زمین کا گیت
میں جینے کے فخر میں ہوں اور سندھ کا دریا انگوروں کا رس بن جائے جب میں خشک زباں سے اُس کا نام پکاروں اس کی لہریں تہذیبوں کے جلال سے اُبھریں پانی عمروں والا پانی چھو جاتا ہے میری روح کے بجرے سے میں جینے کے فخر میں ہوں اور نیلی بار کی شام کپاس کی شال میں چھپ کر مجھے بلائے مجھے دکھائے اپنی کپاس کے ننھے منے دودھیا چُوزے نیلی بار کی گائیں قبل مسیح کے سندھی بیل سے اپنا دودھ اُتاریں اور ہمارے رخساروں سے روشنی اُترے میں جینے کے فخر میں ہوں اور الغوزے کی دُھن میں اجرک پہننے والی لڑکیاں اپنے تاریخی اسرار میں ڈوبی ایک عمارت بن جاتی ہیں یا پھر مورتی جیسا کوئی بھید لپک جاتا ہے اُن کے جسموں پر یہ لڑکیاں اپنی عمروں کے خوشوں سے دانہ دانہ باہر آتی جائیں جس گھر جائیں دھوپ بنیں یا بارش بن کر ہنستی جائیں میں جینے کے فخر میں ہوں اور لڑکا میری نقل اُتارے کھیلتا جائے ڈاکیہ خط کی خوشبو سونگھ کے پیسے مانگے بُڑھیا اَن ہونی سی کئی دعائیں مانگے شہری میرے واسطے رستہ چھوڑ کے اپنی یاد میں کھوئیں میں جینے کے فخر میں ہوں اور سندھ کا دریا انگوروں کا رس بن جائے