اصغر ندیم سید

اصغر ندیم سید

میں نے شاعری کو دیکھا ہے

    میں نے شاعری کو دیکھا ہے پرندے کی چونچ میں بوسوں کے درمیان سرگوشی میں میں نے شاعری کو دیکھا ہے اپنے سے بڑے خواب میں راستہ بناتے ہوئے کتابوں سے نکلتے ہوئے اور سورج مکھی کے باغ کی طرف جاتے ہوئے میں نے شاعری کو دیکھا ہے دلدل میں پھنستے ہوئے بارودی سرنگوں سے اتفاقاً بچتے ہوئے اور دُور تک پھیلی ہوئی ہوا میں اپنے بال کھولتے ہوئے میں نے شاعری کو دیکھا ہے لوک گیت سے اپنی آواز مانگتے ہوئے درویش کے کٹورے سے پانی پیتے ہوئے میں نے شاعری کو دیکھا ہے کروڑوں انسانوں کی خاموشی کا صبر پی کر پروان چڑھتے ہوئے اور پھر آبشار بن کرگرتے ہوئے خاک سے فصل بن کر پھیلتے ہوئے قدیم شجر کے تنے سے بیل بن کر لپٹتے ہوئے جنگلی پھول کے مکھ پر صبح بن کر پھیلتے ہوئے میں نے شاعری کو دیکھا ہے