آزاد نظم۔ اگلا قدم
میرا جی سے آج تک آزاد نظم سے متعلق مختلف زاویوں سے بحثیں چلتی رہی ہیں جن میں سے اکثر کم فہمی اور شعری تجربے سے عدم واقفیت کے باعث محض فارم کو قبول نہ کرنے کی ضد ہر مبنی ہیں۔ لیکن آزاد نظم کو ایک تحریک بنانے میں ان بحثوں کا اپنا ایک مخصوص کردار رہا ہے۔ اس یک رخی تنقید کے ساتھ آزاد نظم پر ساختیاتی، موضوعاتی، لفظیاتی، تکنیکی اور علمی سطحوں پر گوں نا گوں بحثیں ہوئی ہیں۔ کہیں یہ سطح تاثراتی تھی اور کہیں تجرباتی۔ اس طرح آزاد نظم کو سیاسی، سماجی، ثقافتی، عمرانی اور نفسیاتی علوم کی روشنی میں پوری طرح جانچا پرکھا گیا۔ اور ایک وقت آیا کہ آزاد نظم پر بحث کی راہیں بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ یا پھر یہ بحثیں یکسانیت کا شکار ہونے لگیں۔ اور یوں بھی ہوا کہ جو مخالفت شروع میں کم فہمی اور شعری تجربے کی عدم واقفیت کے باعث طوفان کی طرح اٹھی تھی وہ آہستہ آہستہ پسندیدگی میں تحلیل ہو گئی۔ اور آزاد نظم کو باقاعدہ ایک طاقتور صنف کے طور پر قبول کر لیا گیا۔ یہ اور بات کہ آزاد نظم کے جواز اور حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے صرف بڑے چھوٹے مصرعوں کی صنف سمجھ کر اپنی آسانی کے لیے غزل کے مشاق پریکٹشنرز نے اسے اختیار کر لیا۔ اس طرح آزاد نظم مختلف اسالیب اور معنوی سطحوں کے ساتھ لکھی جانے لگی۔ ایسے میں فکری گروہ پیدا ہوئے اور اپنی اپنی طرز کی آزاد نظم کو پروان چڑھانے میں مصروف ہوگئے۔ لیکن شاعری کی بنیادی تفہیم اور انسان و کائنات کے درمیان لطیف قسم کا جو شاعرانہ رشتہ موجود ہے اس سے آگاہی معدودے چند شاعروں اور نقادوں کے حصے میں آئی۔
آزاد نظم کو صرف ظاہری ہیئت سمجھ کر قبول کرنے والوں نے شعری آہنگ اور موضوعاتی جدلیات کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آزاد نظم کی فطری توسیع جب نثری نظم کی صورت میں سامنے آئی ایسے ہی نقادوں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا اور غالباً آزاد نظم کی قبولیت کا جو غصہ اس وقت دب گیا تھا اسے دوبارہ اظہار کا موقع ملا۔ نثری نظم نےکچھ فاصلہ طے کر لیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ شروع میں تنقید کا جو طوفان کھڑا ہوا تھا اس کی ہوائیں اب کچھ تحلیل سی ہونے لگی ہیں۔ اور نثری نظم نہ صرف مقبول ہوئی ہے بلکہ اب ایک فطری اظہار بن کر بین الاقوامی شاعری کے مزاج کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
اس بحث کے آغاز کا مقصد یہ ہے کہ شعری تحریکیں کبھی کسی تنقید یا عدم مقبولیت کے باعث ختم نہیں ہو سکتیں۔ اگر ان کا رجحان انسانی محسوسات کے ذریعے اپنے اور کائنات کے درمیان رشتے کی تلاش ہے تو پھر ان کا سفر ہمیشہ آگے کی جانب جاری رہتا ہے۔ اور اگر ان کا مقصد محض تجرباتی سطح کا حامل ہوتا تو پھر وہ ایک مصرعے کی غزل یا غیر مقفیٰ غزل کے تجربوں کی طرح پروان نہیں چڑھ سکتے۔ آزاد نظم ایک ارتقائی اور معنوی پرداخت کے عمل سے گزری ہے۔ اس سےبھی کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آزاد نظم نے بنیادی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ ”شاعری کیا ہے؟“ یہ سوال اتنا سادہ نہیں ہے۔ کسی فلسفیانہ ادراک یا منطق سے اس کا جواب ممکن نہیں ہے۔ شاعری انسان کے اندر موجود ہوتی ہے اگرچہ سب انسانوں کے اندر نہیں تاہم محسوس کرنے والے اور ان کو رجسٹر کرنے والے عام انسانوں میں بھی شاعری کے لیے ایک منطقہ ہوتا ہے، ہوسکتا ہے بے حد مبہم ہو، نامعلوم ہو، معمولی ہو، چھپا ہوا ہو یا غیر دریافت شدہ ہو۔ شاعری کیا ہے؟ اس کا جواب اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ ”انسان کیا ہے“ کا۔ بہرحال شاعر کے اندر ہر شے کے لیے ایک گوشہ موجود ہوتا ہے، اگر وہ کائنات کی ہر شے کو معنی دینے پر قادر ہوتا ہے تو پھر ہر شے کی حقیقت اس کی نظر میں وہ نہیں ہوتی جو کوئی معاشرہ مقرر کرتا ہے بلکہ اس کے نزدیک ہر شے کی حقیقت اس کے ادراک، ذوق اور احساس کے مطابق ہوتی ہے۔ اس طرح ہر اچھی اور سچی شاعری۔ ”شاعری کیا ہے؟“ کا عملی جواب ہوتی ہے۔ دو مثالیں اس سلسلے میں بڑی نمایاں ہیں، پہلی مثال والٹ وھٹمین کی ہے جس نے ”شاعری کیا ہے“ کا جواب Song of my self لکھ کر دیا۔ اس نے اپنے اور کائنات کے درمیان طبیعاتی اور مابعد الطبیعاتی تعلق کو شاعرانہ پیرائے کی معراج بنا دیا۔ دوسری مثال پابلو نرودا کی ہے جس نے زندگی کو شاعری اور شاعری کو زندگی سمجھ کر بسر کیا۔ اس طرح میرے دعویٰ کی صداقت واضح ہو تی ہے کہ شاعری انسان کے وجود کا حصہ ہوتی ہے، اسے دریافت کرنا اور اسے زندگی سمجھنا ہی شاعری کی تفہیم ہے۔
آزاد نظم نے شعری تجربے کی معنویت اور شاعری کی تفہیم تک پہنچنے میں مدد دی۔ آزاد نظم ہی کے ذریعے یہ ممکن ہوا کہ انسان اپنی آزادی کا اقرار کرنے کے بعد اپنے اندر کی شعری دنیا کی تصدیق کرے اور پھر شاعری کو دریافت کر کے ایک غیر معمولی ہستی بن جائے۔ آزاد نظم کا سارا سفر بے پناہ فکری، جذباتی اور حسیاتی تلاطم سے مالا مال ہے۔ شاید غزل کے دو تین شاعروں اور اقبال کو چھوڑ کر شاعری نے اتنا بھرپور اور متنوع اظہار پہلے کبھی نہیں کیا جس کی جہتیں کئی سمتوں میں ہیں۔بنیادی طور آزاد نظم نے انسان کو تاریخ، تہذیب اور وقت کے تصور میں اس طرح دیکھا کہ اس کا داخل اور ذہنی قیافہ پوری طرح شاعری میں متشکل ہو گیا۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا اور شاید شاعری کی خواہش بھی یہی رہی ہے کہ وہ انسان کی شناخت تک پہنچے۔ اس لیے آزاد نظم نے فکری چولے کئی بدلے۔ جذباتی پیرہن بھی کئی بدلے ۔ ا س سلسلے میں ایک بے حد جدید اور نئی رَو نے جنم لیا ہے جس سے آزاد نظم کی ایک اور معنویت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
اپنے سفر کے اس موڑ پر اچانک آزاد نظم نے پنجابی اور سندھی کی صوفیانہ شاعری سے اپنا جذباتی اور فکری رشتہ جوڑ لیا ہے، یہ آزاد نظم کا ایک نیا روپ ہے جو آزاد نظم کے پھیلاؤ پر مہر ِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ اس کا جواز تلاش کرنے کے لیے ہمیں تھوڑا سا آزاد نظم کے بعض فکری رویوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ آزاد نظم میں اپنی ثقافتی جڑوں کی تلاش کے حوالے سے خود کو معتبر کرنے کی خواہش مختلف شاعروں میں ملتی ہے، اس کے ساتھ ہی روحانی کائنات کو دریافت کر کے، روح کی سرشاری کا تجربہ بھی بےحد مرغوب رہا ہے۔ شہروں کی صنعتی ثقافت نے جس میکانکیت کو جنم دیا۔ اس نے انسان کو غیر انسان میں تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اس میں تہذیبی گہرائی کو گھٹانے کی کوشش کی، اس عمل نے انسان کے اندر فطرت کی خوشبو کو دبانے کی کوشش کی۔ موسموں، وقتوں اور کائناتی خوبصورتی کے فطری دھاروں سے انسان کا رشتہ ٹوٹتا چلا گیا، ثقافتی اور تہذیبی ماخذوں سے خود کو جذباتی سطح پر حرارت دینے کا سلسلہ بھی کمزور پڑتا گیا اور ایک ایسے انسان کا آشوب اور نوحہ سامنے آیا جو مشین کے پرزے میں ڈھل چکا تھا، روحانی اور جذباتی سطح پر بے جان اور محروم۔ یہ تجربہ آزاد نظم میں اس قدر مقبول ہوا کہ ایک فیشن بن گیا۔ آج کے انسان کا آشوب نفسیاتی، ذہنی، روحانی اور جذباتی سطح پر کھل کر آزاد نظم میں سامنے آیا حتیٰ کہ ایک خاص میکانکیت، یکسانیت اور بے معنویت پیدا ہونے لگی۔ اس صورتِ حال کے ردعمل نے شاعروں کو مناظر اور موسم کی لطافت کی جانب متوجہ کیا۔ اس نے ایسی حسیت کو جنم دیا جس میں فطرت سے والہانہ تعلق کا اظہار پایا جاتا ہے۔ یہ ایک بنیاد تھی جس نے ہمارے بعض شاعروں کو لوک گیتوں کے ماحول اور صوفیانہ شاعری کے گہرے سماجی، کائناتی اور روحانی تجربے کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا۔
دوسری طرف ایک دلچسپ صورتِ حال یہ سامنے آئی کہ پنجابی اور سرائیکی لوک گیتوں اور صوفیانہ شاعری کے سر چشمہ کی طرف نہ تو کسی پنجابی نے رجوع کیا نہ ہی پنجابی شاعری میں صوفیانہ روایت کی پیروی کی گئی۔ اس کی بجائے اس سوڈو میکانکی شاعری کی پیروی کو جدیدیت کی دلیل سمجھا گیا۔ حالانکہ پنجابی اور سرائیکی شاعری کا مزاج اس صوفیانہ تجربے اور موڈ کے بالکل قریب تھا لیکن پنجابی شاعری اس سے محروم رہی اور اردو شاعری میں اس فقیری مزاج کو کئی شاعروں نے اپنے تجربے اور وژن کا حصہ بنا لیا۔ آج بھی پنجابی شاعر اردو شاعری یا بین الاقوامی شاعری کے پرتو میں لکھے جا رہے ہیں اور اپنے فکری اثاثے بھول چکے ہیں جبکہ لوگ گیتوں اور صوفیانہ شاعری میں زندگی کا جو گہرا شعور اور تجربہ موجود ہے اس کی جڑیں بے حد پھیلی ہوئی ہیں اور کائنات کو جس طرح انہوں نے دریافت کیا ہے وہ ایک انوکھا تجربہ ہے۔ روحانی تجربوں کو جس طرح زندگی کی حقیقتوں سے جوڑا گیا ہے اس سے ان کی شاعرانہ عظمت کا پتا چلتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا آزاد نظم کا شاعر اس سے بہت Fascinate ہوا اور اس نے آزاد نظم کے پیٹرن میں کافی کی روایت کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔ اور آزاد نظم نے ایک اور جدت کا موڑ حاصل کیا۔
جن شاعروں نے اس میں اپنے مخصوص لہجے کا مظاہرہ کیا ان میں سرمد صہبائی، ثروت حسین، نسرین انجم بھٹی کے نام نمایاں ہیں۔ چونکہ ان شاعروں نے ایک دو نظمیں نہیں بلکہ پورے پورے مجموعے لکھے ہیں۔ اس لیے اس رویے کا جائزہ لینا ضروری معلوم ہوتا ہے اگرچہ بعض نقاد محض اسے وقتی اور جذباتی ابال سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک پنجابی زبان کے استعاروں، علامتوں اور کرداروں کی پیوند کاری سے اردو شاعری کی اپنی پہچان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ کوئی حقیقی روحانی تجربہ بھی نہیں ہے جیسا کہ صوفیاء کا تھا۔ اس تنقید سے قطع نظر ہم صرف اس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کر رہے ہیں کہ اردو نظم نے یہ موڑ کس لیے لیا۔ میرے نزدیک کوئی بھی شخص اگر وہ روحانی سطح پر زندہ رہنا چاہتا ہے اور جیسا کہ شاعر ایسا ہوتا ہے تو وہ بغیر کسی ثقافتی اور تہذیبی طاقت کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ جب تک اس کا تعلق لوک روایت اور اس کے کرداروں سے ایک زمینی حوالے کے ساتھ نہ ہو۔ وہ خود کو اندر سے نہ عاشق بنا سکتا ہے اور نہ انقلابی۔ خاص طور پر حسیاتی سطح پر اس خوشبو کو رچانے سے ذہنی اور زمینی تجربے کا افق پھیلتا ہے اس لیے ہمارے شاعروں نے اپنے علاقائی ماحول کو اپنی حسیات میں رچانے کی کوشش کی، اس کے ساتھ ہی چھوٹے مصرعے میں تاثرات کی چھوٹی چھوٹی لہروں کو سمونے کا تجربہ بھی اپنی جگہ ایک کشش رکھتا ہے، اس لیے کافی رنگ کو اختیار کر کے شاعر نے خود کو اظہار کی سچائی کے قریب لانے کی کوشش کی۔ اس کےعلاوہ پنجاب اور سندھ کی لوک روایت کےصدیوں پرانے کرداروں کو اپنے ساتھ کرنے کا عمل بھی شخصیت میں ایسی خصوصیات پیدا کرتا ہے جن کی خواہش زندگی میں شاعر کرتے رہے ہیں۔ رانجھا، ہیر، سسی، پنوں، مرزا اور مہینوال ایسے کردار ہیں جو حالات کے جبر میں گرفتار رہے، اس لیے ان سے منسوب تمام کیفیات کے اندر ایک تہذیبی طاقت موجود ہوتی ہے، اس طاقت کو کسی بھی زمانے کے جبریہ حالات کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور شاعروں نے ایسا ہی کیا۔
میرے نزدیک آزاد نظم کی روایت اتنی لچک رکھتی ہے کہ ہر زمانے کے تجربے کو مختلف انداز سے اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیے نثری نظم اور صوفیانہ خیالات کی شکل میں آزاد نظم نے اپنی وسعت کو تلاش کیا ہے۔ آگے یہ رویے کیا رخ اختیار کرتے ہیں اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آزاد نظم اپنے امکانات سمیت ہر دور کا ساتھ دے سکتی ہے۔ اس لیے اس موڑ کا خیر مقدم کیا جا سکتا ہے۔