ابراہیم ذوق

ابراہیم ذوق

قصیدہ (١٧)

    قصیدہ (١٧)

    (ہو اللہ اکبر )

    شیخ ابراہیم ذوق

     

    مانعِ سیرِ گلستاں ہیں قفس کی تیلیاں

     مارتی ہیں جانِ مرغاں محتبس کی تیلیاں (کذا)

     ہڈیاں ہیں اس تنِ لاغر میں خس کی تیلیاں

     تیلیاں بھی وہ ،جو ہو ویں سو برس کی تیلیاں

     گورگ ِگل سے ہوں بلبل کے قفس کی تیلیاں

     خار میں نظروں میں پر اس محتبس کی تیلیاں

     رخصتِ پرواز گر  دیویں قفس کی تیلیاں

     آشیاں کی جا کے پھر دیکھ آؤں خس کی تیلیاں

     جوشِ گریہ میں ہوا یہ استخوانِ تن کا حال

    جس طرح گل جاتی ہیں پانی میں خس کی تیلیاں

     شعلۂ آواز سے میرے قفس کی تیلیاں

    یوں جلیں جوں برق سے جل جائیں خس کی تیلیاں

     کام خنجر کا کیا کرتی ہیں خس کی تیلیاں

     چوری کی ہوتی ہیں، واقع میں مگس کی تیلیاں

     گر سرِ سیلا بچی رکھتے ہوخس کی تیلیاں

     لیجیے مژگاں کی مجھ بے دسترس کی تیلیاں

     میں ہوں دیوانہ کسی کے موئے خط کا ہم دمو

     مجھ کو مارو چوبِ گل کی جائے خس کی تیلیاں

     نام دینے کا ہو جس کو موت کی جھاڑو ہی دے

    تیر ترکش جان کو ہوں ..... خس کی تیلیاں

    ہے دوائی اُس شجر کے واسطے تازہ خزاں

    پتے پخ  کر رہ گئیں خالی سرس کی تیلیاں

     سوزِ غم سے یوں سلگتے ہیں تمہارے ناتواں

     جوں جلی رکھی ہوئی بار برس کی تیلیاں

     یوں ہو قبرِ کشتۂ مژگاں کے گنبد کا پتا

     چاہیے رکھیں جگہ زرّیں کلس کی تیلیاں

     ہیں گے دُنبالِ سمندِ ناز تیرے ناتواں

    تاب کیا لائیں لکدکوبِ فرس کی تیلیاں

     طرز ِنالہ مجھ سے دیکھیں تو جلا دیں دشت میں

     صوتِ ققنس وار آواز ِجرس کی تیلیاں

     لے چلا دنیا سے دل یا روغنِ زرد ائے حریص

    اس میں کیوں رکھی ہیں جاروبِ ہوس کی تیلیاں

     دل سے یوں لپٹیں وہ مژگاں جس طرح کنجشک کو

     لپٹے ہیں تاثیر سے لاسے کی خس کی تیلیاں

     میں ہوں اے صیاد خوگر سبزۂ گلزار سے

    سبز تو رنگوائیو میرے قفس کی تیلیاں

    ہیں خسِ مژگاں کہ آنسو کے کبوتر نے مرے

    جمع کی تنکوں کی جاچن چن کے خس کی تیلیاں

     چبھ گئے یادِ رگ ِگل سے جگر میں نیشتر

    دیکھ کر صیاد یہ نازک قفس کی تیلیاں

    چاہے وہ نازک دماغی سے نہ تارِ زلفِ حور

     چلو نہیں ہوویں مکانِ باد میں رس کی تیلیاں

     مان کہنے کو مرے صیاد،  زیبائش کو تو

     مت بنا پیتل کے تاروں سے قفس کی تیلیاں

    جو ہے مرغِ خوش نوا اُس کے قفس کے واسطے

     چاہییں صندل کی چوبیں اور خس کی تیلیاں

     قبر پر گر کُشتگانِ خال کے بھیجے ہے گل

     گل کے دُونے میں لگا شاخِ عدس کی تیلیاں

     لے چلی میری ہواے شوق جو ان کو اُڑا

     بن کے ٹانگیں قاصدانِ زود رس کی تیلیاں

     چق ترے دالان کی نازک بہت ہے ناز نیں

     کیا لگائیں اس میں ہیں پائے مگس کی تیلیاں

    .....

    ہوں حمایت میں اگر اُس دادرس کی تیلیاں

     پھر ہوا و نار کے رہویں نہ بس کی تیلیاں

     چشمِ ذلت سے دکھاتا ہے خطوط ِمہر کو

    اس کا خیمہ تاب سے زریں کلس کی تیلیاں

     خیمۂ حاسد کو ہوں گی دشت میں روزِ وغا

     وہ جلا کر آگ سے نعلِ فرس کی تیلیاں

    اس کے ابرو فیض سے سرسبز ہوں جوں برگ ِکاہ

    خشک ہوویں گرچہ کتنے ہی برس کی تیلیاں

     پیشِ بندوق اس کے ہو ویں یوں حریفانِ نبرد

     جوں ہوں رُوکش اژ درِ آتش نفس کی تیلیاں

     چمکے گرمشرق سے اس کا شعلۂ خورشیدِ قمر

    جل اُٹھیں مغرب میں شہرِ اندلس کی تیلیاں

     لے عذوبت اس کے آبِ فیض سے گر وام، ابر

     دشت میں سیراب ہوں بوندوں سے رس کی تیلیاں

     نیزہ فوج اُس کی ستاروں کو کرے یوں منتشر

     جس طرح سے فوج کو مور و مگس کی تیلیاں

     اس کے دستِ قہر دشمن سوز سے دشمن کو خوف

    تاب کیوں کر لاسکیں آتش کی، خس کی تیلیاں

    اُس کے دریاے غضب میں یوں ہیں اعداے ضعیف

     جس طرح طوفان میں ہوں خار وخس کی تیلیاں

    عدل اس کا ناتوانوں کی حفاظت گر کرے

    قوتِ بازو سے ہوں............

    ......................

    ..........

    ہیں رکھی گویا کہ سنگِ باد رس کی تیلیاں

    ٹھہریں طغیانی پہ کیوں............

    جوں روانی سے رہیں آب ِارس کی تیلیاں