تنگ قبائی
ہے نرگسِ شہلا نے دیا آنکھ میں کاجل
برگِ گلِ سوسن نے دھڑی لب پہ جمائی
ابرو پہ کرے قوسِ قزح وسمہ تو خورشید
سرخیِ شفق سے کرے ریش اپنی حنائی
رخسارۂ گل چیں کا ہے سُرخی سے یہ عالم
جوں وقتِ غضب چہرهٔ ترکانِ خطائی
کیا ساغرِ رنگیں کو کیا جلد مہیا
نر گس نے تو سرسوں ہی ہتھیلی پہ جمائی
ہوتی متحمل نہیں اک ساغرِ گل کی
شاخِ گلِ احمد کی نزاکت سے کلائی
اعجاز ِنوا سنجیِ مطرب سے چمن میں
ہر خار کی ہے نوکِ زباں شعر نوائی
حیرت کی نہیں جائے کہ دیوارِ چمن پر
ہر طائر تصویر کرے نغمہ سرائی
شاہا! ترے جلوے سے ہے یہ عید کو رونق
عالم نے تجھے دیکھ کے ہے عید منائی
کہتے ہیں مہِ نو جسے، ابرو نے وہ تیری
کی آئنۂ چرخ میں ہے جلوہ نمائی
پر تو سے ترے جامِ مئے عیش سرِ بزم
لے ساغرِ جمشید، کرے کارروائی
ٹپکے لبِ ساغر سے وہ قطرہ کروی شکل
ہو مثلِ فلک جس میں تماشاے خدائی
کیا علم سمائے ترا سینے میں فلک کے
دریا کی کہاں ہو سکے کاسے میں سمائی
پڑھتا ہوں ترے سامنے وہ مطلعِ موزوں
’ احسنت ‘ کہیں سُن کے بہائی و سنائی
.....
یوں کرسیِ زر پر ہے تری جلوہ نمائی
جس طرح سے مصحف ہو سر ِرحلِ طلائی
رکھتا ہے تو وہ دستِ سَخا، سامنے جس کے
ہے بحر بھی کشتی بہ کف از بہر گدائی
گم رہ کو ہدایت جو تری راہ پر لاوے
رہ زن بھی اگر ہو تو کرے راہ نمائی
تا ناخنِ شمشیر نہ ہو ناخنِ تدبیر
دشمن کی ترے ہو نہ کبھی عقدہ کشائی
خورشید سے افزوں ہو نشاں سجدے کا روشن
گر چرخ کرے در کی ترے ناصیہ سائی
عکسِ رُخ روشن سے ترے جوں یدِ بیضا
کرتا ہے کفِ آئنہ اعجاز نمائی
کرتا ہے تری نذر سدا نقد ِسعادت
ہے مشتریِ چرخ کی کیا نیک کمائی
اک مرغِ ہوا کیا ہے کہ سمیرغ نہ چھوڑے
گر سر بہ ہوا ہووے ترا تیرِ ہوائی
ہر کوہ اگر کوہِ صفا ،ہو تو عجب کیا
ہو فیض رساں جب ترے باطن کی صفائی
ہو بل کہ صفا ایسی دلِ سنگِ صنم میں
ہر بت میں کرے صورتِ حق جلوہ نمائی
ہر شعر غزل میں ترے معنیِ شفا ہیں
قربان غزل کے تری، ’دیوانِ شفائی‘
مانع جو ہوا دست درازی کو ترا عدل
پروانے کو بھی شمع نے اُنگلی نہ لگائی
زنجیر میں جوہر کی رہی تیغ ہمیشہ
خوں ریز کو ہو عہد میں تیرے نہ رہائی
دیتا ہے دعا ذوق کہ مضمون ِثنا میں
ہے ذہنِ رسا کو یہ کہاں اس کے رسائی
ہر سال شہا ہووے مبارک یہ تجھے عہد
تو مسندِ شاہی پہ کرے جلوہ نمائی!
مسدس دعائیہ
سریر آرائے گردوں جب تلک سلطانِ خاور ہو
قمر دستورِ اعظم، صدرِ اعلیٰ ، سعدِ اکبر ہو
عطارد میر منشی، زہرہ ناظر آسماں پر ہو
زحل میرِ عمارت، ترکِ گردوں میرِ لشکر ہو
سر ِہفت آسماں جب تک کہ دورِ ہفت اختر ہو
الہٰی یہ بہادر شاہ ،شاہِ ہفت کشور ہو
رہے نامِ سلیماں تا نگینِ حکم رانی سے
رہے نام ِفریدوں تا درفش ِکاویانی سے
رہے دارا کو تا نام آوری تاج ِکیانی سے
سکندر تا ہو نامی سکۂ کشور ستانی سے
ترا اے خسروِ والا حشم عالم مسخر ہو
سریرِسلطنت پر تو ہمیشہ داد گستر ہو
بخارِ ارض سے تا ابر ہو اور ابر میں پانی
رواں پانی سے تا دریا ہو اور دریا کو طغیانی
زمیں میں تا ہو کان اور کان میں ہو جو ہرِ کافی
پۓ جوہر ہو قیمت اور قیمت کو فراوانی
تری شمشیر ِجو ہر دار میں نصرت کا جو ہر ہو
ترے قبضے میں بحرِ پُر گہر ہو، کان ِپُر زر ہو
رکھیں تا عود کو آتش پہ اور آتش کو مجمر میں
گلِ تر تا ہو گل داں میں، تری ہو تا گلِ تر میں
رہے تا مشکِ اَذفر نافہ میں ،بو مشکِ اَذفر میں
صدف میں تا ہو گوہر اور تا ہو آب گوہر میں
ترے ابرِ کرم سے باغِ عالم تازہ وتر ہو
شمیمِ لطف سے تیری جہاں یکسر معطر ہو
طریقِ رہبری میں خضر ہو جب تک ہدایت فن
سہارا ہو وے تا بحرِ غریق الیاس کا دامن
رہے ادریس تا قطعِ تعلق سے جناں مسکن
مسیحا کا ہو بالاخانہ تا خورشید سے روشن
چراغِ عمر سے تیرے جہاں سارا منور ہو
فروغ اسلام کا ہو، رونقِ دین پیمبر ہو
شفق گل گونہ ہو جب تک سحر کے رُوئے نیکو کو
کرے آراستہ تا شام اپنے موئے گیسو کو
ثریا نورتن تا کہکشاں کے ہووے بازو کو
کرے وسمے سے تا قوسِ قزح سبز اپنے ابرو کو
لبِ پاں خوردہ دشمن کے لہو سے تیرا خنجر ہو
سر ِبدخواه فندق، تیری انگشتِ سناں پر، ہو
گلستاں میں ہو تا گل اور گل سے شاخ ہو زیبا
نَیستاں میں ہوتا نَے اور نَے سے نغمہ ہو پیدا
نہالِ تاک میں انگور ہو، انگور میں صہبا
نشہ صہبا میں ہو اور نشہ ہو جب تک نشاط افزا
شرابِ عیش سے خالی کبھو تیرا نہ ساغر ہو
ہمیشہ جشنِ جمشیدی سے تیرا جشن بہتر ہو
رہے تا کام دیں داروں کر احکامِ شریعت سے
خوشی تا حاجیوں کو ہووے کعبے کی زیارت سے
رہے تا عابدوں کو شوق محرابِ عبادت سے
نماز اہلِ سنت تا ہو مسجد میں جماعت سے
ترا خطبے میں ہو نام اور خطبہ زیبِ منبر ہو
ترا حامی ابوبکرؓ و عمرؓ، عثمانؓ و حیدرؓ ہو
قلم تا راستی پیشہ ہو اور کاغذ صفا آئیں
قلم زن تا ہومُشک افشاں و کاغذ خط سے مشک آگیں
زبان پر تاسخن ہو اور سخن میں معنیِ رنگیں
سخن تا داد چاہے اور تا اہلِ سخن تسکیں
ترا مدّاح دائم خسروا ! ذوقِ سخن ور ہو!
ہمیشہ تہنیت خواں ہو، دعا گو ہو، ثنا گر ہو!