اصغر ندیم سید

اصغر ندیم سید

ایک نظم کیا کر سکتی ہے

    اتنے بہت سے انسان اور ان کے اتنے بہت سے خواب کیسے ایک نظم میں سما سکتے ہیں بہت سی بھوک اور بہت سے سی خوراک جو ضائع ہو جاتی ہے کیسے ایک نظم میں آ سکتے ہیں اتنے بہت سے جھوٹ اور اتنے بہت سے سچ کیسے ایک نظم سنبھال سکتی ہے اتنے بہت سے خوف اور اتنی بہت سی خوشی ایک ساتھ کیسے میری نظم میں آسکتے ہیں اتنی بہت سی قرار دادیں اور اتنی بہت سی خفیہ دستاویزات کیسے ایک نظم میں چھپ سکتی ہیں اتنے بہت سے جھگڑے اور اتنی بہت سی محبتیں ایک نظم میں نہیں آ سکتیں کہ نظم تو پرندے کی اُڑان جیسی ہوتی ہے کہ نظم تو ایک قیدی کی تنہائی جیسی ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی ایک نظم اتنی طاقتور ہو جاتی ہے کہ ایک ظالم بادشاہ کے سامنے ڈٹ جاتی ہے خود نہیں مرتی اسے مار دیتی ہے