مجھ سے مت پوچھو
مجھ سے مت پوچھو کہ میں کیوں نہیں بولا جب میرے سامنے تاریخ کے صفحے پھاڑ کر اخبار کے صفحے لگائے گئے جب چشم دید گواہ کو چپ کرایا گیا جب شاعری کو اوباش بوڑھے آوارہ لڑکی سمجھ کر اندھے کنویں کے پاس لے گئے جب فنونِ لطیفہ کے چہرے پر گندے ٹماٹر پھینکے گئے جب موسیقی کے سُروں میں آنسو گیس ملائی گئی جب بھید بھرے لفظوں سے سارے راز چرا لئے گئے اور ان کی جگہ سازش رکھ دی گئی مجھ سے مت پوچھو میں کیوں نہیں بولا جب درختوں سے پرندے اڑا دیئے گئے جب عورت کے دل سے محبت اور بچوں کی ہتھیلی سے قسمت کو ڈرا دیا گیا جب باغیوں کے شبہے میں ہرے بھرے جنگل کو آگ لگا دی گئی جب دنیا بھر کے آنسو ایک مختصر سے جلوس کی آنکھوں میں ڈال دیئے گئے مجھ سے مت پوچھو میں کیوں نہیں بولا جب ایک جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے ہم سب کو ننگا کر دیا گیا جھوٹ کے لئے پردہ پھر بھی کم رہا جب رتیوں کی جھاگ میں ہمارے مستقبل کے بادبان چھپا دیئے گئے جب دریاؤں سے عشق کے سارے قصے چھین لئے گئے میں کیوں نہیں بولا مجھ سے مت پوچھو