قصیدہ (٥)
قصیدہ ( ٥ )
شیخ ابراہیم ذوق
شب کو میں اپنے سرِ بسترِ خواب ِراحت
نشۂ علم میں سرمستِ غرور و نخوت
مزے لیتا تھا پڑا علم و عمل کے اپنے
تھا تصور مرا ہر امر میں تصدیق صفت
ہو گیا علم حصولی تھا حضوری مجھ کو
تھا مرا ذہن نہ محتاجِ حصولِ صورت
جو مسائلِ نظری تھے وہ بدیہی تھے تمام
عقل کو تجربے کی اتنی ہوئی تھی کثرت
نہ غرض مجھ کو نتیجے سے، نہ تھا شکل سے کام
تھی مری فکر کو ہر شکلِ خطا سے عصمت
ذہن میں سب مرے حاضر صوَرِ علمیہ
پر جتانی نہ تھی منظور مجھے علمیت
چار و ناچار جو ترغیب سے یاروں کے کبھی
درس و تدریس پہ آجاتی تھی مجھ کو رغبت
کبھی ہمت تھی مری قاعدۂ صرف میں صِرف
کبھی تھی نحو میں ہر نحو مجھے محویت
کبھی منطق کو تفوق یہ مرے ناطقے سے
فوقِ حکمت ہو یہ فن گرچہ ہے تحتِ حکمت
کبھی میں کرتا تھا تصریحِ معانی و بیان
کبھی میں کرتا تھا توصیحِ نجوم و ہیئت
کبھی تقسیمِ فرائض کبھی ،تفہیمِ اصول
کبھی تعلیمِ عقائد بہ کتاب و سنت
کبھی تھا علم الہٰی کی طرف ذہنِ رسا
کبھی کرتی تھی طبیعی میں طبیعت جودَت
کبھی تھا عقل پہ مذہب مرا مانندِ حکیم
کبھی مثلِ متکلم مجھے پاسِ ملت
کبھی کرتا تھا قدم چرخ کا ثابت بہ جہات
اور کبھی کرتا تھا باطل بسماء شقت
کبھی انکار ِقیامت پہ میں لاتا تھا دلیل
کبھی تکرار ِتناسخ پہ مجھے سو حجت
حشرِ اجساد میں تھا گاہ تردد مجھ کو
کبھی تھی عالمِ برزخ میں مجھے اک حیرت
کبھی تھی عرصۂ تدویرِ فلک کی مجھے سیر
کبھی میں نا پتا تھا سطحِ زمیں کی وسعت
کبھی ثابت مرے نزدیک فلک کی گردش
کبھی مثبت مرے نزدیک زمیں کی حرکت
کبھی میں کرتا تھا اعراض میں جو ہر قائم
کبھی میں کرتا تھا معلول سے ثابت علت
کبھی منقول پہ مائل، کبھی سوئے معقول
کبھی میں فقہ پر راغب، کبھی سوئے حکمت
کبھی میں حافظِ قرآن بہ علمِ تفسیر
کبھی میں قاریِ قرآن یہ علمِ قرأت
کبھی کرتا تھا مجسطی یہ حواشی تحریر
کبھی کرتا تھا اشارات و شفلہ کی صحت
کبھی میں کرتا تھا’ قانون‘ سے تشریحِ علاج
کبھی میں کرتا تھا ’ قاموس‘ میں تصحیح ِلغت
کبھی میں لون سے بیننده ٔبیمار و صحیح
کبھی میں نبض سے دانندۂ ضعف و قوت
کہ نباتات کی آگاہ میں کیفیت سے
کہ جمادات کی معلوم مجھے خاصیت
کبھی مشائیوں سے کرتا تھا میں پیش روی
کبھی لے جاتا تھا اشراقیوں پر میں سبقت
کبھی میں نفیِ حقائق میں تھا سوفسطائی
کبھی میں معتزلی، باعث ِآزادیت
کبھی میں جبری و مجبور بہ عقل و تدبیر
کبھی میں قدری و مختار بہ قدرِ طاقت
کہ ملاحد کی تھی تردید کلام ِالحاد
گہ وجودی و شہودی سے بیانِ وحدت
جوں مہندس کبھی مالوف بہ شکل و مقدار
جوں محاسب کبھی مشغول بہ ضرب و قسمت
کبھی حرفوں سے تھا مطلوب مثالِ جفّار
کبھی کچھ نقطے سے مقصود تھا رَمّال صفت
خانۂ کیسہ سے خارج کبھی شکلِ داخل
شکلِ خارج تھی کبھی داخلِ بیتِ غربت
کبھی کرتا تھا قرانِ مہ و زہرا پہ نظر
کبھی تھا دیکھتا مریخ و زُحل کی رجعت
کبھی افسون و عزیمت کبھی تعویذ و طلسم
کبھی تجویزِ زکوٰۃ اور کبھی قصدِ دعوت
کبھی تھا علمِ قیافہ میں یہ ادراک مجھے
ایک صورت سے بیاں کرتا تھا میں سوسیرت
کبھی میں علمِ سرودی میں تھا ایسا مشغول
کہ نہ تھی ایک نفس ضبط ِنفس سے فرصت
سیمیا سے کبھی تصویر کشِ موہومات
کیمیا سے کبھی میں زرکش ِگنجِ دولت
کبھی میں شیخِ شیوخ اور کبھی شیخِ رئیس
کبھی علامہ، کبھی صوفیِ صافی طینت
کبھی میں قربِ فرائض سے تھا عالی درجہ
کبھی میں قربِ نوافل سے تھا والا رُتبت
ماہرِ موسیقی ایسا کہ ادا کرتا تھا
کبھی میں بارہ مقام اور کبھی چاروں مت
کبھی میں شاعر ِغرّا و اَدب دانِ بلیغ
نظم میں نام مرا، نثر میں میری شہرت
کبھی کرتا تھا عروضی کا بھی میں قافیہ تنگ
طبعِ موزوں کی دکھاتا تھا جو موزونیت
کبھی پیشِ نظر انجیل و زبور و توریت
کبھی مصحف میں نظر میری سَرِ ہر آیت
کبھی زرتشتیوں میں ایسا کہ سارے موبد
ژند و پاژند میں کرتے تھے مری تبعیت
کبھی یہ آگہی شاستر و بید و پران
کروں اک بات سے پنڈت کی کتھا میں کھنڈت
کبھی میں نغز و معما میں نہایت ذی ہوش
کبھی اخبار و تواریخ میں صاحب خبرت
آخرش دیکھا تو ’اَلْعِلمُ حِجَابُ الْاَكْبَر ‘
عاقبت پایا تو ہاں ابلہ کو اہلِ جنت
فائدہ کیا جو ہر اک علم کی جانی تعریف
فائدہ کیا جو ہر اک فن کی کھلی ماہیت
فائدہ کیا جو ہوئی آگہیِ ہر مذہب
فائدہ کیا کہ جو دیکھی کتبِ ہر ملت
عقل سے گرچہ کیا مادہ ایسا پیدا
کہ بہ ہرشکل ہو اک تازہ مخلِ صورت
یا بنائی کوئی صورت کہ جسے دیکھ کے ہو
ہیکلِ رُوم سے بت خانۂ چیں تک حیرت
بے مقدر نہ پڑے صورتِ بہبود نظر
دُور آئینۂ دل سے نہ ہو زنگِ کلفت
پڑھوں اک مطلعِ برجستہ میں اس موقع پر
جس کو سُن کر کہیں اَحْسَنْت سب اہل ِفطنت
مطلعِ ثانی
گر نہ دے صاحب ِجو ہر کو مقدر عزت
جو ہرِ فرد ہے بالفرض تو کیا بے قسمت
کیا ہوا علم مقولہ سے اگر کیف کے ہے
لیک بے یاوریِ بخت نہیں کیفیت
قاضیِ چرخ بھی جو تو ہے تو کیا، گر تیرے
مثلِ دہقانِ فلک رکھتے ہوں طالع نکبت
دورِ گردوں نہ موافق ہو تو ہو اور خفیف
جزِ اثقال میں تو جتنی اُٹھائے محنت
آگے برگشتگی بخت کے چلنے کی نہیں
نظری و عملی کوئی بھی تیری حکمت
گو فصاحت میں تو سحباں ہے ولے بے تقدیر
حرفِ مطلب پہ زباں کو ہو تری سولکنت
گو ریاضی میں ہیں صناع ،اگر بخت ہیں بد
نقشِ باطل ہے تری شکل وہ جس میں صنعت
کیا ہوا، جانا اگر مسئلۂ بیر و منار
پستی بخت سے جو تجھ کو نہیں ہے رفعت
کام تقویم نہ آئے، نہ ترے اصطرلاب
طالعِ بد سے اگر نیک نہ آئے ساعت
علم سے ہو نہ کبھی چارۂ آزار نصیب
پور ِسینا ہے تو کیا سینے میں خوں ہے حسرت
سود وا ئیں ترے نسخے میں ہوں پر بے تقدیر
نہ ہو بالخاصۂ تاثیر، نہ بالکیفیت
علمِ نیرنج سے گو بودے تو نخل ِتاریخ
بے مقدر نہ ہو حاصل ثمرِ خوش لذت
علم سے جو سبق آموزِ ملائک تھا وہ دیکھ
بختِ بد سے ہوا مستوجبِ رحم و لعنت
ہوا مسجودِ ملائک یہ ظلوم اور جہول
یعنی انسانِ قوی بخت و ضعیف الخلقت
گو تصوف سے ہو تو صوفیِ سجادہ نشیں
بے مقدر نہ کرامت ہو، نہ خرقِ عادت
علم سے لاکھ ہو شیخی تری پر بے تقدیر
نہ کہے کوئی تجھے شیخ علیہ الرحمت
یہ مقالاتِ مثالِ قصص ِمصنوعہ
ہوئے اک بار جو افسانۂ خوابِ غفلت
لگ گئی آنکھ مری ،دیکھتا کیا خواب میں ہوں
کہ مجسم نظر آتی ہے نویدِ بہجت
اللہ اللہ رے حُسن اُس کا کہ سر تا بہ قدم
تھا وہ خالق کا تماشائے ظہورِ قدرت
یاد کرنا قدِ رعنا کو ہے اُس کے زاہد
دمِ تکبیر جو کہتا ہے سدا ’’قد قامت‘‘
چشمِ وحشی کو اگر اپنی وہ دکھلائے تو ہو
چشمِ آہو سے ہرن نشۂ جامِ وحشت
دلِ شامت زدہ کے در پئے تدبیر ہلاک
زلفِ واژوں تھی وہ رخسار پر واژوں تبت
آتشِ حُسن سے اک شعلۂ سرکش بینی
موجۂ دُودِ لطیف اُس کی بھووں کی حالت
فوجِ مژگاں وہ بلا ، ہووے صف آرا تو کرے
دستِ بیداد سے یک دست ،دو عالم غارت
چاهِ بابل وہ ذقن اور دُھواں زُلف کا عکس
دل گرفتارِ عذاب اُس میں ہو ہاروت صفت
لعلِ شیریں کی حلاوت پہ جو دے جاں عاشق
تو دمِ نزع بھی عنّاب کا چاہے شربت
نہ دمِ شرم تبسم سے لب اُس کے خوگر
نہ تغافل سے اُن آنکھوں کو نگہ کی عادت
کھول دے معنیِ معدوم کمر کی جنبش
وا کرے عقدہ ٔموہوم لبوں کی حرکت
شوخی و ناز کی تعریف میں اُس کی مطلع
وہ پڑھوں میں کہ جسے سُن کے ہو دل کو فرحت
مطلعِ ثالث
شوخی اُس چہرے میں یوں، گل میں ہو جیسے حمرت
نازیوں چشم میں، نرگس میں ہو جیسے نکہت
لبِ پاں خوردہ کی شوخی کے ہے آگے اک بات
گر لگاوے وہ مسیحا پہ بھی خوں کی تہمت
نازک اندام وہ اور سنگ دل اُن سے بھی سوا
آیا جن سنگ دلوں کے لیے’’ ثُمَّ قَسَسَتْ ‘‘
سیلی سینے پہ نہ تھی، جعدِ پسِ پشت کا عکس
نظر آتا تھا صفائی سے الف کی صورت
چمپئی رنگ کا وہ اپنے دکھا کر عالم
ایک عالم کا ہو دل لے کے بغل میں چمپت
اللہ اللہ رے تری تمکنت ، آف رے تمئیز
واہ رے تیرا تبختر، تری بل بے نخوت
قہر انداز، بلا ناز ،قیامت طناز
سحرِ چشمک، ستم ایما و کرشمہ آفت
جا بہ جا عالمِ مستی میں قدم کو لغزش
دم بہ دم نشۂ صہبا سے زباں کو لکنت
آ کے اُس رشکِ مسیحا نے کہا بالیں پر
’’لا تنم، قم‘‘ کہ یہ غافل نہیں وقتِ غفلت
شور بختی سے نہ اتنا نمک افشاں ہو کہ ہو
بادۂ مے کدۂ عیش کی گم کیفیت
کیا سبب، ہوتا کدورت سے نہیں کیوں خالی
دل ترا شیشۂ ساعت کی طرح اک ساعت
بزمِ ہستی میں تو ہنس بول، رہے گا کب تک
صورتِ شمعِ سحر سوختہ، روتی صورت
آتشِ دل سے تری گوشۂ تنہائی میں
بن گئی شعلۂ جوالہ کمندِ وحدت
وقت ضائع نہ کر، اُٹھ بسترِ اندوہ سے تو
چل درِ مے کدہ تک ،ہے حرکت سے برکت
فکرِ باطل سے نہ کر دل کو خنک تو اپنے
ہے تجھے مثلِ سحر یک دو نفس کی مہلت
د یکھ تو کیا اُفقِ مشرقِ انوار سے ہے
جلوہ افروز رخِ بانوے صبحِ عشرت
ادھمِ لیل سر ِعرصہ ہے برگشتہ عناں
اشہب یوم سبک سیر ہے سوئے ساحت
جانب شرق ہے نوریِ فلق بال کشا
جانب غرب ہے پرواز ِغراب ِظلمت
چرخِ مینائی پہ اک سبز پری کا عالم
شفقِ صبح پہ اک لال پری کی حالت
نکہتِ گل جو ہوا میں تو ہوا عطر فشاں
تازگی گل کو چمن سے تو چمن کو نزہت
کھلے ہی جاتے ہیں سب غنچے، ز ہے جوشِ نشاط
لوٹے ہی جاتے ہیں گل ،بل بے ہنسی کی شدت
آج یہ جوش پہ ہے رحمتِ باری کہ کہیں
نہ رہی کلفتِ عصیاں سے جہاں میں ظلمت
طفلِ نو مشق کی مشقی کی طرح سو سو بار
دھو دے مستوں کے سیہ نامے کو ابر رحمت
کہے یہ رند کہ او زُہد فروش آگ نہ پھانک
مانگے گر بادہ ٔنو زہد ِکہن کی قیمت
قل ہوا زہد کا، قلیا ہوئی زاہد کی تمام
سنتے ہی قلقلِ مینائے شرابِ عشرت
اس قدر ساز طرب ساز کی آواز بلند
چھیڑیں گر تار کھرج کا تو ہو پیدا دھیوت
نغمہ برلب کہیں مطرب پسرِ زہرہ جبیں
جام در دست ،کہیں مغچۂ مہ طلعت
لے کے انگڑائی کہیں بننے لگی رام کلی
اُٹھی ملتی ہوئی آنکھوں کو کہیں اپنی للت
چشمِ سرمست مئے ناز میں کاجل پھیلا
لب پہ میگوں پہ مسی کی پڑی پھیکی رنگت
بے نمک آیا نظر حسن مہ و انجمِ چرخ
ہو گیا زرد رخِ شمع و چراغ خلوت
چونکے مرغانِ سحر عرش سے، آوازِ خروس
ہو گئی خواب کو آوازہ ٔکوس ِرحلت
باغ عالم میں ہیں مرغانِ اُولى الاجنحہ تک
مثلِ مرغانِ سحر نغمہ طرازِ عشرت
دی ہے مسجد میں مؤذن نے اذاں بہرِ نماز
باوضو ہو کے نمازی نے ہے باندھی نیت
ہوئی بت خانے سے ناقوس کی پیدا آواز
چلے جمنا کو برہمن کوئی لے کر مورت
اُٹھے مے خوار صبوحی کے لیے لے کے سبو
کہ عداوت ہے، اگر کیجیے ترک ِعادت
اک طرف سے ہوئی گھڑیال کی آواز بلند
ایک جانب سے لگی آنے صدائے نوبت
سحِر عید ہے، کر عید کا سامانِ نشاط
روزِ شادی کی ہے آمد، شبِ غم کی رخصت
آج وہ دن ہے کہ آغوش میں لے کر تجھ کو
کہے ’طوبیٰ لک‘ ہر شاہدِ طوبیٰ قامت
اب ہیں بیدار ترے بخت، مددگار نصیب
اب قوی ہیں ترے طالع، تری یا ور قسمت
فکر کو تہنیتِ عید کا اُس شاہ کی تو
دَور میں جس کے ہے ہر صبح صباحِ دولت
وہ شہنشاہ ِبہادر شہِ کسریٰ انصاف
خسروِ جم خِدم و دوار دارا حشمت
قوتِ ملت و دیں، قامعِ کفر و الحاد
حامیِ شرع نبی،ماحیِ شرک و بدعت
حکمِ شرعی سے کرے سلب وہ سب جذبۂ شوق
مردِ مجذوب سے گر ترک ہو ستر ِعورت
کون اُس کا نہیں وصاف صفات ِنیکو
کون اُس کا نہیں سرگرمِ ثنا و مدحت
سنتے ہی میں نے بھی وہ مطلعِ روشن لکھا
مطلعِ صبح کو ہو سامنے جس کےخجلت
مطلعِ رابع
مصحف ِرخ ترا اے سایۂ رب العزت
کھول دے معني ’ اَتْمُمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتُ ‘
تیرا دروازۂ دولت ہے مقام ِاُمید
تیرا دیوانِ عدالت ہے مخلِ عبرت
تیرا احسان، بہارِ چمنِ صد رونق
تیری نیت، چمن آرائے ہزار امنیت
تیرے عشرت کدے میں بار کسے غیر ِنشاط
تیرے خلوت کدے میں دخل کسے جز طاعت
صفحۂ علم پہ برجیس سے تو ہم زانو
حجلۂ عیش میں ناہید سے تو ہم صحبت
ماہِ نو ایک فلک پر ترے نو بردوں میں
نہ فلک نوکروں میں تیرے قدیم الخدمت
کیسۂ گوہرِ انجم ترا صرفِ انعام
طاقۂ اطلسِ گردوں ترا وقفِ خلعت
نیتِ نیک تری آئنۂ حسنِ عمل
عملِ خیر ترا، جلوۂ حُسنِ نیت
ذہنِ عالی ہے ترا طائرِ شاخ ِ سدرہ
طبع ِرنگیں تری گل چین ریاض ِجنت
ترا افضال، جہاں کے لیے برہانِ کرم
ترا اکرام ،زمانے کو دلیلِ رحمت
علم ِظاہر سے ہے یکساں تجھے دُور و نزدیک
نورِ باطن سے برابر ہے حضور و غیبت
ذہنِ صافی ہے ترا پرده درِ معنی غیب
موشگافی ہے تری کوہ شگافِ دِقت
عقل میں شمس ہے تو، علم میں کانِ گوہر
فضل میں کعبہ ہے تو ، حلم میں کوہِ رحمت
تیری تدبیر پر از دفتر ِہوش و فرہنگ
تیری شمشیر پُر از جوہرِ فتح و نصرت
دعوتِ صدق پر لائے ترے ایماں تصدیق
دستِ ہمت پہ کرے تیرے سخاوت بیعت
تجھ سے راضی ہے خدا اور خدا کا محبوب
تیرا حامی ہے نبی اور نبی کی عترت
عزم کو ہے ترے ہر عزم میں عزمِ بالجزم
قصد کو تیرے ہے ہر قصد میں قصدِ سبقت
قوت ِروح ملائک چمنِ قدس میں ہو
ذاتِ قدسی کا ترے عطر قباے عفت
کیا اللہ نے جب تجھ سا ولی نعمت خلق
کیوں کہ واجب نہ خلائق پر ہو شکرِ نعمت
نطقِ شیریں سے ترے عام حلاوت ہو اگر
ثمرِ تلخ ہو حنظل کا سبوئے شربت
شوکت ِعقرب جرارہ کے مانند رہے
دلِ حاسد میں خلش گر ترا رشک ِشوکت
روشِ شیشہ ہر اک سنگ ہو ریزہ ریزہ
پڑے البرز پر گر گرز کی تیرے ضربت
سر کشف وار چھپاتا ہے فلک زیرِ سپر
کیا غضب ہے تری شمشیر ِغضب کی ہیبت
آئے طوفاں جو ترے قہر کا طغیانی پر
کشتیِ نوح بھی اعدا کو ہو گرداب صفت
وہ تری تیغ کی بزش ہے کہ سایہ جس کا
کر دے اک دم میں ہیولیٰ سے مفارق صورت
تیرا بدخواہ رہے حرز سے یاں تک محروم
دیں نہ تعویذ اسے تا بہ نشانِ تربت
آسیا وار پھرے کیوں نہ فلک گردِ زمیں
تیرے تو سن کے جو کا دے کے اُڑا جائے پھرت
کیا ترے فیل کے اوصاف لکھوں میں کہ وہ ہے
ابر رفتار، جبل پیکر و گردوں رفعت
اس کی خرطوم ہے گر طرۂ لیلیٰ کی مثال
تو ہیں دندانِ صفا ساعدِ سیمیں کی صفت
کیا عجب گر ہوتپ ولرزۂ ہیبت سے تری
نبض کی طرح رگِ سنگ میں پیدا سُرعت
آبِ بارانِ کرم ہے ترا وہ شربت ِخضر
برسے لالے پہ تو افیوں میں نہ ہو سمیت
عدل کے لفظ کو دیتا نہیں نقطہ کوئی
عدل سے تیری جو موقوف ہے رسمِ رشوت
عہد میں تیرے عجب کیا سرِ داغ دلِ شمع
شعلے میں مرہمِ کافور کی ہو خاصیت
پنجۂ گر بہ سر ِبچۂ موش و کنجشک
ہے حمایت سے تری دایہ کا دستِ شفقت
دَور انصاف میں گر تیرے ہو کشتہ سیماب
تو بلاشبہ پڑے دینی مہوس کو دیَت
دیا اللہ نے وہ قلبِ مصفا تجھ کو
اے شہنشاہِ صفا ذہن و سراپا صفوت
فردِ تفصیلِ حوائج ہے رُخ ِحاجت مند
عرض ِحاجت کی نہیں سامنے تیرے حاجت
عید کو دیکھ ترے ساتھ خلائق کا ہجوم
کہے عارف کہ یہ کثرت میں ہے ظاہر وحدت
لکھے گر خامہ ترا وصفِ شمیمِ اخلاق
تو ہر اک نقطہ ہو اک نافۂ مشکِ تبت
منتہی ہوں نہ کبھی تیرے صفات ِنیکو
گر بیاں کیجیے تا حشر صفت بعدِ صفت
ذوق کرتا ہے دعائیہ پہ اب ختم سخن
کہ زباں کو ہے نہ یارا، نہ قلم کو طاقت
عید ہر سال مبارک ہو تجھے عالم میں
باشکوه و حشم و جاه و بہ عمر و صحت
خیر خواہوں کے ترے چہرے پہ ہو رنگِ نشاط
اور بدخواہوں کے رخسار پہ اشک ِحسرت