کسی نے مجھے نہیں بتایا
جو پھول میرے لیے نہیں تھا میں نے اُس کا خواب کیوں دیکھا جو عورت میرے لیے نہیں تھی میں نے اُس کو حقیقت میں کیوں دیکھا جو معاشرہ میرے لیے نہیں تھا میں نے اُس کی خواہش کیوں کی جو چراغ میرے لیے نہیں تھا میں نے اسے اپنے دل میں کیوں جلایا جو موسم میرے لیے نہیں تھا میں اُس کی خوشبو کے پیچھے کیوں بھاگا جو دروازہ میرے لیے نہیں تھا میں نے اُس کے کھُلنے کا انتظار کیوں کیا جو پھل میرے لیے نہیں تھا میں اُس درخت کے نیچے کیوں بیٹھ گیا جو بادشاہ میرے لیے نہیں تھا میں کیوں اُس کے احترام میں بارش میں بھیگتا رہا جو حکومت میرے لیے نہیں تھی میں کیوں اس کی رعایا میں شمار ہوا جو کشتی میرے لیے نہیں تھی میں کیوں اس کے لیے پانی میں اُترا جو صحرا میرے لیے نہیں تھا میں نے کیوں اس کی ریت میں اپنا آنسو بویا جو زمین میرے لیے نہیں تھی میں نے کیوں اُس پر پاؤں بھر جگہ تلاش کی جو آسمان میرے لیے نہیں تھا میں نے کیوں اُس پر بادل کی دعا مانگی یہ سب کیوں ہوا کسی نے مجھے نہیں بتایا اور میں مارا گیا اُس ہرن کی طرح جو اندھیرے میں تیر کھا کے گرتا ہے اور شکاری بھی اُس کو تلاش نہیں کر پاتے خون کی ایک لمبی لکیر جنگلی گھاس کے درمیان چمکتی رہتی ہے