فاطمہ حسن

فاطمہ حسن

اس دھرتی پر

    جس دھرتی پر ہم پھول کھلائیں جس دھرتی پر ہم پیڑ اُگائیں اس دھرتی کے ہر پھول کی خوشبو پیڑ رنگ اس دھرتی کے ہر باسی کے خوابوں کا ہم رنگ بھی ہو اس پیڑ تلے جو بچے کھیلیں اس کھیل کا اپنا ڈھنگ بھی ہو آزاد فضا میں پیڑ بڑھیں آزاد وطن میں پھول کھلیں